SHAWORDS
Masood Ahmad

Masood Ahmad

Masood Ahmad

Masood Ahmad

poet
31Ghazal

Ghazalغزل

See all 31
غزل · Ghazal

پہلے سا رنگ روپ تمہارا نہیں رہا دنیا میں اور کچھ بھی ہمارا نہیں رہا ایسے نکل گیا ہے حدود و قیود سے دریا کے آر پار کنارا نہیں رہا تجھ سے بچھڑ کے دل کا وہ نقصان ہو گیا اب تو کوئی خسارہ خسارہ نہیں رہا چاروں طرف ہے سرخ اشاروں کا جمگھٹا رستے میں کوئی سبز اشارہ نہیں رہا وہ سب کے سب فلک نے ہیں اوپر اٹھا لیے زیر زمین کوئی ستارہ نہیں رہا آدھا گنوا کے آپ کی چیخ و پکار ہے لیکن ہمارے پاس تو سارا نہیں رہا کتنا پڑا ہے فرق مری ماں کی موت سے اب میں کسی کی آنکھ کا تارا نہیں رہا لے جا رہے ہو کیسے مرا دل نکال کر کیا میں تمہارا سارے کا سارا نہیں رہا مٹی میں جا ملا ہے سکندر بھی جیت کر ایسا نہیں کہ ہار کے دارا نہیں رہا یخ بستہ پانیوں کی طرح جم کے رہ گیا جب سے لہو میں کوئی شرارہ نہیں رہا کچھ اور سرپھروں کو بھی وحشت نے آ لیا مجنوں کا دشت پر وہ اجارہ نہیں رہا مسعودؔ اپنے پاؤں پر ہم کیا کھڑے ہوئے بیساکھیوں کا کوئی سہارا نہیں رہا

pahle saa rang-rup tumhaaraa nahin rahaa

3 views

غزل · Ghazal

مرے وجود سے فارغ کیا گیا مجھ کو پھر اعتماد میں کیسے لیا گیا مجھ کو میں اس فصیل سے باہر نکل تو آتا مگر مری زبان کے اندر سیا گیا مجھ کو پھر اس سے کیسے جلاتا میں کوئی اور چراغ دیا جلا کے ہوا میں دیا گیا مجھ کو تبھی تو اس نے مجھے مارنے کی کوشش کی میں مر گیا تو مزے سے جیا گیا مجھ کو پھر ایک دشت نمودار ہو گیا مجھ میں میں ایک دریا تھا کیسے پیا گیا مجھ کو میں اپنے قد سے بڑا ہونا چاہتا تھا مگر مرے وجود سے چھوٹا کیا گیا مجھ کو کوئی بھی چاند چڑھایا نہیں گیا مجھ سے اگرچہ ہاتھ میں سورج دیا گیا مجھ کو

mire vajud se faarigh kiyaa gayaa mujh ko

2 views

غزل · Ghazal

یہ بار بار کا بہتان ہم پہ جھوٹا ہے ہمارا دل تو فقط ایک بار ٹوٹا ہے وہ سنگلاخ چٹانیں ہمارے اندر ہیں ہماری آنکھ کا چشمہ وہیں سے پھوٹا ہے خوشی غمی میں برابر شریک ہوتے ہیں چمن کے حال سے واقف ہر ایک بوٹا ہے گلہ گزار ہوں میں دشمنوں سے اس لیے بھی مجھے ہمیشہ مرے دوستوں نے لوٹا ہے وہ جیسے مچھلی نکلتی ہے آ کے کانٹے سے ہمارے ہاتھ سے دامن قضا کا چھوٹا ہے ملے ہیں کتنے ہی قد کاٹھ والے لوگوں سے جسے بھی دیکھیے اندر سے وہ زکوٹا ہے لگے گی دیر تناور درخت بننے میں ابھی تو ہجر یہ پروان چڑھتا بوٹا ہے کہیں دراڑ وہ غم کا پہاڑ ٹوٹنے کی زمین ٹوٹی ہے نہ آسمان ٹوٹا ہے

ye baar baar kaa bohtaan ham pe jhuTaa hai

1 views

غزل · Ghazal

جی رہا ہوں ابھی تدفین سے روکا جائے زندگی کو مری توہین سے روکا جائے عقل نے دی ہے دہائی کہ بہر طور مجھے دل کی ہر بات پے آمین سے روکا جائے سولہ سنگھار اداسی نے کیے ہیں پھر سے اس کو آرائش و تزئین سے روکا جائے یہ کتابیں تو محبت کا سبق دیتی ہیں ان کو نفرت کے مضامین سے روکا جائے راستے بند کیے جاتا ہے دیوانوں پر دشت کو ایسے قوانین سے روکا جائے گریہ یہ گریۂ یعقوب سے بھی آگے کا اب ہمیں صبر کی تلقین سے روکا جائے ڈھال کی کوئی ضرورت نہیں مسعودؔ اگر وار کو سورۂ یٰسین سے روکا جائے

ji rahaa huun abhi tadfin se rokaa jaae

1 views

غزل · Ghazal

لذت زخم سے تسکین ہوا کرتی ہے عشق میں کونسی توہین ہوا کرتی ہے اس محبت کی کچہری میں تو پہلے دن سے دل کی ہر بات پہ آمین ہوا کرتی ہے زندہ درگور کیا ہے تو بتا اتنا بھی زندہ لوگوں کی بھی تدفین ہوا کرتی ہے اک طرف تو ہے یہ حق حق سے تجاوز کرنا اک طرف صبر کی تلقین ہوا کرتی ہے زندگی ہارنے والے کی تشفی کے لیے بعد از مرگ بھی تحسین ہوا کرتی ہے وقت ناساز ہو تو ہونٹوں کی شیرینی بھی آنکھ کے پانی سے نمکین ہوا کرتی ہے ڈر نہیں لگتا کسی آگ کے دریا سے مجھے ہاتھ میں سورۂ یٰسین ہوا کرتی ہے

lazzat-e-zakhm se taskin huaa karti hai

1 views

غزل · Ghazal

موسم بہار میں درخت پیلے پڑ گئے کسی کو چوم چوم کے گلاب نیلے پڑ گئے یہ کیا ہوا کہ ہم سے کچھ مزاحمت نہ ہو سکی ہمارے ہاتھ پاؤں اپنے آپ ڈھیلے پڑ گئے مزاج میں بھی آگ تھی عجیب دوڑ بھاگ تھی تبھی تو سارے جسم کے مسام گیلے پڑ گئے مسافتوں کے دم قدم ہوا ہماری ہم قدم زمیں پہ آسمان تک بلند ٹیلے پڑ گئے ہمارے اختیار میں کہاں تھا خود کو روکنا ہوا میں ایسا کیف تھا شجر نشیلے پڑ گئے وہ اک سریلا شخص جب نکل گیا تھا شہر سے تو بے سروں کے نام بھی یہاں سریلے پڑ گئے تب اس نے میرے بانکپن کو حوصلہ نیا دیا جب اس کے پیچھے شہر کے کئی سجیلے پڑ گئے مصالحت کی کوششیں عداوتوں میں ڈھل گئیں ہمارے اس کے درمیاں کئی قبیلے پڑ گئے

mausam-e-bahaar mein darakht piile paD gae

1 views

Similar Poets