
Mayank Akbarabadi
Mayank Akbarabadi
Mayank Akbarabadi
Ghazalغزل
ishq mein kyaa khoyaa kyaa paayaa main bhi sochun tu bhi soch
عشق میں کیا کھویا کیا پایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ کیا یہ تصور ذہن میں آیا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ ہر چہرے پر چہرہ ہو تو کیسے ہم پہچانیں گے کون ہے اپنا کون پرایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ قبر میں جا کر مٹی میں مل جانے والی مٹی کو یاروں نے پھر کیوں نہلایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ تو بھی قاتل میں بھی قاتل مقتل ہم دونوں کے دل کس نے کس کا خون بہایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ پھول کھلاتا تھا جو کل تک آج وہ کانٹے بوتا ہے فرق یہ اس میں کیسے آیا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ دنیا بھی اک سرمایہ ہے عقبیٰ بھی اک سرمایہ کون سا اچھا ہے سرمایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ جب تک سورج سر پہ نہیں تھا ساتھ مینکؔ یہ چلتا تھا پاؤں تلے اب کیوں ہے سایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ
jo bhi tere qarib hai yaa-rab
جو بھی تیرے قریب ہے یا رب وہ جہاں کا حبیب ہے یا رب کوئی غمگین ہے کوئی خوش ہے اپنا اپنا نصیب ہے یا رب تو ہی ظاہر ہے تو ہی باطن ہے تیری ہستی عجیب ہے یا رب جس پہ تیری نظر نہ ہو ایسا اہل زر بھی غریب ہے یا رب تو نے قاتل بنا دیا جس کو وہی میرا طبیب ہے یا رب آج ہر شخص کے گلے میں کیوں اک نشان صلیب ہے یا رب دور نظروں سے ہے جہاں کی مینکؔ وہ جو تیرے قریب ہے یا رب
hichkiyaan le ke na ro qabr pe rone vaale
ہچکیاں لے کے نہ رو قبر پہ رونے والے جاگ جائیں نہ کہیں چین سے سونے والے ناخداؤں پہ یقیں سوچ سمجھ کر کرنا لا کے ساحل پہ ڈبوتے ہیں ڈبونے والے فصل نو تلخ نہ ہوگی تو بھلا کیا ہوگی بیج زہریلے اگر بوئیں گے بونے والے قطرہ قطرہ مرے اس خوں کی گواہی دے گا لاکھ دامن سے لہو دھو مرا دھونے والے کیا ملے گا تجھے زردار سے نفرت کے سوا پیرہن اپنا پسینے میں بھگونے والے دیکھ اے گردش دوراں نہیں ٹکرا ہم سے سر پہ تنہائی کا ہم بوجھ ہیں ڈھونے والے کرشن کی رادھا سے کہہ دو کہ زمانے میں مینکؔ اب وہ انداز کہاں شیام سلونے والے
ranj-o-gham dard-o-alam aah-o-fughaan hai zindagi
رنج و غم درد و الم آہ و فغاں ہے زندگی سیکڑوں عنوان کی اک داستاں ہے زندگی جل رہے ہیں خار و خس ان کا دھواں ہے زندگی شاخ گل پر اک سلگتا آشیاں ہے زندگی دیکھیے تو اک حباب موج دریا بھی نہیں سوچئے تو ایک بحر بیکراں ہے زندگی فرش گیتی پر فرشتوں نے بھی ہمت ہار دی وہ غم دل دوز وہ بار گراں ہے زندگی درد و کلفت سے نہ گھبرا اے مینکؔ اس دور میں صبر و استقلال کا اک امتحاں ہے زندگی
tum nahin ho saath to saaraa jahaan tanhaa lage
تم نہیں ہو ساتھ تو سارا جہاں تنہا لگے یہ زمیں تنہا لگے یہ آسماں تنہا لگے جب سے دل کو آ گیا تیرے نہ آنے کا یقیں حسرتوں کی بھیڑ میں اب یہ مکاں تنہا لگے کون جانے وحشت دل کو ہے کس کا انتظار ہیں ہزاروں پھول پھر بھی گلستاں تنہا لگے شکر ہے درد محبت راس مجھ کو آ گیا زندگی کا اب کوئی لمحہ کہاں تنہا لگے دونوں جانب ایک ہی منظر ہے فرقت میں عیاں میں فقط تنہا نہیں وہ بھی وہاں تنہا لگے اتحاد باہمی جب سے نہیں ہے اے مینکؔ کارواں کے ساتھ میر کارواں تنہا لگے
dard mein lab par aah na laanaa sab ke bas ki baat nahin
درد میں لب پر آہ نہ لانا سب کے بس کی بات نہیں ہنستے ہنستے اشک چھپانا سب کے بس کی بات نہیں ہم نے اک ظالم کو اپنا دل دے کر یہ جانا ہے پتھر سے شیشہ ٹکرانا سب کے بس کی بات نہیں شام الم پلکوں پر اپنی روشن ہیں اشکوں کے دیے یوں چاہت کا جشن منانا سب کے بس کی بات نہیں دنیا کی پرواہ نہ کر کے ہم نے پیار کیا ان سے دوش ہوا پہ دیپ جلانا سب کے بس کی بات نہیں گلشن سے گل چن کے سجانا اپنے گھر کو آساں ہے صحرا صحرا پھول کھلانا سب کے بس کی بات نہیں ہائے وہ لب خاموش کسی کے اف وہ کسی کی نیچی نظر کچھ بھی نہ کہہ کر سب کہہ جانا سب کے بس کی بات نہیں جو بھی کہا وہ کر کے دکھایا ہم نے محبت میں اے مینکؔ کہنا اور پھر کر کے دکھانا سب کے بس کی بات نہیں





