
Mazhar Husain Syed
Mazhar Husain Syed
Mazhar Husain Syed
Ghazalغزل
jis tarah baiThaa ho koi khvaab mein baiThe raho
جس طرح بیٹھا ہو کوئی خواب میں بیٹھے رہو دو گھڑی تو دیدۂ پر آب میں بیٹھے رہو میری خو ہے ندیوں کے ساتھ بہنا جھومنا تم تعفن سے بھرے تالاب میں بیٹھے رہو درد کہتا ہے کہ اٹھ تنہائیوں کی سمت چل ضبط کی ضد ہے مگر احباب میں بیٹھے رہو پار ہو جائیں گے جو تختوں سے ہیں لپٹے ہوئے تم سمٹ کر کشتیٔ نایاب میں بیٹھے رہو یہ ہوائے تند ہے مسمار کرتی ہے مگر اڑ بھی سکتے ہو اگر گرداب میں بیٹھے رہو
kisi ko jang mein yuun bhi haraanaa paDtaa hai
کسی کو جنگ میں یوں بھی ہرانا پڑتا ہے کہ خود ہی تیر پہ جا کر نشانہ پڑتا ہے تمہیں تو شہر میں بس آنا جانا پڑتا ہے ہمیں یہ رنج مسلسل اٹھانا پڑتا ہے سخن سرائی فقط شغل واہ واہ نہیں ہمیں تو ٹوٹ کے خود کو بنانا پڑتا ہے لہو میں ناچتی رہتی ہے مستقل کوئی شے اور اس کا ساتھ ہمیں بھی نبھانا پڑتا ہے کبھی وہ مجھ سے خیالوں میں روٹھ جاتا ہے پھر اس کو خواب میں جا کر منانا پڑتا ہے چھپائے رکھو گے کب تک دل و دماغ کا حال مشاعرہ ہے یہاں تو سنانا پڑتا ہے یہ عہد بد گماں قصے کہانیوں کا نہیں یہاں تو معجزہ کر کے دکھانا پڑتا ہے کسی مہیب اندھیرے کی قبر ہے شاید جہاں چراغ مسلسل جلانا پڑتا ہے پٹخ دیا گیا لا کر مجھے یہاں مظہرؔ میں کیوں یہاں ہوں مجھے خود بتانا پڑتا ہے
ye sochte hue baazaar se nikal aayaa
یہ سوچتے ہوئے بازار سے نکل آیا نہ جانے آدمی کیوں غار سے نکل آیا خبر نہیں ہے کہ پھر بادشاہ پہ کیا گزری غزل سنا کے میں دربار سے نکل آیا سبھی کھڑے تھے کھلے گا ابھی در زنداں میں جلد بازی میں دیوار سے نکل آیا خبر غلط ہے میں یہ بات کہنے والا تھا کہ اک ریوالور اخبار سے نکل آیا سخن کو نعرہ قلم کو علم بناتے ہوئے سکوت حجرۂ فن کار سے نکل آیا عجب نہیں ہے کہ بازار کو بہا لے جائے جو اشک چشم خریدار سے نکل آیا
ham jis ke khayaalaat mein itnaa nikal aae
ہم جس کے خیالات میں اتنا نکل آئے ممکن ہے کہ وہ شخص بھی تم سا نکل آئے ٹھہرو ابھی امید کے پودے کو نہ کاٹو ممکن ہے کسی شاخ سے پتا نکل آئے جب ہم نے شب ہجر میں کی زخم شماری کچھ زخم محبت کے علاوہ نکل آئے اک لمس جنوں ہو جو مرے دشت ہنر میں پتھر سے بھی اک پھول سا چہرہ نکل آئے اب تو ہی بتا کیسے بھلا تجھ کو بھلا دوں ہر شاخ پہ گر پھول بھی تجھ سا نکل آئے
badan gulaab saa mahke to aag lag jaae
بدن گلاب سا مہکے تو آگ لگ جائے سو تو کہیں سے بھی گزرے تو آگ لگ جائے زمین چپ ہے مگر کھولتی ہے اندر سے وہ ایک لفظ بھی بولے تو آگ لگ جائے عجب مزاج کا آتش پرست ہوں میں بھی کوئی جو آگ کو پوجے تو آگ لگ جائے میں جی رہا ہوں فقط اس کی بے رخی کے طفیل وہ آنکھ بھر کے جو دیکھے تو آگ لگ جائے میں ایسے رخ پہ ہوں سورج کے سامنے کہ اگر ذرا سا زاویہ بدلے تو آگ لگ جائے ہمارے لفظ ہیں ماچس کی تیلیاں مظہرؔ کوئی دماغ سے رگڑے تو آگ لگ جائے
ek be-naam jazire ke makin hain ham log
ایک بے نام جزیرے کے مکیں ہیں ہم لوگ ایسے موجود ہیں جیسے کہ نہیں ہیں ہم لوگ ہم کو تہذیب و تمدن میں کہاں ڈھونڈتے ہو عہد وحشت ہے میاں جس کے قریں ہیں ہم لوگ پر یہ ترتیب ذرا رد و بدل چاہتی ہے آسماں تم ہو ابھی اور زمیں ہیں ہم لوگ دین اگر ظلمت و وحشت ہے تو ہم مانتے ہیں صاحب دین ہو تم دشمن دیں ہیں ہم لوگ بس یہی حق کی گواہی کے لیے کافی ہے جس جگہ تیرا نشانہ ہے وہیں ہیں ہم لوگ





