SHAWORDS
Meena Bhatt

Meena Bhatt

Meena Bhatt

Meena Bhatt

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

تمہارا دل جو چرا لے وہ سین تھوڑی ہے غزل ہماری یہ تازہ ترین تھوڑی ہے اٹھائیں کیسے ترے ناز یہ بھی بتلا دے ہمارے دل میں فقط تو مکین تھوڑی ہے کہاں تلک نہ لگے اس کو بد نظر سب کی ہمارے جیسا وہ پردا نشین تھوڑی ہے وہ ہم کو جان سے زائد عزیز ہے لیکن ہماری بات کا اس کو یقین تھوڑی ہے سمجھ سکے جو برائی بھلائی کو جگ کی نظر کسی کی بھی اتنی مہین تھوڑی ہے اسے بھی پڑتی ہے آرام کی یہاں حاجت حضور ماں ہے وہ کوئی مشین تھوڑی ہے ملے جو داد ہمیں آپ سے کبھی میناؔ ہماری شاعری اتنی ذہین تھوڑی ہے

tumhaaraa dil jo churaa le vo scene thoDi hai

غزل · Ghazal

جو لٹ چکا ہے اب وہ سمان ڈھونڈھتی ہے ننھی کلی چمن میں مسکان ڈھونڈھتی ہے کانٹوں کے واسطے وہ گلدان ڈھونڈھتی ہے نادان ہے جہاں میں انسان ڈھونڈھتی ہے بے بس ہے زندگی اور گردش میں بھی ستارے اب موت کا وہ اپنے پروان ڈھونڈھتی ہے ڈھونڈھے نہیں وہ ہیرا ڈھونڈھے نہیں وہ موتی جینے کا بس جہاں میں سامان ڈھونڈھتی ہے جذبات ہی نہیں کچھ جب شاعری میں تیری میناؔ کلام میں کیا ارکان ڈھونڈھتی ہے

jo luT chukaa hai ab vo sammaan DhunDhti hai

غزل · Ghazal

ضرورت نینو کی ہوتی ہے در سے بام سے پہلے محبت روح کرتی ہے سدا اجسام سے پہلے مکمل ہو یہ چاہت بھی نہ ہو کہرام بھی کوئی خدا ہم کو ملے منزل یہاں ایام سے پہلے دیار غیر میں ہم کو ستاتی یاد ماضی کی تڑپتا دل مرا کنج قفس میں شام سے پہلے نہ کانٹوں کی حکومت ہو نہ خنجر ہو کسی کے ہاتھ تمنا ہے نظارا ہو یہی انجام سے پہلے تراشا تھا رباعی کو بہت لوگوں نے پہلے بھی نہ تھی اس میں کبھی زینت مگر خیام سے پہلے نکل کر جب چلی وہ تو اسے ماں نے ہدایت دی کہ واپس لوٹنا بیٹی تو گھر پر شام سے پہلے ہوں نسل میرؔ سے مجھ کو سخن کے ہیں ادب معلوم سدا لوں نام غالبؔ کا کسی بھی نام سے پہلے دھڑکتا دل ہمارا ہے نہ قاصد اب تلک آیا محبت مٹ نہ جائے یہ ترے پیغام سے پہلے مجھے دشمن نہ سمجھو تم میں سچا دوست ہوں میناؔ ذرا کچھ پوچھ تو لیتے خیال خام سے پہلے

zarurat niinv ki hoti hai dar se baam se pahle

غزل · Ghazal

راہ الفت سے پریشان کدھر جاتا ہے اپنی منزل سے بھی انجان کدھر جاتا ہے جھوٹ سے ہار کے نادان کدھر جاتا ہے مار کے اپنا تو ایمان کدھر جاتا ہے بک رہا ہوں سر بازار تری شرطوں پر دے کے مجھ کو تو یہ نقصان کدھر جاتا ہے تیری یادوں کا اٹھا تھا جو مرے سینہ سے دیکھنا ہے کہ وہ طوفان کدھر جاتا ہے میں اسی سوچ میں الجھی ہوں بڑی مدت سے بعد مرنے کے یہ انسان کدھر جاتا ہے میکدہ بھی ہے تیرا گھر بھی صنم خانے بھی آزمانا ہے کہ اب دھیان کدھر جاتا ہے نیکیاں چھوڑ کے جس نے جو کمایا میناؔ دیکھیے لے کے وہ سامان کدھر جاتا ہے

raah-e-ulfat se pareshaan kidhar jaataa hai

غزل · Ghazal

محبت میں ملا مجھ کو ہمیشہ غم کا نذرانہ کہیں کیا غم ہی دیتا ہے مرے ہمدم کا نذرانہ چھنٹی جو تیرگی آئی سحر قدرت بھی مسکائی دیا ہے بھور نے ہر پھول کو شبنم کا نذرانہ بہاروں کے کہاں دن ہیں ہماری زندگی میں اب ہمیں حاصل ہوا ہے درد کے موسم کا نذرانہ ہماری ہر غزل میں نور پھیلا ہے تمہارا ہی خوشی کا یا کہو اس کو غم پرنم کا نذرانہ کسی سے پوچھ کر دیکھو یہی میناؔ کہے گا وہ ہمیشہ بانٹتے رہتے ہیں ہم مرہم کا نذرانہ

mohabbat mein milaa mujh ko hamesha gham kaa nazraana

غزل · Ghazal

عاشقوں کی بھیڑ میں بھی صاف پہچانے گئے شمع جب روشن ہوئی مرنے کو پروانے گئے شودھ کرنے کے لیے جب لوگ پہنچے چاند پر ہم بھی منگل تک ترنگا یار لہرانے گئے عشق میں اس حوصلے کی داد ہم کو آپ دیں جب انہوں نے چاند مانگا آسماں لانے گئے یوں شہیدوں والا جذبہ بھی ہمارے دل میں تھا وقت جب آیا خود اپنا شیش کٹوانے گئے خواب ہم نے یوں تو دیکھے آسماں سے بھی بڑے پر ہمیشہ ہی زمیں کے نام سے جانے گئے دل سے اپنے تھا وہ مفلس ہم سمجھ پائے نہیں خود تماشہ ہی بنے جو ہاتھ پھیلانے گئے عشق میں ناکام ہونا ہی فقط تقدیر تھی ہم جہاں پہنچے ہمارے ساتھ ویرانے گئے درد ہے میناؔ ملا ایسا دوا جس کی نہیں ڈھونڈھنے پھر بھی دوا ہم روز میخانے گئے

aashiqon ki bhiiD mein bhi saaf pahchaane gae

Similar Poets