SHAWORDS
Meer Aakif Siddiqui

Meer Aakif Siddiqui

Meer Aakif Siddiqui

Meer Aakif Siddiqui

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

lagtaa to nahin mere vafaadaar banoge

لگتا تو نہیں میرے وفادار بنوگے یہ طے ہے مگر اچھے اداکار بنوگے غدار تھا اک یار اسے مار دیا تھا پھر سوچ کے بتلاؤ مرے یار بنوگے مجبور کہیں گے یا سمجھ لیں گے خوشامد اس دور میں جس کے بھی مددگار بنوگے پھر کون سمجھ پائے گا دنیا میں محبت دولت کے اگر تم بھی طلب گار بنوگے بچپن سے ہی مکار ہو چالاک غضب کے لگتا ہے بڑے ہوتے ہی سردار بنوگے حساس طبیعت تھی مری اس لیے اک دن دادا نے کہا تھا کہ قلم کار بنوگے

غزل · Ghazal

udaas chehra malul aankhein chhupaa rahe hain

اداس چہرہ ملول آنکھیں چھپا رہے ہیں چراغ پھر سے نہ جل پڑیں سو بجھا رہے ہیں کئی دنوں سے ہماری ہچکی نہیں رکی سو کئی دنوں سے تمہارا نمبر ملا رہے ہیں عجیب عورت ہے آٹھ بچے بغل میں لے کر یہ کہہ رہی ہے کہ پیار کب تھا نبھا رہے ہیں تمہارے جیسے کو راز دینے لگے ہیں یعنی ہم ایک پاگل کے ہاتھ پسٹل تھما رہے ہیں جدید بچوں کو عشق کیسے سمجھ میں آئے جدید بچوں کو ہیر رانجھا پڑھا رہے ہیں

غزل · Ghazal

hamaaraa jhagDaa jo har kisi ke hi dhyaan tak hai

ہمارا جھگڑا جو ہر کسی کے ہی دھیان تک ہے مجھے لگا تھا ترے مرے درمیان تک ہے اسے بھلانے کی کوششوں میں لگا ہوا ہوں جو شخص مجھ پہ عیاں نہیں ہے گمان تک ہے مری برائی جو کر رہے ہیں انہیں بتاؤ میں دل کا اچھا ہوں ساری تلخی زبان تک ہے میں نیند سے کس طرح لڑوں گا پتا نہیں ہے مگر ترا انتظار پہلی اذان تک ہے میں مانتا ہوں تمام گاؤں چمک رہا ہے مگر وہ اک روشنی جو تیرے مکان تک ہے معاف کرنا مری روایت ہے ورنہ تم بھی یہ جانتے ہو مری رسائی کمان تک ہے میں اس کے کہنے پہ دائرے میں کھڑا ہوا ہوں سبھی کو لگتا ہے میری منزل نشان تک ہے

غزل · Ghazal

kisi bashar ki dubaara chaahat nahin karungaa mu'aaf kar de

کسی بشر کی دوبارہ چاہت نہیں کروں گا معاف کر دے اے رب کعبہ میں اب محبت نہیں کروں گا معاف کر دے مذاق کرتے ہوئے مصیبت میں پھنس گیا ہوں نکال مجھ کو مجھے قسم ہے میں پھر شرارت نہیں کروں گا معاف کر دے میں تیرے یاروں میں بغض حیدر پرکھ رہا ہوں کئی دنوں سے میں تیرے یاروں کی یار عزت نہیں کروں گا معاف کر دے میں نیکی کر کے بھی دوستوں کو برا لگا تھا سو ٹھان لی اب کہ صلح کرنے کی کوئی زحمت نہیں کروں گا معاف کر دے

غزل · Ghazal

namaaziyon ke liye vo paani kaa ThanDaa cōler banaa rahaa thaa

نمازیوں کے لیے وہ پانی کا ٹھنڈا کولر بنا رہا تھا گلاس زنجیر سے حفاظت کا سوچ کر وہ لگا رہا تھا کسی نے پوچھا یہ تو بتاؤ کہاں سے ہو تم ہے کیا تعارف فلاں ہے چاچو فلاں ہے شجرہ اور اک پلازہ دکھا رہا تھا سڑک پہ سگنل کے سبز ہوتے ہی ہوش آیا کہ بھیڑ ہے یاں شریف زادہ وگرنہ لڑکی کو اپنی آنکھوں سے کھا رہا تھا گھڑی کی جانب اشارہ کر کے کہا کہ بارہ بجے ہے آتا واں ایک پاگل تھا سوئیوں کو گھما کے بارہ بجا رہا تھا وہ چاہتا تھا نشے کے عادی جوان بیٹے سے جان چھوٹے مگر وہ مجبور گمشدہ ہے کہ پوسٹر بھی لگا رہا تھا

غزل · Ghazal

vo shakhs jis ne tumhaaraa chehra banaa diyaa hai

وہ شخص جس نے تمہارا چہرہ بنا دیا ہے اسے بتاؤ کہ اس نے کیا کیا بنا دیا ہے ہماری بستی میں ہجر پلتا رہا ہے برسوں اسی نے ساروں کو میرے جیسا بنا دیا ہے سوال پرچے میں آ گیا تھا حدود دنیا جواب میں اس کے گھر کا نقشہ بنا دیا ہے میں روٹھ جاتا ہوں اس لیے بھی کہ تو منائے تری محبت نے مجھ کو بچہ بنا دیا ہے اداسی جاتے ہی چھوڑ جاتے ہیں لوگ مجھ کو مری مروت نے مجھ کو نشہ بنا دیا ہے

Similar Poets