SHAWORDS
Mehmood Rashid

Mehmood Rashid

Mehmood Rashid

Mehmood Rashid

poet
1Shayari
24Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 24
غزل · Ghazal

پرانے چاند نئی دھوپ کی زبان میں ہے مرا قصیدہ ترے جنگلوں کی شان میں ہے ندی ہوں گرچہ پہاڑوں میں گنگناتی ہوئی مرا شمار سمندر کے خاندان میں ہے فضا میں اس کے علاوہ کوئی پرندہ نہیں جسے اڑایا تھا میں نے وہی اڑان میں ہے بس ایک اجڑا ہوا گھونسلہ ہے اور میں ہوں گزرتے وقت کی سسکی بھی اس مکان میں ہے مسافتوں میں کوئی دکھ نہیں تو میرے عزیز نکل کے دھوپ میں دیکھے جو سائبان میں ہے تری بہشت کی رنگینیاں کمال مگر زمیں کا حسن بھی کیا تیری داستان میں ہے ہجوم شہر سے نکلے تو انکشاف ہوا کشش جنوں کے لئے دشت کی اذان میں ہے ابھی ہے ہاتھ مرا تیشۂ تخیل پر میں سوچتا ہوں جسے وہ ابھی چٹان میں ہے

puraane chaand nai dhuup ki zabaan mein hai

غزل · Ghazal

شام اتری تو سبک ساز میں کھویا ہوا تھا ایک جنگل کسی آواز میں کھویا ہوا تھا گہرا سناٹا تھا برگد کے گھنے سائے میں ایک شہزادہ کسی راز میں کھویا ہوا تھا سانپ آرام سے بیٹھا تھا ہری ڈالی پر اور پرندہ کہیں پرواز میں کھویا ہوا تھا وار کلہاڑی سے کرتا تھا شجر پر کوئی اور شجر وار کے انداز میں کھویا ہوا تھا جسم سے برف پگھلتی رہی راشدؔ اور میں اجنبی دھوپ کے اعجاز میں کھویا ہوا تھا

shaam utri to subuk-saaz mein khoyaa huaa thaa

غزل · Ghazal

مکیں نہیں تھے کہیں بھی لیکن نشان اونچے پہاڑ پر تھے وہ لوگ جانے کہاں تھے جن کے مکان اونچے پہاڑ پر تھے سفید کرنیں دمک رہی تھیں سریلے جھرنوں کے پانیوں پر نشیلے موسم میں دف بجاتے جوان اونچے پہاڑ پر تھے قدیم لوگوں کی داستاں ہر چٹان مجھ کو سنا رہی تھی پرانی راہوں میں کچھ فسردہ جہان اونچے پہاڑ پر تھے کسی پرندے تلک رسائی نہیں تھی میری فغاں کی شاید میں پستیوں میں تھا اور مرے ہم زبان اونچے پہاڑ پر تھے بدل گئی تھی فضا مگر دل اسی تخیل کی قید میں تھا وہی توہم تھے شہر میں جو گمان اونچے پہاڑ پر تھے تمام دنیا یہ کہہ رہی تھی انہیں افق سے لگن تھی راشدؔ کسی پری کے سراغ میں جو ہر آن اونچے پہاڑ پر تھے

makin nahin the kahin bhi lekin nishaan unche pahaaD par the

غزل · Ghazal

فسردہ آشیانے میں پرندے چہچہانے سے شجر کا رنگ بدلا تھا ہوا کے سرسرانے سے وہ لمحہ شام کا تھا اور افق کے نیلے آنگن میں شفق جلنے لگی خورشید کی مشعل بجھانے سے دمکتے جگنوؤں کے رقص سے معلوم ہوتا ہے زمیں خوشحال رہتی ہے نئے پودے لگانے سے وہ موتی دیکھ کر جس کو زمانہ دنگ رہ جائے کبھی میں ڈھونڈ لاؤں گا سمندر کے خزانے سے گھنا سناٹا چھایا تھا مرے خوابوں کے جنگل میں طلسم خامشی ٹوٹا کسی کے گنگنانے سے برہنہ پیڑ کو شاید سکوت ہجر میں راشدؔ بہار آواز دیتی تھی خزاں کے شامیانے سے

fasurda aashiyaane mein parinde chahchahaane se

غزل · Ghazal

آہنی چٹانوں میں گونجتی صداؤں کا کون روک سکتا ہے راستہ ہواؤں کا اس نے بال کھولے تھے سبز راہداری میں قافلہ فلک پر تھا سرمئی گھٹاؤں کا شہر میں کہاں کوئی دیکھتا ہے مڑ مڑ کے بعد میں خیال آیا آدمی تھا گاؤں کا پھول رکھتا جاتا ہوں راستے کے سینے پر اک نشان دیکھا تھا میں نے اس کے پاؤں کا کون غور کرتا ہے چاندنی کی ٹھنڈک میں دھوپ میں خیال آیا پیپلوں کی چھاؤں کا

aahani chaTaanon mein gunjti sadaaon ka

غزل · Ghazal

ہر ایک شاخ شجر کی طرف لپکتا ہوا ہوا کا جھونکا ادھر آیا تھا بھٹکتا ہوا کہیں پہ بیل تھی دیوار سے ہمکتی ہوئی کسی دریچے میں اک پھول تھا چمکتا ہوا بچھی تھی برف کہیں دور کوہساروں پر اور اک الاؤ تھا تصویر میں بھڑکتا ہوا کھلی تھی رات کی رانی کسی حویلی میں گزر رہا تھا گلی سے کوئی مہکتا ہوا میں لکھ رہا تھا غزل پیڑ کی ہتھیلی پر پرندہ لوٹ کے آیا تھا جب چہکتا ہوا کسی پہاڑ پہ دیکھا تھا سیر کرتے ہوئے وہ لال پھول ہری گھاس میں مہکتا ہوا چراغ رکھا تھا راشدؔ کھلے دریچے میں اور ایک سایہ تھا دیوار پر سرکتا ہوا

har ek shaakh-e-shajar ki taraf lapaktaa huaa

Similar Poets