SHAWORDS
Minakshi Masoom

Minakshi Masoom

Minakshi Masoom

Minakshi Masoom

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

بہت ہی خوش ہے زمانہ مرا برا کر کے میں تھک گئی ہوں زمانے سے اب وفا کر کے مجھے پسند نہیں زندگی قفس تیرا ذرا سی بخش مجھے راحتیں رہا کر کے مجھے نصیب سے اک دوست ہے ملا ایسا غموں کو ختم کرے ہے گلے لگا کر کے ابھی یقین کی شاخیں بہت ہی نازک ہیں نہ پھول توڑو صنم ڈالیاں جھکا کر کے مری نہ پیاس بجھی خواب میں ملا مجھ کو سراب سونپ گیا وہ نظر چرا کر کے

bahut hi khush hai zamaana miraa buraa kar ke

غزل · Ghazal

دل کا سکہ کہیں چلا ہی نہیں کھوٹ کیا تھا مجھے پتہ ہی نہیں بس لکیریں ہی کھینچ دی میں نے پیار تصویر میں بھرا ہی نہیں ناخدا ہو گیا خفا مجھ سے تو کنارا مجھے ملا ہی نہیں بات کرنی تھی دل کو تجھ سے مگر تو نے سینے پہ سر رکھا ہی نہیں ذہن میں بس گیا قفس جس کے وہ پرندہ کبھی اڑا ہی نہیں

dil kaa sikka kahin chalaa hi nahin

غزل · Ghazal

کمی کو اس کی مری رفتگی نے کاٹ دیا پہاڑ غم کا یہ بادہ کشی نے کاٹ دیا گھنا درخت محبت کا صحن میں تھا مرے مگر وہ جس نے لگایا اسی نے کاٹ دیا بچھڑ کے اس سے سفر زندگی کا تھا مشکل یہ راستہ مری آوارگی نے کاٹ دیا اسے میں اپنی طرف کھینچنے ہی والی تھی تبھی پتنگ کا مانجھا کسی نے کاٹ دیا

kami ko us ki miri raftagi ne kaaT diyaa

غزل · Ghazal

تا قیامت عشق کی جادوگری جاری رہے ان نگاہوں کو مری صورت سدا بھاتی رہے پھول کی آغوش میں مدہوش جب تتلی رہے پھول چاہے وقت کے باہم ہوا دھیمی رہے زندگی بھر پاس اس کے میں رہوں کچھ اس طرح جس طرح سے اک ہرن کے پاس کستوری رہے جسم پر پوشاک سادہ میں پہن لوں گی مگر شال پر اس کے مرے ہاتھوں کی گلکاری رہے اس کے بن بھاری لگے دن کی گزرتی ہر گھڑی اور تنہا رات میری جان کی بیری رہے ہائے پورے چاند کی یہ رات کیوں اس کے بنا چاندنی تن من جلانے کے لیے ہنستی رہے یہ محبت سے بھری اس کی نظر مجھ پر سدا رات میں شبنم سی دن میں دھوپ سی بکھری رہے بند کمرے میں کھلی ہیں چٹھیاں محبوب کی کھڑکیوں سے موسم گل ٹوہ لیتا ہی رہے

taa-qayaamat 'ishq ki jaadu-gari jaari rahe

غزل · Ghazal

عداوت ہاتھ کے پتھر کو شیشے سے نبھانی ہے مرے ہی عکس کو مجھ سے ذرا سی بد گمانی ہے گزاری حادثے کے ساتھ میں نے زندگی پوری بری اک یاد میرے ذہن سے مجھ کو مٹانی ہے مرے سچ بولنے سے سب کے سب ہوں گے خفا یعنی مجھے ناراضگی خاموش رہ کر ہی جتانی ہے ہواؤں کی شرارت دیکھ لے اب غور سے تو بھی انہیں بس پھول پر بیٹھی ہوئی تتلی اڑانی ہے تری تصویر اپنے ہاتھ سے میں نے بنائی جو مجھے وہ رات دن ہر روز سینہ سے لگانی ہے ندی چاہت بھری جو کوہساروں سے لگی بہنے اسے تو تشنگی کھارے سمندر کی بجھانی ہے

'adaavat haath ke patthar ko shishe se nibhaani hai

غزل · Ghazal

تم نے جو انسان ہو کر بات انسانی نہیں کی کر تو سکتے تھے کوئی حرکت جو شیطانی نہیں کی کیوں ہمیں بنیاد ہونے کی غلط فہمی رہی یہ کیوں ہمارے دل نے ساری عمر من مانی نہیں کی پاس کوئی جو سنانے کے لیے قصہ نہیں ہے ہو رہا افسوس یہ کیوں ہم نے نادانی نہیں کی دھوپ میں اک پیڑ کا سایا میسر ہو گیا تو بادلوں کی چھاؤں کی ہر وقت نگرانی نہیں کی جو چراغوں کی طرح جلتے رہے اس رات کو ہم تو خدا نے بھی ہوا اس روز طوفانی نہیں کی راز سارے کھل گئے ناکام دل کے تب ہمارے دل جلے کی بات پر جب ہم نے حیرانی نہیں کی ہم نے اک معصومؔ کو جب بیچتے دیکھا کھلونے پھر کبھی حرکت ہمارے دل نے بچکانی نہیں کی

tum ne jo insaan ho kar baat insaani nahin ki

Similar Poets