Misma Naaz
Misma Naaz
Misma Naaz
Ghazalغزل
اس قدر اہتمام ہو تیرا مستقل بس قیام ہو تیرا مے کشی کو میں عام کر ڈالوں شرط یہ ہے کہ جام ہو تیرا خط ملیں جو مجھے عزیزوں کے سب سے پہلا سلام ہو تیرا ہر گھڑی مجھ پہ ہو نظر تیری فیض مجھ پر ہی عام ہو تیرا
is qadar ehtimaam ho teraa
1 views
نینوں میں ترا عکس سجانے کے لیے ہے تو پیار بھری نظم سنانے کے لیے ہے جی بھر کے تجھے دیکھنا پھر دیکھتے رہنا یہ سب تو فقط سانس چلانے کے لیے ہے کس طرح سے ہم زیر ہوئے اس کے ستم سے یہ بات یہاں سب کو بتانے کے لیے ہے ہر بات پہ انکار ہے ہر بات پہ جھگڑا نازک سا مرا دل یہ جلانے کے لیے ہے
nainon mein tiraa 'aks sajaane ke liye hai
1 views
میں نے پہلو میں اسے ایسے بٹھا رکھا ہے جس طرح چاند کو بانہوں میں چھپا رکھا ہے دیکھ کے اس پہ عنایت یہ سبھی کہتے ہیں تو نے اس کو تو بڑا سر پہ چڑھا رکھا ہے دل کشی کیوں نہ نظر آئے مرے چہرے پر تاج چاہت کا مرے سر پہ سجا رکھا ہے وہ طبیعت کا ذرا ایک الگ بندہ ہے ایک دنیا سے اسے میں نے بچا رکھا ہے کیوں کر آئے گی یہ پوشاک مری سب کو پسند اس میں تو عشق کا پیوند لگا رکھا ہے نازؔ کرتا تھا مرے گھر میں جو جلنے پہ کبھی بام کا وہ بھی دیا میں نے بجھا رکھا ہے
main ne pahlu mein use aise biThaa rakkhaa hai
اس ملاقات کی وہ گھڑی یاد ہے تجھ پہ پہلی نظر جو پڑی یاد ہے اس طرف میں تھی اور اس طرف تو کھڑا پیچھے پٹری پہ گاڑی کھڑی یاد ہے تجھ سے ملنا تھا جس دن مجھے جان جاں دھوپ اس دن بہت تھی کڑی یاد ہے ایک کیفے کی کرسی پہ بیٹھی تھی میں میز پر ایک بوتل پڑی یاد ہے تو نے انگلی کی پوروں سے چومی کمر جس پہ میری تھی رنگت اڑی یاد ہے تیز رفتار سانسیں تھیں تھم سی گئیں لب سے لب کی ملی پنکھڑی یاد ہے
us mulaaqaat ki vo ghaDi yaad hai
وہ الجھے بال یوں سلجھا رہا تھا مرا دل اس ادا پر آ رہا تھا پہن رکھا تھا میں نے سرخ جوڑا مگر پھر بھی غضب وہ ڈھا رہا تھا سریلا اس قدر لہجہ تھا اس کا ہوا پر گیت لکھتا جا رہا تھا محبت کی وہ کچھ من مانیاں تھیں کہ جس پر چاند بھی شرما رہا تھا ادا کچھ خاص ہی تھی نازؔ اس میں مقابل حسن کے اترا رہا تھا
vo uljhe baal yuun suljhaa rahaa thaa
اغیار تھے جو میرے سیانے لگے مجھے آنکھوں میں بھر کے اشک دکھانے لگے مجھے مرتے تھے میری عام سی بھی گفتگو پہ جو سب کچھ غلط کہا یہ بتانے لگے مجھے مجھ سے بچھڑ کے اس نے بنائی رقیب سے اس طرز بے رخی سے ستانے لگے مجھے جو میرے ہم نشیں نے مجھے خاص کر دئے ان زخموں سے ابھرتے زمانے لگے مجھے ہر اک نے پرزہ پرزہ مرا جوڑ کر دیا پھر مل کے ساتھ آگ لگانے لگے مجھے
aghyaar the jo mere siyaane lage mujhe





