SHAWORDS
Moeen Kausar

Moeen Kausar

Moeen Kausar

Moeen Kausar

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

لگ گئی کس کی بد دعا تم کو جرم ہم نے کیا سزا تم کو خیریت جاننے کا حاصل کیا کیا رہا ہم سے واسطہ تم کو ہم غریبوں کے کام آتے رہو دے گا اس کا صلہ خدا تم کو حادثو آؤ تھوڑا دم لے لو کیسے میرا پتہ ملا تم کو ہم مقابل نہیں تھے اب کے بار چن لیا سب نے رہنما تم کو تم کہاں ہو حسین ابن علی پھر پکارے ہے کربلا تم کو سن لو دونوں طرف کی اے کوثرؔ جب بھی کرنا ہو فیصلہ تم کو

lag gai kis ki bad-du'aa tum ko

1 views

غزل · Ghazal

کیوں کر نہ اپنی جان بچائیں گپھاؤں میں تلوار جیسی کاٹ ہے بھیگی ہواؤں میں بس تم ہی رہ گئے ہو روایت کے پاسدار اتنا خلوص اب کہاں ملتا ہے گاؤں میں لوگوں کی شفقتوں میں ہے کوئی غرض ضرور لیکن غرض نہیں کوئی ماں کی دعاؤں میں شاید تمہاری قابلیت داد لے سکے تعلیم یافتہ ہیں بہت میرے گاؤں میں جی چاہتا ہے کاٹ دوں سانسوں کا یہ رسن لیکن پڑی ہے فرض کی زنجیر پاؤں میں کوثرؔ صلائے فکر ہے ہر فرد کے لیے کیوں آج آفتاب ہے کالی گھٹاؤں میں

kyunkar na apni jaan bachaaein guphaaon mein

غزل · Ghazal

بہت سکوں ہے قناعت کی زندگی سے مجھے قبول کر لیا جو مل گیا خوشی سے مجھے وہ آدمی جسے سمجھا تھا میں نے ابر کرم سلگتا چھوڑ گیا وہ بھی خامشی سے مجھے لباس میں بھی پہن لیتا اجنبیت کا اگر یہ جانتا ملنا ہے اجنبی سے مجھے مجھے یہ فکر ادھوری ہے اس کی ذات مگر اسے یہ ضد کہ مکمل کہو ابھی سے مجھے وقار تھا مری باتوں میں اس لیے بچو مرے بزرگ بھی سنتے تھے خاموشی سے مجھے میں دشمنوں سے تو بچ کر نکل ہی جاؤں گا ہے خوف اپنے ہی اندر کے آدمی سے مجھے حریف کون تھا یہ کیسی جنگ تھی تا عمر کہ جس میں ہار ہی جانا پڑا کسی سے مجھے جسے پسند نہ تھی میری شخصیت کوثرؔ وہ دیکھتا رہا احساس کمتری سے مجھے

bahut sukun hai qanaa'at ki zindagi se mujhe

غزل · Ghazal

ایسے ہر شخص سے ناراض خدا رہتا ہے جو اذاں سن کے بھی بستر پہ پڑا رہتا ہے کیا تمہیں اس کی عداوت کا پتہ رہتا ہے یہ جو دریا ہے سمندر سے ملا رہتا ہے لے چکا جو مجھے لینا تھا زمیں سے اب تو آسماں تیری طرف دھیان لگا رہتا ہے آپ بیتی تو بیاں کرتا ہوں اپنی لیکن رنگ کیوں آپ کے چہرے کا اڑا رہتا ہے چشم درویش میں روشن ہے بصیرت کا چراغ غیب کی بات کا بھی ان کو پتا رہتا ہے سیکڑوں اس کی وکالت کو وکیل آتے ہیں میرے ہم راہ فقط میرا خدا رہتا ہے کون ہے جو غم دوراں سے بچاتا ہے مجھے کس کا چہرہ مری آنکھوں میں بسا رہتا ہے جھوٹ کی پشت پہ ملتا ہے خزانے کا وجود پھر بھی کوثرؔ ہے کہ سچوں میں سٹا رہتا ہے

aise har shakhs se naaraaz khudaa rahtaa hai

غزل · Ghazal

اپنا نہیں آتا ہے پرایا نہیں آتا غربت میں کوئی پوچھنے والا نہیں آتا پڑھنا نہیں آتا جسے لکھنا نہیں آتا اس شخص کی قسمت میں اجالا نہیں آتا دیتے ہیں لہو اپنے وطن کے لیے ہم بھی تاریخ میں کیوں نام ہمارا نہیں آتا فاتح ہی نہیں فاتح اعظم اسے کہیے جس شخص کو بھولے سے بھی غصہ نہیں آتا ڈر جاتے ہو سنسار کے ہر سود و زیاں سے اور خوف کبھی دل میں خدا کا نہیں آتا امید لگا بیٹھے ہیں اس ابر سے ہم لوگ جس کو کہ کبھی کھل کے برسنا نہیں آتا ہم مشرب و ہم پلہ کئی ہوتے ہیں ہمراہ غم آتا ہے جس گھر میں اکیلا نہیں آتا تحریک سے جڑ جائیے پھر دیکھیے کوثرؔ تحریک سے جڑنے پہ بڑھاپا نہیں آتا

apnaa nahin aataa hai paraayaa nahin aataa

غزل · Ghazal

جب رسم زمانے کی نبھائی گئی ہوگی تب جا کے کہیں ڈولی اٹھائی گئی ہوگی جان اپنی بلا وجہ گنواتا نہیں کوئی سسرال میں بد بخت ستائی گئی ہوگی افسردہ سا منظر ہے ترے شہر میں ہر سمت میت کسی شاعر کی اٹھائی گئی ہوگی کیوں اہل خرد شہر کے ناراض بہت ہیں محفل میں مری بات چلائی گئی ہوگی جن کھیتوں میں سر کاٹ کے بویا گیا ہوگا سبزی انہیں کھیتوں میں اگائی گئی ہوگی اس طرح کوئی جھک کے کہاں ملتا ہے کوثرؔ بچپن سے ہی تہذیب سکھائی گئی ہوگی

jab rasm zamaane ki nibhaai gai hogi

Similar Poets