SHAWORDS
Mohammad Abdul Qadir Adeeb

Mohammad Abdul Qadir Adeeb

Mohammad Abdul Qadir Adeeb

Mohammad Abdul Qadir Adeeb

poet
15Ghazal

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

havaadis ki maujein kabhi tez dhaare

حوادث کی موجیں کبھی تیز دھارے سفینہ لگے کس طرح اس کنارے گزارے ہیں ان سے بچھڑ کر جو لمحے خدارا نہ پوچھو وہ کیوں کر گزارے محبت کی بازی ہے کتنی انوکھی نہ ہم ان سے جیتے نہ وہ ہم سے ہارے سر چشم رہتے ہیں اشکوں کے جلوے دیے جس طرح ہوں بھنور کے کنارے کرم ہوگا کچھ تو عطا کیجئے گا کھڑے ہیں کئی لوگ دامن پسارے سنبھل کر ادیبؔ ان سے آنکھیں ملاؤ جلاتے ہیں ان کی نظر کے شرارے

غزل · Ghazal

mujh pe kaisaa ye muqaddar kaa karam hai dekho

مجھ پہ کیسا یہ مقدر کا کرم ہے دیکھو صبح امید بھی اب شام الم ہے دیکھو راہ کا خوف نہ اندیشۂ گمراہی ہے رہنما نقش کف پائے صنم ہے دیکھو وہ مرا حال جو پوچھیں تو بتانا ان سے درد پہلو میں زیادہ ہے نہ کم ہے دیکھو کہیں ایسا تو نہیں ہم انہیں یاد آتے ہیں دل بھی حیران ہے اور آنکھ بھی نم ہے دیکھو جب سے اس در پہ جھکائی ہے جبیں ہم نے ادیبؔ خواہش دیر نہ ارمان حرم ہے دیکھو

غزل · Ghazal

hai vaqt kaa payaam zamaana kharaab hai

ہے وقت کا پیام زمانہ خراب ہے اور اس میں کیا کلام زمانہ خراب ہے منزل نہ ہے مقام زمانہ خراب ہے بے رہ روی ہے عام زمانہ خراب ہے سب اپنی اپنی آگ میں جلتے ہیں رات دن قاضی ہوں یا امام زمانہ خراب ہے سورج کے باوجود اندھیرا ہے ہر طرف کیسا ہے یہ نظام زمانہ خراب ہے ہنسنے کے دن ادیبؔ پلٹ کر نہ آئیں گے رونا ہے صبح و شام زمانہ خراب ہے

غزل · Ghazal

lag gai aag tabassum ke sharar hone tak

لگ گئی آگ تبسم کے شرر ہونے تک دل جگر داغ بنے چشم کے تر ہونے تک ظلمت شب میں حریفوں سے یہی کہنا تھا نہ سحر ہوگی کبھی خون جگر ہونے تک وقت نے سامنے دیوار کھڑی کر دی ہے کیوں نہ خاموش رہے عشق سحر ہونے تک بزم جاناں کا ستم بزم حریفاں کا خطر جائیں تو جائیں کہاں عمر بسر ہونے تک لفظ کے شیشہ گرو زیب نہیں سنگ انا گفتگو نرم رہے ختم سفر ہونے تک شوق دیدار اٹھا دے گا حجابات نظر دید ہوتی ہی نہیں حسن نظر ہونے تک کھینچ لائی ہے کہاں ہم کو تری یاد ادیبؔ لٹ گئے راہ میں ہم تجھ کو خبر ہونے تک

غزل · Ghazal

udaas udaas hai baad-e-sahar nahin maa'lum

اداس اداس ہے باد سحر نہیں معلوم کہاں کہاں سے ہوا ہے گزر نہیں معلوم نہ رکھ سکا سر محفل وہ آبرو کا بھرم کہ پاسداریٔ عرض ہنر نہیں معلوم چلا تھا دل میں لیے اک نوائے شوق مگر کدھر سفر ہے کدھر ہم سفر نہیں معلوم مچی ہے دھوم مرے شہر سے نکلنے کی کہاں سے نشر ہوئی یہ خبر نہیں معلوم ہجوم غم نے سنوارا ہے شب کی دلہن کو کہ کس طرح سے ہوئی شب بسر نہیں معلوم جہاں جہاں وہ ملے آنکھ ان کی بھر آئی یہ کیوں ادھر بھی ہوا ہے اثر نہیں معلوم ہوا جو زلف گرہ گیر کا اسیر ادیبؔ کہاں ہے شام کہاں ہے سحر نہیں معلوم

غزل · Ghazal

ab tumhaare khvaab bhi mujh ko sazaa dene lage

اب تمہارے خواب بھی مجھ کو سزا دینے لگے میں نے کیا چاہا تھا مجھ کو کیا صلہ دینے لگے آہٹیں تھیں نرم لیکن اپنی آنکھیں کھل گئیں جب نسیم صبح کو غنچے صدا دینے لگے لمحہ لمحہ مجھ کو سمجھاتے رہے جو رات بھر صبح گھر کے بام و در ان کو دعا دینے لگے لیجیے برق تبسم کا اثر ہونے لگا پھول کیا پتھر بھی اپنے غم بھلا دینے لگے کیا نہیں ہے آج بھی لفظوں کے شہروں میں ادیبؔ جب بھی گزرا وہ مجھے تحفہ نیا دینے لگے

Similar Poets