SHAWORDS
Mohammad Abid Ali Abid

Mohammad Abid Ali Abid

Mohammad Abid Ali Abid

Mohammad Abid Ali Abid

poet
12Ghazal

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

نہ کارواں کا ہمارے کوئی نشان رہا نہ ہم سفر نہ ہی کشتی نہ بادبان رہا زمین اپنی طرف کھینچتی رہی مجھ کو سوار سر پہ سدا میرے آسمان رہا مجھے خبر تھی گیا تھا تو غیر سے ملنے میں جان بوجھ کے محفل میں بے زبان رہا تمام عمر مسلط رہا وہ دل پہ مرے تمام عمر میں ظالم کا میزبان رہا ہوا نہ قید زمان و مکاں سے میں آزاد زمیں سے دور مگر زیر آسمان رہا شریک وہ بھی تھا میرے خلاف سازش میں کہ جس کے ساتھ سدا میرا کھان پان رہا نہ دل میں جلتی ہوئی آگ بجھ سکی عابدؔ نہ سر پہ میرے کبھی کوئی سائبان رہا

na kaarvaan kaa hamaare koi nishaan rahaa

غزل · Ghazal

اسے ملال ہو کیا دوست کی جدائی کا جو سہہ چکا ہو غم و رنج آشنائی کا بھلائی میں بھی نکالا سبب برائی کا بنا دیا ہے عدو نے پہاڑ رائی کا یہ چاند تارے یہ سورج ہیں کیا دریچے ہیں تجھے بھی شوق ہے گویا کہ خود نمائی کا تڑپتا دیکھ کے چرکے لگائے بسمل کو ستم تو ٹھیک پہ عالم تری ڈھٹائی کا میں جب یہاں سے گیا میرے ہاتھ خالی تھے حساب لے لیا دنیا نے پائی پائی کا

use malaal ho kyaa dost ki judaai kaa

غزل · Ghazal

حائل ہے حجاب شرم و حیا دیدار تو کیا گفتار تو کیا مبہم ہیں اشارے سب اس کے انکار تو کیا اقرار تو کیا الطاف و کرم کی بارش بھی جو مجھ پہ کرے سنسار تو کیا جب اس نے نہ پوچھا حال مرا دریافت کریں اغیار تو کیا ہے دربدری قسمت میری شوریدہ سری تو ہی لے چل تسکین دل محزوں کے لیے گلزار تو کیا کہسار تو کیا ہیں عزم مسافر کے آگے خطرات مسافت ہیچ بہت منزل کی طلب ہے دل میں اگر ہو راہ گزر دشوار تو کیا تنگ آ کے محبت ترک نہ کی ہم گرچہ رہے ناکام سدا سرشار تھے لذت حسرت و غم سے ہوتے بھلا بیزار تو کیا

haail hai hijaab-e-sharm-o-hayaa didaar to kyaa guftaar to kyaa

غزل · Ghazal

پتھر ہو کہ فولاد ہو ڈرنے کا نہیں میں اب صورت آئینہ بکھرنے کا نہیں میں جو ذات کا میری ہے خلا چیز دگر ہے جو بھر بھی گئے زخم تو بھرنے کا نہیں میں دیکھیں نہ نظر بھر کے مجھے دیر تلک آپ جو چڑھ گیا نظروں میں اترنے کا نہیں میں کی بادہ کشی ترک معابد کے مقابل اب اس سے زیادہ تو سدھرنے کا نہیں میں دیدار ترا میرے لیے راحت جاں ہے بے دیکھے تجھے جاں سے گزرنے کا نہیں میں اب جرم محبت کی ملے کوئی بھی پاداش تفتیش کے دوران مکرنے کا نہیں میں

patthar ho ki faulaad ho Darne kaa nahin main

غزل · Ghazal

کسی گوشے میں دنیا کے مکیں ہوتے ہوئے بھی وہ میرے ساتھ رہتا ہے نہیں ہوتے ہوئے بھی مسلسل آزمائش میں مجھے ظالم نے رکھا کیا میں نے نہیں سجدہ جبیں ہوتے ہوئے بھی مسلسل مارتے رہتے ہیں شب خوں ذہن و دل پر عزیزاں رفتگاں زیر زمیں ہوتے ہوئے بھی گزاری ہم نے ساری زندگی عشق بتاں میں مکمل اس کی وحدت پر یقیں ہوتے ہوئے بھی لیے پھرتا ہے قاتل ہاتھ میں خنجر برہنہ مہیا پیرہن میں آستیں ہوتے ہوئے بھی میں ذرہ خاک کا ہوں وہ ستارہ آسماں کا وہ مجھ سے دور ہے میرے قریں ہوتے ہوئے بھی نہ جانے کون سی مٹی کا عابدؔ بھی بنا ہے ہمیشہ خوش نظر آیا حزیں ہوتے ہوئے بھی

kisi goshe mein duniyaa ke makin hote hue bhi

غزل · Ghazal

وہ بہت خوش ہے خطابات و مراعات کے ساتھ خوب بدلا وہ بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ دل کے نزدیک پرے آنکھ سے رہنے والے کیا تعلق ہے تری یاد کا برسات کے ساتھ میری خواہش کا ذرا بھی نہ رکھا پاس اس نے مجھ کو لوٹا دیا خط چند ہدایات کے ساتھ نکہت و نور و ضیا حسن کی پہچان بنے عشق منسوب ہوا بام خرابات کے ساتھ میں نے لوٹا دیے سوغات و تحائف اس کے مجھ کو منظور نہ تھی شرط عنایات کے ساتھ

vo bahut khush hai khitaabaat-o-muraaaat ke saath

Similar Poets