Mohammad Ismail Shadan
Mohammad Ismail Shadan
Mohammad Ismail Shadan
Ghazalغزل
mire vajud ki qaaem asaas rahne de
مرے وجود کی قائم اساس رہنے دے زمیں کے جسم پہ کوئی لباس رہنے دے مری تمام خوشی خوش دلی سے لے جا تو جو تیرے غم ہیں وہ سب میرے پاس رہنے دے مجھے تو پینا ہے آنکھوں سے تیری جی بھر کر تو میرے سامنے خالی گلاس رہنے دے کبھی کبھی مجھے تنہائیوں میں چھوڑ بھی دے کبھی کبھی تو مجھے بھی اداس رہنے دے یہ تلخ لہجہ ترا دل کو کر نہ دے گھائل زبان و لب پہ ذرا سی مٹھاس رہنے دے میں تجھ سے دور بہت ہو کے جی نہ پاؤں گا تجھے قسم ہے مجھے اپنے پاس رہنے دے تو میری پیاس کی شدت بجھا نہیں سکتی اے چشم مست مرے لب کی پیاس رہنے دے تعلقات نہ کر ترک اپنے شاداںؔ سے کبھی کبھار تو ملنے کی آس رہنے دے
mansub un se aaj miri zaat ho gai
منسوب ان سے آج مری ذات ہو گئی یعنی حیات نو کی شروعات ہو گئی ناکامیٔ محبت جاناں کے ساتھ ساتھ خود زندگی بھی نذر خرابات ہو گئی ان کی طرف سے جو بھی مجھے غم عطا ہوا میرے لیے خوشی کی وہ سوغات ہو گئی پھر دل میں اس کی یاد کے بادل امڈ پڑے پھر آنسوؤں کی آنکھ سے برسات ہو گئی محروم ہو گیا ہوں پیام وصال سے کیا جانے کیا خطا ہوئی کیا بات ہو گئی شاداںؔ مری حیات بھی پر نور تھی مگر کیا جانے کب یہ پیکر ظلمات ہو گئی
baar-e-gham-e-hayaat ko sar par sameT kar
بار غم حیات کو سر پر سمیٹ کر اے دوست پھینک آیا ہوں یکسر سمیٹ کر بیزار زندگی سے یہ کر دے گی ایک دن رکھنا ضروریات کی چادر سمیٹ کر مانگے ہے بوند بوند سمندر سے اب وہی رکھتا تھا کل تلک جو سمندر سمیٹ کر باد خزاں نے باغ کو تاراج کر دیا سب لے گئی بہار کا منظر سمیٹ کر جی چاہتا ہے آپ کے دامن میں ڈال دوں لایا ہوں جو چمن سے گل تر سمیٹ کر سرمایۂ حیات ہے شاداںؔ مرے لیے رکھا ہے اس کی یاد کو اندر سمیٹ کر
pal mein karti hain be-khabar aankhein
پل میں کرتی ہیں بے خبر آنکھیں ہیں عجب تیری جادوگر آنکھیں میرے بن تم بھی رہ نہ پاؤ گے جاؤ مجھ سے نہ پھیر کر آنکھیں جانے کیا کیا بیان کرتی ہیں آنسوؤں سے یہ تربتر آنکھیں آپ تشریف تو کبھی لائیں ہم بچھائیں زمین پر آنکھیں دل کی تہ میں اتر گیا ہے وہ میری آنکھوں میں ڈال کر آنکھیں بند آنکھوں میں خواب آتے ہیں خواب دیکھو نہ کھول کر آنکھیں اب کہاں آنسوؤں کی آمد ہے اب تو شاداںؔ ہیں خوں سے تر آنکھیں
mujhe in sang-rezon ko guhar karnaa bhi aataa hai
مجھے ان سنگ ریزوں کو گہر کرنا بھی آتا ہے شب تاریک کو نور سحر کرنا بھی آتا ہے ہماری خامشی بھی مصلحت کے تحت ہے ورنہ زمانے کو ہمیں زیر و زبر کرنا بھی آتا ہے زمانہ چھین لے یہ عیش دنیا بھی تو کیا غم ہے مجھے تو بے سر و ساماں گزر کرنا بھی آتا ہے وہ اپنی منزل مقصود اک دن پا ہی جاتے ہیں جنہیں دشوار راہوں میں سفر کرنا بھی آتا ہے خوشی کی چھاؤں میں رہنے کے ہم عادی تو ہیں لیکن غموں کی دھوپ میں شاداںؔ بسر کرنا بھی آتا ہے
ilzaam be-sabab na kisi par dharaa karein
الزام بے سبب نہ کسی پر دھرا کریں تحقیق اپنے طور پہ بھی کر لیا کریں خود ہی غبار راہ دکھائیں گے راستہ پیدا تو آپ دل میں ذرا حوصلہ کریں رخسار و لب کی بات بہت ہو چکی ہے اب حالات حاضرہ پہ کوئی تبصرہ کریں یہ بات دوستوں کو بھی گزرے گی ناگوار اظہار دشمنی نہ کبھی برملا کریں ٹل جاتی ہیں مصیبتیں اس کار خیر سے محتاجوں بے نواؤں کو صدقہ دیا کریں نفرت کی تیرگی کو مٹانے کے واسطے ہر چار سمت پیار کا روشن دیا کریں دل میں نہ ہو خلوص تو بے سود ہے میاں دن رات آپ لاکھ عبادت کیا کریں شاداںؔ قدم قدم پہ یہ دیتی رہی فریب ہم زندگی کے ساتھ کہاں تک وفا کریں





