Mohammad Khan Sajid
Mohammad Khan Sajid
Mohammad Khan Sajid
Ghazalغزل
dard-o-gham kaa aap ko bhi tajraba ho jaaegaa
درد و غم کا آپ کو بھی تجربہ ہو جائے گا زیست کی جب تلخیوں سے سامنا ہو جائے گا چھوڑ جا پرچھائیاں بیتے ہوئے لمحات کی کچھ تو جینے کا مجھے بھی آسرا ہو جائے گا چھین لے مجھ سے مرا احساس بھی اے زندگی آخری احسان مجھ پہ یہ ترا ہو جائے گا کھل ہی جائے گا بھرم احباب کے اخلاص کا گردش دوراں میں جب تو مبتلا ہو جائے گا تو بھی کچھ الزام دے اے دوست اوروں کی طرح کچھ نہیں تو دوستی کا حق ادا ہو جائے گا توڑ دی امید کی بیساکھیاں حالات نے کون جانے کس گھڑی کیا حادثہ ہو جائے گا ناز تھا جس کی وفاؤں پر بہت ساجدؔ ہمیں کیا خبر تھی وہ بھی اک دن بے وفا ہو جائے گا
husul-e-zar na kasb-e-rutba-e-zi-shaan pe rakkhi hai
حصول زر نہ کسب رتبۂ ذی شاں پہ رکھی ہے نظر ہم نے ہمیشہ خدمت انساں پہ رکھی ہے اسی کو ہر طرح کی کامرانی ہو گئی حاصل اساس زیست جس نے حکمت قرآں پہ رکھی ہے ازل کے روز ہی سے جنس الفت کی گراں باری نحیف و ناتواں سے شانۂ انساں پہ رکھی ہے محبت پیار حسرت رنج و غم درد و ہراسانی سبھی باتوں کی تہمت اک دل ناداں پہ رکھی ہے تن آسانیٔ ساحل کو تو کچھ کہتا نہیں کوئی ہر اک نے تہمت فتنہ گری طوفاں پہ رکھی ہے یہ گل ہے برق ہے شعلہ ہے کندن ہے کہ ہے لالہ نہ جانے کیا دہکتی شے لب جاناں پہ رکھی ہے مہ و خورشید ہو جائیں نہ مارے شرم کے پانی اسی خاطر نقاب اس نے رخ تاباں پہ رکھی ہے ندیمؔ اس کو میسر آ گئی ہے شہرت جاوید سدا انگشت جس نے گردش دوراں پہ رکھی ہے
lahrein kyon saakit-o-khamosh hain sochaa jaae
لہریں کیوں ساکت و خموش ہیں سوچا جائے پھر مناسب ہو تو کنکر کوئی پھینکا جائے اس قدر جور اٹھائے ہیں خزاں کے ہاتھوں ہم سے اب موسم گل میں بھی نہ چہکا جائے اور بھی کتنے ہی اسباب ہیں سرمستی کے یہ ضروری نہیں مے پی کے ہی بہکا جائے آئینہ حسن خداداد کی کیا دے گا داد اس کو کچھ میری نگاہوں سے ہی دیکھا جائے جن میں تحریر ہوں آیات محبت یارو ان صحیفوں کو نہ بازار میں بیچا جائے دل میں ہوتی ہے جو محسوس یہ ہلکی سی خلش دوستو اس کا کوئی نام تو رکھا جائے ایسا خوشبو سے بھرا زخم مجھے دے دیجے ہر قدم پر جو رہ زیست کو مہکا جائے شعر کہنے کا فقط اتنا ہی مقصد ہے ندیمؔ انجمن والوں کے معیار کو پرکھا جائے
dekh kar hausla mire dil kaa
دیکھ کر حوصلہ مرے دل کا ہاتھ تھرا رہا ہے قاتل کا پاس آیا نہ وقت غرقابی مجھ پہ احسان ہے یہ ساحل کا کیا کہیں حشر کارواں کیا ہو راہبر کا پتہ نہ منزل کا خود ہی دیتے ہیں زخم اور خود ہی پوچھتے ہیں مزاج بسمل کا آ گئی رت بہار کی شاید ہر طرف شور ہے سلاسل کا کھنچ کے آنے پہ وہ ہوئے مجبور معجزہ ہے یہ جذب کامل کا ہم زباں ہو کے بھی خموش رہے پاس رکھنا تھا رنگ محفل کا پردۂ شعر میں ندیمؔ اکثر ہم سناتے ہیں ماجرا دل کا
raanaai mein Duubi hui paai tiri aavaaz
رعنائی میں ڈوبی ہوئی پائی تری آواز کیا خوب خدا نے ہے بنائی تری آواز مخمور ہے ہر تار مرے ساز نفس کا کانوں میں مرے جب سے ہے آئی تری آواز یہ میرا جنوں ہے کہ ہے آواز کا جادو آنکھوں سے بھی دیتی ہے دکھائی تری آواز مستی بھرے لہجے میں جہاں تو ہوا گویا گہرائی میں جاں کی اتر آئی تری آواز کوئل کی یہ شیریں صدا سوغات ہے تیری بلبل نے بھی تجھ سے ہے چرائی تری آواز لے دے کے فقط کان پہ موقوف نہیں ہے کرتی ہے تہ دل میں رسائی تری آواز کرتا ہے شب و روز ندیمؔ اتنی دعائیں تجھ سے نہ کہیں مانگے جدائی تری آواز
dil ke riste hue zakhmon ko havaa dete hain
دل کے رستے ہوئے زخموں کو ہوا دیتے ہیں میرے اپنے ہی مرا درد بڑھا دیتے ہیں لوگ مجبور پہ احسان تو کرتے ہیں مگر ضرب احساس کے شیشے پہ لگا دیتے ہیں مصنف وقت کا انصاف تو دیکھو لوگو کون مجرم ہے مگر کس کو سزا دیتے ہیں شام ہوتے ہی تری یاد بھی آ جاتی ہے اشک پلکوں کے دریچوں کو سجا دیتے ہیں لوگ ملتے ہیں بہت ٹوٹ کے لیکن ساجدؔ وقت کے ساتھ ہر اک بات بھلا دیتے ہیں





