SHAWORDS
M

Mohammad Nadeem Sadiq

Mohammad Nadeem Sadiq

Mohammad Nadeem Sadiq

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

تو تو بالکل پتھر سا ہے پر مجھ کو اچھا لگتا ہے تیرے شہر میں کیا رکھا ہے دل مجھ کو پھر لے آیا ہے ساری گلیاں گھوم چکا ہوں تیری گلی سے ڈر لگتا ہے اب ان سڑکوں پر تنہا ہوں جن پر کبھی تو ساتھ چلا ہے چاند کو دیکھ کے مجھ کو ہمیشہ یاد ترا چہرا آتا ہے پانی جس کو سمجھ رہا تھا وہ تو نظر کا اک دھوکا ہے تجھ کو میں کب بھول سکا ہوں تو تو مجھ کو بھول چکا ہے یادیں بھی کیا چیز ہیں صادقؔ حال برا دل کا ہوتا ہے

tu to bilkul patthar saa hai

1 views

غزل · Ghazal

جب سورج ڈھلنے لگتا ہے یاد مجھے تو کیوں آتا ہے تو نے پہنے ہیں دستانے میرے دل کا خون ہوا ہے تیرے شہر میں آ کر مجھ کو اپنا آپ ہی بھول گیا ہے تو نے نہیں بنایا اپنا تیرے شہر کو اپنایا ہے تیری ساری باتیں سچی کیسے کہوں میں تو جھوٹا ہے کوئی تری مجبوری ہوگی میں نے اب یہ سوچ لیا ہے اس دل کو کیسے سمجھاؤں یہ تجھ کو اپنا سمجھا ہے عشق کی آگ یہ کیسی بھڑکی سب کچھ جل کر راکھ ہوا ہے تیرے شہر سے جانے لگا ہوں کوئی مجھ کو روک رہا ہے

jab suraj Dhalne lagtaa hai

1 views

غزل · Ghazal

درد ملے تو رنج ہی کیا ہے درد بھی دل کی ایک دوا ہے جس نے مجھ کو درد دیا ہے اس نے تو احسان کیا ہے اس کو جب تک دیکھ نہ لوں میں دل کو سکون کہاں ملتا ہے رات گزرنے والی ہے جی دل کا غبار نہیں نکلا ہے دل کا برتن جب سے ٹوٹا پانی آنکھ میں بھر رکھتا ہے میں کب تک مدہوش رہوں گا ان آنکھوں سے جام پیا ہے سارے تارے دیکھ رہے ہیں چندا مجھ کو گھور رہا ہے کتنے لوگ تھے دل میں صاحب اب تو دل ویران پڑا ہے یادوں کی بارش میں صادقؔ کب سے بیٹھا بھیگ رہا ہے

dard mile to ranj hi kyaa hai

1 views

غزل · Ghazal

ساغر میں اک پھول کھلا ہے سارا جنگل مہک اٹھا ہے ٹہنی ٹہنی سوکھ چلی ہے پتا پتا خشک ہوا ہے ہر سو تنہائی کا عالم ہر کوئی تنہا تنہا ہے شہر کی سڑکیں تو ٹھنڈی ہیں لیکن میرا دل جلتا ہے کیسی دہشت پھیل گئی ہے انساں انساں سے ڈرتا ہے جنگل گلشن ندیا طوفاں ہم نے بھی کیا کیا دیکھا ہے سونے جیسے کھیت کھڑے تھے بے موسم بادل برسا ہے

saaghar mein ik phuul khilaa hai

غزل · Ghazal

تو کیوں اس کو سوچ رہا ہے وہ تو تجھ کو بھول چکا ہے دل میں کیسا خوف بھرا ہے پھول کھلے تو ڈر لگتا ہے میں کہتا ہوں اسے بھلا دے یہ کیا روگ لگا بیٹھا ہے یادیں تو بس بوجھ ہیں دل کا اور یادوں میں کیا رکھا ہے کوئی جو پوچھے حال مرا تو کہہ دیتا ہوں سب اچھا ہے پتا پتا ڈالی ڈالی کس کے غم میں زرد ہوا ہے ہر سو پھیلا خوف کا عالم خوف یہ کیسے پھیل گیا ہے صادقؔ تیرا مسئلہ کیا ہے تو کیوں ماضی میں رہتا ہے

tu kyon us ko soch rahaa hai

غزل · Ghazal

وہ بھی مجھ کو سوچ رہا ہے میرا دل خوش فہم بڑا ہے میر قنوطی شاعر تھا گر کون رجائی ہو سکتا ہے میرؔ و غالبؔ داغؔ و مومنؔ اور دلی میں رکھا کیا ہے میرؔ و ناصرؔ میرے مرشد مجھ پر ان کا رنگ چڑھا ہے پہلی بارش جب سے دیکھی مجھ پر اس کا اثر ہوا ہے کیا کیا خواب تھے دیکھے ہم نے اپنا خواب تو خواب رہا ہے اس کی یاد مرا دل کھائے کیا دل کا کچھ ہو سکتا ہے ایک وہ دن تو ساتھ تھا میرے ایک یہ دن تو چھوڑ گیا ہے گر ہے صادق عشق ترا تو آنکھ سے پانی کیوں بہتا ہے عشق برا ہو تیرا تو نے مجھ کو تو بس مار دیا ہے مایوسی بھی کفر ہے لیکن غیر خدا سے آس بھی کیا ہے تم کیوں میرے ہو نہیں جاتے دل تم کو ہی مانگ رہا ہے ساری غزلیں درد بھری ہیں درد کہاں سے تو لایا ہے نام خدا کا سو جا صادقؔ کس نے تجھے جگا رکھا ہے

vo bhi mujh ko soch rahaa hai

Similar Poets