
Mohammad Naim Jawed Naim
Mohammad Naim Jawed Naim
Mohammad Naim Jawed Naim
Ghazalغزل
پھول میری ذات کے صحراؤں میں بو جائے گا آنے والی بارشوں میں وہ مرا ہو جائے گا وہ تو اک درویش ہے شہر وفا کی خاک پر ہجر کی اوڑھے گا چادر چین سے سو جائے گا کوئی بھی مرتا نہیں ہے مرنے والے کے لیے وہ بھی سب کے ساتھ آئے گا مجھے رو جائے گا چاند تاروں کی محبت زیب دیتی ہے اسے بس یہ خدشہ ہے خلاؤں میں کہیں کھو جائے گا وہ اگر برسے تو ساری گرد دشت ہجر کی ایک پل میں تیز بارش کی طرح دھو جائے گا ایک کا بن کر رہے گا تو زمانہ ہے نعیمؔ بے وفا جس دن ہوا لمحوں کا وہ ہو جائے گا
phuul meri zaat ke sahraaon mein bo jaaegaa
جدائی کے الم سہنا مجھے اچھا نہیں لگتا کسی کو الوداع کہنا مجھے اچھا نہیں لگتا محبت کے مراحل ہوں یا میدان عداوت ہو کبھی جذبات میں بہنا مجھے اچھا نہیں لگتا وہ اتنا خوب صورت ہے کہ اس کے جسم پر سج کر کوئی زیور کوئی گہنا مجھے اچھا نہیں لگتا سنو منظور ہیں اب تو مجھے نا حق سزائیں بھی سدا ملزم بنے رہنا مجھے اچھا نہیں لگتا رفاقت کے معانی جس نے سمجھائے مجھے برسوں اب اس کو بے وفا کہنا مجھے اچھا نہیں لگتا مرا تو سلسلہ ہے خرقہ پوشوں کے قبیلے سے مجھے مت خلعتیں پہنا مجھے اچھا نہیں لگتا کناروں کی الگ ہی بات ہوتی ہے نعیمؔ اپنی جزیروں پر سدا رہنا مجھے اچھا نہیں لگتا جدائی کے الم سہنا مجھے اچھا نہیں لگتا کسی کو الوداع کہنا مجھے اچھا نہیں لگتا محبت کے مراحل ہوں یا میدان عداوت ہو کبھی جذبات میں بہنا مجھے اچھا نہیں لگتا وہ اتنا خوب صورت ہے کہ اس کے جسم پر سج کر کوئی زیور کوئی گہنا مجھے اچھا نہیں لگتا سنو منظور ہیں اب تو مجھے نا حق سزائیں بھی سدا ملزم بنے رہنا مجھے اچھا نہیں لگتا رفاقت کے معانی جس نے سمجھائے مجھے برسوں اب اس کو بے وفا کہنا مجھے اچھا نہیں لگتا مرا تو سلسلہ ہے خرقہ پوشوں کے قبیلے سے مجھے مت خلعتیں پہنا مجھے اچھا نہیں لگتا کناروں کی الگ ہی بات ہوتی ہے نعیمؔ اپنی جزیروں پر سدا رہنا مجھے اچھا نہیں لگتا
judaai ke alam sahnaa mujhe achchhaa nahin lagtaa
سچ زبانوں پر ہو تو شانوں پہ سر رہتے نہیں پتھروں کے شہر میں شیشے کے گھر رہتے نہیں چھوڑ کر مجھ کو چلا ہے تو پتا ہوگا اسے ریگ زاروں میں کبھی نازک شجر رہتے نہیں چند لمحوں کے لیے ملنا ہے بس ان کا نصیب دیر تک شب اور سورج ہم سفر رہتے نہیں کوئی کتنا بھی ہو پیارا ہو ہی جاتا ہے جدا زخم جتنے بھی ہوں گہرے عمر بھر رہتے نہیں اس کی آندھی کی طرح فطرت بڑی پرجوش تھی ایسے موسم میں دیے ہوں یا شرر رہتے نہیں یا تو ہو جاؤ مرے یا چھوڑ دو میرا خیال درمیانے سے مراسم معتبر رہتے نہیں توڑ لینا شاخ سے خود ان کو بہتر ہے نعیمؔ دیر تک پک کر درختوں پر ثمر رہتے نہیں
sach zabaanon par ho to shaanon pe sar rahte nahin
بے خبر ہونے سے پہلے کی خبر تو دیکھتے ڈوبتے سورج کی جانب اک نظر تو دیکھتے چھیڑ کر ذکر جدائی سامنے اس کے کبھی اس کے چہرے سے ہویدا اس کا ڈر تو دیکھتے دیکھنے اس کو گلی کی سمت گر جانے کو تھے اوج پر بیتابیٔ دیوار و در تو دیکھتے جس نے ملنا ہی نہیں ہے اس کو پانے کی تلاش بے وجہ کر کے کبھی کوئی سفر تو دیکھتے ہاتھ سے چھو کر نہیں تو پاس ہی جا کر اسے شہر میں اترا ہے اک رشک قمر تو دیکھتے گرمیوں میں دشت ہجراں کا سفر رکھنا کبھی دھوپ میں جل کر ثمر دیتے شجر تو دیکھتے رات کی تاریکیوں میں گھر سے نکلو تو نعیمؔ دیکھتے ہیں کس طرح سے بے بصر تو دیکھتے
be-khabar hone se pahle ki khabar to dekhte
ناروا تھا نا مناسب تھا مگر اچھا لگا بے وفا اک دشمنوں کی پشت پر اچھا لگا وہ اچانک لوٹ آیا توڑ کر رسم فراق گرمیوں میں سرد موسم کا ثمر اچھا لگا لگ گئی شاید مجھے آوارگی کی بد دعا لوٹ کر اب کے میں آیا ہوں تو گھر اچھا لگا ہر کسی سے ہنس کے ملنا خوش دلی سے بولنا میرا دشمن ہے مگر اس کا ہنر اچھا لگا یہ محبت ہے مری یا اس کا ہے کوئی کمال جس قدر پرکھا اسے وہ اس قدر اچھا لگا آنے والے موسموں کی سختیوں کے ذکر پر اس کے چہرے پر اکیلے پن کا ڈر اچھا لگا اب کے اس کے قرب کی جنت بھی دیکھی پاس سے اب کے مجھ کو خواب زاروں کا سفر اچھا لگا میرے بارے میں مجھی سے پوچھتا ہے وہ نعیمؔ اس خبر کے دور میں اک بے خبر اچھا لگا
naaravaa thaa naa-munaasib thaa magar achchhaa lagaa
حریم ذات کی ہر رت منائے میرے لیے وہ روئے میرے لیے مسکرائے میرے لیے زمانہ اس کو ہمیشہ لگائے زخم پہ زخم زمانہ اس کو ہمیشہ ستائے میرے لیے میں شہر چھوڑ کے جانے کی جب بھی بات کروں وہ ہاتھ جوڑ کے مجھ کو منائے میرے لیے اسے کہو ہے محبت میں شرک کفر عظیم وہ اپنا آپ بھی اب بھول جائے میرے لیے قدم قدم پہ جلاتا رہوں لہو کے چراغ قدم قدم پہ وہ مقتل سجائے میرے لیے اسی کو شوق تھا سب سے مجھے ملانے کا اب اپنی آنکھ کا کاجل بہائے میرے لیے نعیمؔ اس کو ضرورت مری کبھی نہ پڑے وہ ملنے آئے مجھے تو بس آئے میرے لیے
harim-e-zaat ki har rut manaae mere liye





