SHAWORDS
M

Mohammad Naqi Rizvi Asr

Mohammad Naqi Rizvi Asr

Mohammad Naqi Rizvi Asr

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

نگاہ لطف سے تیری کہیں جو ہم ملتے ہماری زیست کے شام و سحر بہم ملتے ہمیں فریب خرد نے ڈبو دیا ورنہ ہمارے جام سے خود آ کے جام جم ملتے کسی کے درد پہ ہنسنا کسی کے غم میں خوشی یہ لمحے کاش زمانے کو کم سے کم ملتے نہ ہوتے ہم تو زمانے کی آگہی کی قسم نہ لوح ملتی نہ تم کو کہیں قلم ملتے سر نیاز کی عظمت کے راز جب کھلتے در بتاں سے نشان در حرم ملتے تمام عمر گنوا دی تلاش میں لیکن خدا نہ ملتا نہ ملتا کہیں صنم ملتے کلام عصرؔ کی ارزش نہیں زمانے میں کہیں جو ہوتی تو ہلکے سے کچھ ورم ملتے

nigaah-e-lutf se teri kahin jo ham milte

غزل · Ghazal

گو زبانیں لاکھ ہوں دل کی صدا تو ایک ہے جتنے ہوں انداز لیکن مدعا تو ایک ہے کچھ محاذوں پر بہائیں کچھ بہائیں کھیت میں مختلف جا پر سہی خون وفا تو ایک ہے ہر طرف سے امتحاں گاہ وفا میں جاؤں گا قصۂ دار و رسن کا مرحلہ تو ایک ہے دار ہو مقتل ہو یا ہو طور کا جلوہ کہیں جذبہ ذوق محبت کا صلہ تو ایک ہے میں سمجھتا ہوں یہ دنیا ہے حسینوں سے بھری کیا کروں ذوق نظر کا مدعا تو ایک ہے آہ نالے درد و غم اختر شماری رات کی اے مسیح وقت ان سب کی دوا تو ایک ہے دور ہوں چارہ گران وقت بس اب دور ہوں عصرؔ کی تکلیف کا درد آشنا تو ایک ہے

go zabaanein laakh hon dil ki sadaa to ek hai

غزل · Ghazal

خدایا کاش تجھی کو گواہ کر لیتے نگاہ خلق سے بچ کر گناہ کر لیتے حیات خود ہی مرے در کی پاسباں ہوتی عروس مرگ سے اک دن جو چاہ کر لیتے فلک نہ رہتا نہ روئے زمیں کی رنگینی تمہارے جور و ستم پر جو آہ کر لیتے نہ کرتے جبر کسی پر بھی لوگ پھر شاید جو اختیار پہ اپنے نگاہ کر لیتے گداگری کے تو الزام سے بچے رہتے ہم اپنے سر پہ اگر کج کلاہ کر لیتے ہماری فکر کا تھوڑا سا تو صلہ ملتا جو اہل بزم ہی کچھ واہ واہ کر لیتے نباہ لیتے زمانے سے ہم بھی مر کھپ کر جو آپ عصرؔ کے دل میں نہ راہ کر لیتے

khudaayaa kaash tujhi ko gavaah kar lete

غزل · Ghazal

حسن اور عشق کو فرق نظری کیوں کہئے مے کی تاثیر کو اک بے خبری کیوں کہئے ہر نفس زیست کا ہو جائے اگر وقف تلاش جستجو کہئے اسے در بدری کیوں کہئے کوہ و صحرا ہی نہیں عرش کی لاتا ہوں خبر میری پرواز کو بے بال و پری کیوں کہئے کشتیاں ڈوب کے ابھریں جو کسی طوفاں میں ناخداؤں کی اسے دیدہ وری کیوں کہیے بجھتے بجھتے بھی اندھیروں کی رہے جو دشمن ایسی ہستی کو چراغ سحری کیوں کہئے جب سلجھتی نہ ہو کوشش سے بھی الجھی ہوئی بات پھر تو حالات کو آفت سے بری کیوں کہئے ایک کوشش تھی جو ناکام رہی قسمت سے عصرؔ کچھ کہئے اسے بے ہنری کیوں کہئے

husn aur ishq ko farq-e-nazari kyuun kahiye

غزل · Ghazal

نہ سرنگوں نہ بظاہر اداس اداس چلے عجیب شان سے مرنے وفا شناس چلے بنا کے خوگر احساس درد و غم‌ دل کو ہمارے پاس سے سارے ہجوم یاس چلے سنا کے اہل جنوں کو بہار کا مژدہ حواس والے بھی اک سمت بد حواس چلے حیات نام ہے ایسے سفر کا اے ہمدم قدم قدم پہ جہاں فکر آس و یاس چلے زباں پہ آئے تو ڈر ہے بنے نہ افسانہ وہ بات جس پہ بہت ہر طرف قیاس چلے ہماری دلق نوازی پہ رشک کرنے کو سنا ہے دیر و حرم سے نظر شناس چلے مزہ تو جب ہے بہاروں کی فیض و بخشش کا کہ عصرؔ جام بھی بے عرض و التماس چلے

na sar-nigun na ba-zaahir udaas udaas chale

غزل · Ghazal

نہ تیشہ ہم نے دیکھا ہے نہ جوئے شیر دیکھی ہے مگر ہاں کچھ تو جذب عشق میں تاثیر دیکھی ہے ہر اک شے میں نظر آنے لگی ہے آپ کی صورت نہ جانے کس نظر سے آپ کی تصویر دیکھی ہے کہاں سے لائے گا وہ قیس و لیلیٰ کا بھرم اے دل یہ مانا تو نے حسن و عشق کی تصویر دیکھی ہے پلٹ جائے گی خود زور قیامت اپنا دکھلا کر اگر برق تپاں نے ہمت تعمیر دیکھی ہے ہماری خاک مرقد ہر طرف گلشن میں بکھرا دو کہ ہم نے دل جلوں کی خاک میں اکسیر دیکھی ہے ستم دیدہ نگاہیں کہہ رہی ہیں واہمہ ہوگا جو میں نے اک شگفتہ خواب کی تعبیر دیکھی ہے نہ جانے آج کل کیا ہو گیا ہے عصرؔ کو ہمدم گزارش جو بھی ہوتی ہے بہت دلگیر دیکھی ہے

na tesha ham ne dekhaa hai na ju-e-shir dekhi hai

Similar Poets