SHAWORDS
M

Mohammad Shafi Sitapuri

Mohammad Shafi Sitapuri

Mohammad Shafi Sitapuri

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

vafaa khulus-o-mohabbat ki baat kartaa huun

وفا خلوص و محبت کی بات کرتا ہوں ادب کے ساتھ شرافت کی بات کرتا ہوں معاشرے کا ہے آئینہ شاعری میری میں لفظ لفظ صداقت کی بات کرتا ہوں

غزل · Ghazal

raushni chaaho to mehr-o-mah-o-akhtar socho

روشنی چاہو تو مہر و مہ و اختر سوچو ایک قطرے کی طلب ہو تو سمندر سوچو کیسے کی جائے رفو امن کی چادر سوچو سوچنے والو ذرا سوچو مکرر سوچو جس کا سایہ ہے تباہی کی علامت اے دوست اس پرندے کے کتر پاؤ گے کیا پر سوچو سیم و زر کے لئے ایمان لٹانے والو ساتھ کیا لے کے گیا اپنے سکندر سوچو کیسے دنیا کو میسر ہوں اخوت کے ثمر نخل الفت کا ہو کس طرح تناور سوچو جس سے آتی تھی خلوص اور وفا کی خوشبو کیسے پامال ہوا ہے وہ گل تر سوچو اپنے اخلاق سے مغلوب کرو دشمن کو تیر سوچو نہ تبر سوچو نہ خنجر سوچو جس نے ہر گام پہ دنیا کو مسرت دی ہے آج کیونکر ہے شکن اس کی جبیں پر سوچو جس کی پیشانی پہ منزل کا پتہ لکھا ہے ٹھوکریں کس لئے کھاتا ہے وہ پتھر سوچو اپنی غزلوں کا بڑھانے کے لئے حسن شفیعؔ فکر پاکیزہ رکھو لفظ منور سوچو

غزل · Ghazal

khud ko fareb-o-makr-o-daghaa ke khilaaf rakh

خود کو فریب و مکر و دغا کے خلاف رکھ دل اپنا آئنے کی طرح پاک صاف رکھ مجھ کو حقیقتوں کی فضاؤں میں اڑنے دے تو اپنے پاس تذکرۂ کوہ قاف رکھ اقرار جس کی ذات کا روز ازل کیا اس کی زمین پر نہ بت انحراف رکھ شمشیر کے بغیر کسی کام کا نہیں نادان اپنے ساتھ نہ خالی غلاف رکھ معشوق جاوداں کو رجھانے کے واسطے کپڑوں سے بڑھ کے قلب و جگر پاک صاف رکھ ٹکڑے دکھائی دے گا تجھے چہرۂ نشاط تو دل کے آئنے میں نہ کوئی شگاف رکھ شیوہ ہے تیرا حق کی حمایت کا اے شفیعؔ جو حق نہیں تو اس سے سدا اختلاف رکھ

غزل · Ghazal

mahal-saraaon ke divaar-o-dar se kyaa lenaa

محل سراؤں کے دیوار و در سے کیا لینا ترے گداؤں کو لعل و گہر سے کیا لینا میں اپنے ظرف کو اپنی نظر سے دیکھوں گا کسی کی فکر کسی کی نظر سے کیا لینا جو بال و پر کے سہارے اڑے پرندہ ہے میں آدمی ہوں مجھے بال و پر سے کیا لینا میں خود بشر ہوں بشر سے ہے دوستی میری مجھے تصور فوق البشر سے کیا لینا جو چل سکو تو چلو میرے ساتھ منزل تک وگرنہ مجھ کو تمہارے سفر سے کیا لینا اک آدمی کو بھی انسان جو بنا نہ سکے معاف کرنا مجھے اس ہنر سے کیا لینا مجھے زمین کے ذروں میں نور بھرنا ہے مری تلاش کو شمس و قمر سے کیا لینا اسے تو دھوپ کی چوکھٹ سے لوٹ جانا ہے نسیم صبح کو پھر دوپہر سے کیا لینا ہے کون بھوکا اندھیرا ہے کس کے گھر میں شفیعؔ امیر شہر کو ایسی خبر سے کیا لینا

غزل · Ghazal

jazba-e-shauq ko bedaar karun yaa na karun

جذبۂ شوق کو بیدار کروں یا نہ کروں تو بتا دے میں تجھے پیار کروں یا نہ کروں حسرتوں کو گل و گلزار کروں یا نہ کروں تیرے جلوؤں کا میں دیدار کروں یا نہ کروں میں جلاؤں نہ جلاؤں تری یادوں کے چراغ دل کی بستی کو پر انوار کروں یا نہ کروں جس کی شدت سے تڑپنے میں مزا آتا ہے دل کو اس درد سے دو چار کروں یا نہ کروں میرے دل تو ہی بتا سوچ سمجھ کر مجھ کو اپنی چاہت کا میں اظہار کروں یا نہ کروں

غزل · Ghazal

tark-e-vafaa kaa shikva mat kar ulfat kaa iqraar na maang

ترک وفا کا شکوہ مت کر الفت کا اقرار نہ مانگ غیر تو آخر غیر ہے اس سے اپنوں جیسا پیار نہ مانگ باطل کے پروانوں سے حق گوئی کی امید نہ کر پتھر دل رکھنے والوں سے ہمدردی کے ہار نہ مانگ ماں کے دودھ کا قرض چکانا ہے تو پڑھنے جا اسکول ننھے ننھے ان ہاتھوں میں تھام قلم تلوار نہ مانگ پیار کے سچے پھولوں کو مہکانے کی تدبیریں کر جن میں نفرت کے پھل آتے ہوں ایسے اشجار نہ مانگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر یوں برہم ہونا ٹھیک نہیں مجھ سے اپنے پیار کا تحفہ واپس میرے یار نہ مانگ میں تیرا چھوٹا بھائی ہوں چاہے یہ تسلیم نہ کر لیکن اس گھر کے آنگن میں نفرت کی دیوار نہ مانگ اپنی محرومی کے احساسات رلا بھی سکتے ہیں اس کے دامن میں کانٹے ہی کانٹے ہیں گلزار نہ مانگ میں بھی اپنی لخت جگر کے سارے قرض ادا کر دوں تو بھی اپنے بیٹے کی شادی میں موٹر کار نہ مانگ خوابوں کی دنیا میں پل دو پل رہنا ہی اچھا ہے ساری عمر بسر کرنے کو سپنوں کا سنسار نہ مانگ پاکیزہ فکروں کے زیور جن کے تن کی زینت ہیں فن کی ان دوشیزاؤں سے عریانی زنہار نہ مانگ دنیا بھر کی جھوٹی خبریں دن بھر تو پڑھ سکتا ہے شام سویرے قرآں پڑھ لے انگریزی اخبار نہ مانگ جس سے تیرا نام ہو روشن خود کر ایسے کام شفیعؔ جھوٹی شہرت کی خاطر کم ظرفوں سے دستار نہ مانگ

Similar Poets