"dil do jigar-o-jan bhi iman bhi ye kya muhtaj nahin par baDe bisyar-talab ho"
Mohammad Shamsuddin Aajiz
Mohammad Shamsuddin Aajiz
Mohammad Shamsuddin Aajiz
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totaldil do jigar-o-jaan bhi imaan bhi ye kyaa
muhtaaj nahin par baDe bisyaar-talab ho
Ghazalغزل
un ke jaur-o-jafaa un ke zulm-o-sitam saare 'aalam mein maaruf-o-mashhur hain
ان کے جور و جفا ان کے ظلم و ستم سارے عالم میں معروف و مشہور ہیں کیا کریں دل مگر مانتا ہی نہیں دل کے ہاتھوں بڑے ہم تو مجبور ہیں واہ واہ شیخ جی آپ بھی خوب ہیں اتنے تڑکے چلے آ گئے ہیں یہاں رات پی لی تھی ہم نے بہت تیز تر کیا ملیں کیا کہیں اب تو معذور ہیں کیا وہ آئے بھی تھے کیا چلے بھی گئے کیا سبب ہے کہ ہلتی ہے زنجیر بھی ہو گئی ہے سحر پر نہیں ہے خبر کب چڑھا تھا نشہ کب سے مخمور ہیں بولا جا کے کوئی وہ جو ہیں بے خطا جن کو کہتے ہیں سب عاجزؔ بے وفا ہیں وہی زیب سنگ در آستاں جم کے بیٹھے ہیں اور شاد و مسرور ہیں
vo lazzaton pe lazzatein paai hain diid ki
وہ لذتوں پہ لذتیں پائی ہیں دید کی بے کیف ہو کے رہ گئیں سب خوشیاں عید کی شکوہ دراز دستیٔ دل کا بجا مگر آپ ہی کے التفات نے مٹی پلید کی یارو خدا کے واسطے آنکھیں کھلی رکھو حسرت ہے بعد مرگ بھی پھر ان کے دید کی عاجزؔ وظیفہ پڑھتے ہیں ام حسین کا کرتا کوئی ہے یاد جہاں میں یزید کی
hangaama bapaa hashr kaa ai dosto jab ho
ہنگامہ بپا حشر کا اے دوستو جب ہو ساقیٔ گل اندام ہو اور بنت عنب ہو زنجیر در یار پہ رہتی ہیں نگاہیں فجر و ظہر و عصر یا تاریکئ شب ہو دل دو جگر و جان بھی ایمان بھی یہ کیا محتاج نہیں پر بڑے بسیار طلب ہو حاسد ارے بزدل ارے شاطر ارے ظالم حاصل تجھے تسکین دلی ہو بھی تو کب ہو عاجزؔ کرو آرام کہ ستر کے ہوئے تم اس عمر میں مرنے کی ہوس واہ عجب ہو





