SHAWORDS
Mohammad Sharfuddin Sahil

Mohammad Sharfuddin Sahil

Mohammad Sharfuddin Sahil

Mohammad Sharfuddin Sahil

poet
15Ghazal

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

جبین دل پہ ندامت کا داغ رہتا ہے فلک پہ اس کا ہمیشہ دماغ رہتا ہے گل و ثمر سے لدا ہے ہر اک شجر لیکن گیا ہے کون کہ مغموم باغ رہتا ہے ترس رہا ہے اجالے کو خون سے جس کے حسین قصر میں روشن چراغ رہتا ہے انا کے خول سے باہر کبھی نہیں آتا وہ جس کا علم سے خالی ایاغ رہتا ہے جو کسب رزق میں نعمت کا پا گیا مفہوم اسی امیر کا دل بھی فراغ رہتا ہے فریب و مکر کی تشریح مت بتا مجھ کو مرے شجر کے نشیمن میں زاغ رہتا ہے ہے انکشاف حقیقت ہی فطرت ساحلؔ عجیب شخص ہے محو سراغ رہتا ہے

jabin-e-dil pe nadaamat kaa daagh rahtaa hai

غزل · Ghazal

سوچ اپنی بدل رہا ہوں میں کف افسوس مل رہا ہوں میں جو مسرت کو مات دیتی ہے فکر میں ایسی ڈھل رہا ہوں میں ظلمت شب میں روشنی کے لیے شمع کی طرح جل رہا ہوں میں مثل گل خوش نصیب ہوں کتنا بیچ کانٹوں کے پل رہا ہوں میں آتش غم لگی ہے سینے میں موم جیسا پگھل رہا ہوں میں ظلم پر احتجاج لازم ہے خون منہ سے اگل رہا ہوں میں یہ بھی کار جہاد ہے ساحلؔ حرف حق پر اٹل رہا ہوں میں

soch apni badal rahaa huun main

غزل · Ghazal

بلائے جاں ہے ثمر بد حواس ہونے کا نتیجہ دیکھ لو تم خود اداس ہونے کا خط محیط ہے حبل الورید کے ہے قریب یقین رکھ تو اسے اپنے پاس ہونے کا ہوئے ہیں نیم برہنہ ہوس نے کھیتوں میں دیا نہ موقع ہی پیدا کپاس ہونے کا ہر اک خیال ہے نفس شریر کے تابع مگر ہے دعویٰ اسے حق شناس ہونے کا لپک کے چھین لیا اس قدر وہ پیاسا تھا یہ اہتمام تھا خالی گلاس ہونے کا نہ پوچھو مجھ سے میں تشریح کر نہیں سکتا ہے حادثہ ہی عجب قید یاس ہونے کا مذاق عیش کا اس درجہ گر گیا ساحلؔ تماشا ہوتا ہے اب بے لباس ہونے کا

balaa-e-jaan hai samar bad-havaas hone kaa

غزل · Ghazal

دیتے ہیں جس کو خون جگر کم بہت ہی کم آتے ہیں اس شجر پہ ثمر کم بہت ہی کم باقی ہیں اب بھی دل پہ مرے زخم حادثات احساس درد تو ہے مگر کم بہت ہی کم یہ منحصر ہے کسب حلال و حرام پر ہوتا ہے اب دعا میں اثر کم بہت ہی کم واعظ کی گفتگو میں جو دام فریب ہے پاتے ہیں اس سے لوگ مفر کم بہت ہی کم غواص بحر علم ہیں گرداب حرص میں بازار میں ہیں لعل و گہر کم بہت ہی کم احساس جن کے دل میں ہو کرب یتیم کا اس عہد میں ہیں ایسے بشر کم بہت ہی کم ساحلؔ جو مل گیا ہے تو کچھ قدر کیجئے اس طرح کے ہیں اہل ہنر کم بہت ہی کم

dete hain jis ko khun-e-jigar kam bahut hi kam

غزل · Ghazal

باعث راحت دل میرا مقدر نکلا جس کو سمجھا تھا بیاباں وہ مرا گھر نکلا حسن معصوم کی تقدیس کو رسوا نہ کیا جتنا الزام ہے خوش ہوں کہ مرے سر نکلا ہے سبب روئے منور مری بربادی کا ہاتھ آیا تھا جو یاقوت وہ پتھر نکلا درس لو ہمت عالی سے مری دیوانو میں وہ دامن ہوں جو کانٹوں سے الجھ کر نکلا لٹ گیا منزل مقصد پہ پہنچ کر افسوس رہنما جس کو میں سمجھا تھا ستم گر نکلا ظلمت شب ہوئی کافور یکایک ساحلؔ مطلع صبح سے جب مہر منور نکلا

baais-e-raahat-e-dil meraa muqaddar niklaa

غزل · Ghazal

محفوظ نہیں ذوق ہوس دست فنا سے قدرت نے نوازا ہے محبت کو بقا سے ہر حرف مقدس ہے حقیقت کا محافظ منصور ہے معتوب انا الحق کی صدا سے ریشم کی طرح نرم ہے بے شک ترا لہجہ آئینۂ دل ٹوٹ گیا ضرب انا سے دزدیدہ نگاہی نے دکھایا یہ کرشمہ اچھا ہوا بیمار دوا سے نہ دعا سے تا عمر ستائے گی تجھے میری رفاقت ہے پختہ مرا رنگ لہو رنگ حنا سے جب عطر فشاں سیر گلستاں کو وہ آئے ساحلؔ مجھے بھیجا گیا پیغام صبا سے

mahfuz nahin zauq-e-havas dast-e-fanaa se

Similar Poets