samajhtaa huun vasila maghfirat kaa sharm-e-isyaan ko
ki ashkon se mire dhul jaaegaa daamaan-e-tar meraa

Mohammad Yusuf Rasikh
Mohammad Yusuf Rasikh
Mohammad Yusuf Rasikh
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
دنیا میں کوئی رنج سے بڑھ کر خوشی نہیں وہ بھی ہمیں نصیب کبھی ہے کبھی نہیں درد جگر کی تم پہ مصیبت پڑی نہیں تم تو کہو گے عشق کی منزل کڑی نہیں دشمن کی راہ روک کے بیٹھا ہوں آج میں دنیا کا راستہ ہے تمہاری گلی نہیں دشمن کی موت کا تمہیں کیوں کر نہ ہو ملال اک باوفا جہاں میں وہی تھا وہی نہیں شوخی کسی کی کھل گئی آخر کلیم پر کرنے کی تھی جو بات وہی ان سے کی نہیں قطروں کے لب پہ شور انالبحر ہے رواں تقلید کیا یہ حضرت منصور کی نہیں ایفائے عہد ہے کہ قیامت کا شور ہے تم کھل کے کہہ نہ دو کہ زباں ہم نے دی نہیں لیلیٰ نے خود قرار دیا ہے وفا کو جرم مجنوں نے وہ کتاب محبت پڑھی نہیں کٹنے کو کٹ رہی ہے برابر شب فراق جینے کو جی رہا ہوں مگر زندگی نہیں تم کو فریب غیر سے آگاہ کر دیا ورنہ مجھے کسی سے کوئی دشمنی نہیں روتا ہے بے ثباتیٔ گلزار دہر پر غنچہ کے لب پہ غور سے دیکھو ہنسی نہیں آنکھوں نے پھوٹ پھوٹ کے سب حال کہہ دیا عین وصال میں بھی یہاں خامشی نہیں پیر مغاں کے فیض سے روشن ہے مے کدہ ساغر کا جو مرید نہیں متقی نہیں آرام سے قفس میں گزاروں گا زندگی اچھا ہوا کہ طاقت پرواز ہی نہیں آتی ہے خاک طور سے اب تک یہی خدا دل کی لگی کا ذکر کوئی دل لگی نہیں عاشق کے دم سے حسن کی دنیا کو ہے فروغ بلبل نہیں تو رونق گلزار ہی نہیں دلبر کے انتخاب میں مجھ سے خطا ہوئی میرا قصور ہے یہ خطا آپ کی نہیں وحدت کا وہ سرور تھا ساقی کے جام میں پینے کو ہم نے پی ہے مگر بے خودی نہیں پوچھا تھا بے وفا تو نہ پایا رقیب کو میں نے بھی کس مزے سے کہا ہے کہ جی نہیں کھانے کو زخم ملتے ہیں پینے کو اشک ہیں روزی جہاں ہیں کیا مری تقدیر کی نہیں عاشق کے زخم دیکھ کے عیسیٰ نے کہہ دیا یہ تو نظر کی چوٹ ہے تلوار کی نہیں تشنہ لبوں کی جان ہے شمشیر آبدار خواہش انہیں تو کوثر و تسنیم کی نہیں جنبش ہوئی ہے دشنۂ غمزہ کو بے سبب اللہ خیر عالم اسباب کی نہیں جس سمت آنکھ اٹھتی ہے کشتوں کا ڈھیر ہے مقتل ہے عاشقوں کا تمہاری گلی نہیں جنت سے کچھ غرض ہے نہ دنیا سے واسطہ معشوق اپنا حور نہیں ہے پری نہیں خانہ خراب عشق کی حالت نہ پوچھئے کوئی بھی غم گسار بجز بیکسی نہیں انکار اب تو اس لب نازک سے ہو چکا پہلی سی شکل غنچۂ امید کی نہیں تو خانہ زاد زلف کو آزاد کیوں کرے میں تو ترا غلام ہوں میں آدمی نہیں حوروں کو بھیج کر مری حالت تو پوچھئے کنج مزار باعث دل بستگی نہیں اک ماہرو کی یاد نے چمکا دیا ہے دل سینہ ہے داغ داغ مگر تیرگی نہیں تاثیر آہ کی کبھی تم کو دکھائیں گے ہم ہیں تو گنبد فلک چنبری نہیں بارش ہی کو الٹ کے بنا دو نہ تم شراب تم کو ذرا مذاق ادب پروری نہیں روتا ہے کوئی دل کو کوئی اپنا جان کر ڈاکہ ہے لوٹ مار ہے یہ دلبری نہیں آنکھوں سے قتل کرتے ہو لب سے جلاتے ہو پھر یہ کمال کیا ہے جو افسوں گری نہیں طالب کی آنکھ کرتی ہے خیرہ شعاع حسن پردہ ہے اس کا نام یہ بے پردگی نہیں زمزم حرم سے آتا ہے راسخؔ کے واسطے وہ خانۂ خدا ہے وہاں کچھ کمی نہیں راسخؔ کسے سنائیں ہم اپنا بیان غم غالبؔ نہیں انیسؔ نہیں انوریؔ نہیں
duniyaa mein koi ranj se baDh kar khushi nahin
گھڑی بھر رنگ نکھرا صورت گلہائے تر میرا اسی ہستی پہ اس گلشن میں تھا یہ شور و شر میرا نظام بزم دنیا حشر کے میداں کا نقشہ ہے یہی ہے شامت عصیاں بھٹکنا در بدر میرا سمجھتا ہوں وسیلہ مغفرت کا شرم عصیاں کو کہ اشکوں سے مرے دھل جائے گا دامان تر میرا فضائے کعبۂ اطہر کا نقشہ آنکھ سے دیکھوں الٰہی اس ہوا میں خشک ہو دامان تر میرا در کعبہ پہ جب سجدے کئے آواز یہ آئی بتوں کی ٹھوکریں کھا کر تجھے سوجھا ہے گھر میرا نقاب حسن جب اٹھا تو آنکھیں کھل گئیں میری فروغ حسن تھا دم بھر کو مانند شرر میرا اسے پردہ میں رہ کر بھی خیال آتا ہے رہ رہ کر کہ راز افشا نہ کر دے خلق میں حسن بشر میرا گزر کر خانۂ دل سے بڑھوں کیوں طور کی جانب کہ برق حسن سے جلنے کو ہے موجود گھر میرا صنم قدموں پہ گرتے ہیں زبانیں بند رہتی ہیں بتوں پر رعب ہے اللہ اکبر اس قدر میرا محبت کی ہر اک منزل پہ صحرائے عدم نکلا خضر بھی ساتھ دے سکتے نہیں ہر گام پر میرا فرشتے بھی نہ سمجھے آج تک میری حقیقت کو کہ تاج اشرف مخلوق کی زینت ہے سر میرا زباں پر ذکر جاری تھا برابر حمد خالق کا ازل میں کام ٹھہرا مدحت خیر البشر میرا زبان شمع میں نے کاٹ لی ہے بد گماں ہو کر کہ راز افشا نہ کر دے صبح کو شمع سحر میرا مری ہستی سے پہلے کون سمجھا سر وحدت کو رہے گا تذکرہ دیر و حرم میں عمر بھر میرا وہ قطرہ ہوں کہ جس کی موج میں بحر حقیقت ہے وہ ذرہ ہوں کہ منہ تکتے ہیں خورشید و قمر میرا دل مجروح کی حالت پہ رحم آیا مسیحا کو دوا کے نام پر ہنسنے لگا زخم جگر میرا ذرا پینے تو دے ساقی شراب معرفت مجھ کو ادھر پھر جائے گا قبلہ بھی رخ ہوگا جدھر میرا صدائے کلمۃ الحق میں تری تحریک شامل ہے انا الحق کہتا ہے ہر قطرۂ خون جگر میرا یہی صورت ہے اب تقدیر کے چکر نکلنے کی الٰہی آستانہ ہو حرم کا اور سر میرا تجھے اے چرخ کیا معلوم رتبہ درد الفت کا کرے گا نام روشن خلق میں داغ جگر میرا تمنا ہے کہ راسخؔ حمد گوئی کے وسیلہ سے ریاض دہر میں نخل سخن ہو بار ور میرا
ghaDi bhar rang nikhraa surat-e-gul-haa-e-tar meraa
نہ مروت ہے نہ الفت نہ وفا میرے بعد میرا سرمایہ بھی دنیا سے اٹھا میرے بعد بزم ماتم ہی میں آ جاؤ ذرا میرے بعد چاہئے کچھ تو تمہیں پاس وفا میرے بعد شمع مدفن سے الجھتی ہے صبا میرے بعد کیسی بگڑی ہے زمانہ کی ہوا میرے بعد چرخ کم ظرف ہے سر گرم جفا میرے بعد اس کو مرقد بھی کھٹکتا ہے مرا میرے بعد کون لیتا تھا غم ارض و سما میرے بعد مرنے والا کوئی پیدا نہ ہوا میرے بعد ہائے پھر بھی نہ مٹا ان کی طبیعت کا غبار کر چکے خاک مری وقف صبا میرے بعد حسن کا دیکھنے والا کوئی باقی نہ رہا کس سے کرتے ہو تم اب شرم و حیا میرے بعد تم نے دو پھول تو مدفن پہ چڑھائے ہوتے تم سے اتنا بھی کبھی ہو نہ سکا میرے بعد ہو گیا قیس کو بھی عشق کا دعویٰ پیدا ایک افسانہ نیا تم نے سنا میرے بعد ہم نے دیکھا نہیں اس ظرف کا پینے والا شیشہ کرتا ہے یہ ساقی سے گلا میرے بعد میری ہستی سے قیامت کے اٹھے ہیں فتنے چھپ کے پردہ میں کوئی رہ نہ سکا میرے بعد زلف کھولے ہوئے روتے ہیں وہ پائین مزار جذب الفت نے بڑا کام کیا میرے بعد خاک تربت سے مری لوگ شفا پاتے ہیں مرض عشق کی نکلی ہے دوا میرے بعد اب وہ آرام کہاں غیر کے ویرانے میں شب فرقت ہے گرفتار بلا میرے بعد برق نے رکھا ہے دیرینہ تعلق قائم آشیانہ میں مرے پھول پڑا میرے بعد ٹکڑے ہوتا ہے جگر سن کے محبت کا بیاں کوئی سنتا نہیں بلبل کی صدا میرے بعد شیخ مکہ نے پڑھائی ہے جنازے کی نماز لوگ سمجھے مجھے کیا جانیے کیا میرے بعد کیوں بڑھے ان کا قدم گور غریباں کی طرف ہاتھ آیا ہے انہیں عذر حنا میرے بعد نو گرفتار بلا ایک مرا دم نکلا دام صیاد میں کوئی نہ پھنسا میرے بعد مجھ سے بدنام ہوئے شیشہ و جام و صہبا کیا کہے گی مجھے مخلوق خدا میرے بعد فاتحہ کون پڑھے قبر کو ٹھکراتے ہیں ان کو سوجھی ہے قیامت کی ادا میرے بعد ملک الموت سے الجھیں گے وہ یہ ڈر ہے مجھے دیکھیے کس پہ چلے تیغ ادا میرے بعد بے حجابانہ اٹھا دیجئے چہرہ سے نقاب اور اب کون ہے مشتاق لقا میرے بعد میرے پھولوں سے بھی دامن کو بچایا اس نے لوگ سمجھے ہیں تغافل کو حیا میرے بعد بوالہوس عشق کے پردے میں نمودار ہوئے اب کہاں شیوۂ تسلیم و رضا میرے بعد ذبح کے وقت بھی قاتل کو دعائیں دی ہیں قطرہ قطرہ سے ٹپکتی ہے وفا میرے بعد زلف کھولے ہوئے آئے ہو صف ماتم میں خوب سوجھا عمل رد بلا میرے بعد جان دیتے ہیں شہادت کی تمنا میں غریب لب قاتل پہ یہ جاری ہے صدا میرے بعد کاکل ساقیٔ کوثر کا تصور بن کر قبر پر آئی ہے رحمت کی گھٹا میرے بعد گفتگو رات یہ تھی حشر بپا کب ہوگا بڑھ کے راسخؔ نے سر بزم کہا میرے بعد
na muravvat hai na ulfat na vafaa mere baad
تارے کھلے ہوئے ہیں شب ماہتاب ہے معشوق ہم پیالہ ہے بزم شراب ہے یہ کیا ستم ہے وصل میں منہ پر نقاب ہے قربان اس حیا کے یہ کیسا حجاب ہے بیٹھے ہو میرے سامنے پہلو میں غیر کے پھر مجھ سے پوچھتے ہو تمہیں کیوں عتاب ہے یہ فیض ہے مرے عرق انفعال کا نار جحیم میرے لئے آب آب ہے تصویر غیر بھیج کے اس نے بلف خط عنواں یہ لکھ دیا ترے خط کا جواب ہے کیوں چھیڑتے ہیں مجھ کو نکیرین قبر میں جو سو رہا ہو اس کو جگانا عذاب ہے اس کے بھی مستحق نہیں اغیار نا بہ کار گالی بھی آپ دیں تو وہ در خوشاب ہے مجھ کو نہیں ہے شمع کی حاجت سر مزار میرا ہر ایک داغ جگر آفتاب ہے تم تو فروغ حسن میں بر خود غلط رہے میں نے نہ کہہ دیا تھا یہ دھوکہ ہے خواب ہے کعبہ جو اک بتوں کا پرانا مقام تھا زاہد وہاں کے شوق میں پادر رکاب ہے بھولے ہوئے ہو عہد جوانی پہ کس لئے اس سے تو پائیدار زیادہ حباب ہے رسوا مرے کئے سے نہ ہوگا وہ حشر میں اس کا شریک یہ دل خانہ خراب ہے پھندے میں پھنس گیا دل ناداں ہزار حیف کس کو خبر تھی زلف تمہاری طناب ہے کیوں تم نے میرے خط کے پرخچے اڑا دیئے ناراض ہو تو مجھ سے ہو مجھ پر عتاب ہے ہم کو نہیں ہے جس لب نازک سے فیض کچھ ہو وہ جو خوش نمائی میں برگ گلاب ہے مطرب نے راگ چھیڑا ہے آ کر شب فراق کیا دل خراش نغمۂ چنگ و رباب ہے راسخؔ ملا ہے اپنی ریاضت کا پھل مجھے نخل سخن جو آج مرا باریاب ہے
taare khile hue hain shab-e-maahtaab hai
رنج پر رنج مصیبت سی مصیبت دیکھی ہجر مولا میں یہ آرام کی صورت دیکھی محو دیدار رہے حشر میں عاشق تیرے آنکھ اٹھا کر نہ کبھی خلد کی صورت دیکھی لے لیا وعدۂ بخشش بھی دہائی کر کے شافع حشر کی امت سے محبت دیکھی آ گئی مجھ کو نظر غایت چشم مشتاق قبر میں آ کے محمد کی جو صورت دیکھی آزماتی ہے شب ہجر مجھے کیا ہمدم میں تو خوش ہوں کہ جدائی کی حقیقت دیکھی جلوہ کا وعدہ قیامت پہ کیا تھا موقوف آپ کے ہجر میں سو بار قیامت دیکھی خوش نصیبی ہے کہ میں اشرف مخلوق ہوا للہ الحمد غم عشق کی لذت دیکھی خار طیبہ کو گل خلد سے بڑھ کر سمجھے ہم نے ان کانٹوں میں وہ بوئے محبت دیکھی دور ساغر سے تو پہلے ہی نہ تھا ہوش مجھے میں نے ساقی کی نگاہوں میں کرامت دیکھی پردۂ حشر میں پوشیدہ رکھا اپنا جمال اس نے جب طالب دیدار کی کثرت دیکھی دختر رز کی نگاہوں سے بچائے اللہ آپ نے راسخؔ مے خوار کی حالت دیکھی
ranj par ranj musibat si musibat dekhi
نہ آتی تھی کہیں دل میں نظر آگ مگر پھر بھی جلی ہے رات بھر آگ کھلا ہے دل میں اک داغوں کا گلشن اگلتا ہے مرا زخم جگر آگ بلایا تھا مجھے بزم طرب میں لگا دی دل میں کیوں منہ پھیر کر آگ دکھایا طور پر موسیٰ کو جلوہ کہاں جا کر بنی ہے راہبر آگ یہ گریہ اور پھر آہ شرربار ترقی پر ادھر پانی ادھر آگ وہ میرا دل جلانا کھیل سمجھے کرے گی رفتہ رفتہ یہ اثر آگ شب غم اس قدر رویا ہے کوئی کہ ڈھونڈے بھی نہیں ملتی سحر آگ وہ دل پر ہاتھ رکھ کر گئے ہیں کہ اب جلنے نہ پائے رات بھر آگ زمانہ کو جلاتا ہے وہ ظالم نہ بن جائیں کہیں شمس و قمر آگ یہ کس کی سرد مہری کا اثر تھا نہ دیکھی طور پر بھی جلوہ گر آگ کروں کیا آہ سوزاں ہجر کی شب فرشتوں کے جلا دیتی ہے پر آگ یہ دشمن کا مکان اپنا ہی گھر ہے لگا دیں آپ بے خوف و خطر آگ دل سوزاں یہ کہہ دے چشم تر سے خدا کے واسطے ٹھنڈی نہ کر آگ حسد کی آگ میں جلتا ہے اب تک برستی ہے عدو کی قبر پر آگ وضو ہو جائیں گے زاہد کے ٹھنڈے بجھا دے گی کسی کی چشم تر آگ دل ناداں کو ہم سمجھا چکے تھے محبت آگ ہے اے بے خبر آگ سنا مضموں جواب خط کا راسخؔ اٹھا لایا کہیں سے نامہ بر آگ
na aati thi kahin dil mein nazar aag





