SHAWORDS
Moin Ahmed Aazad

Moin Ahmed Aazad

Moin Ahmed Aazad

Moin Ahmed Aazad

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

ab na taDpegaa khud se vaada kar

اب نہ تڑپے گا خود سے وعدہ کر غم کی وحشت سے استفادہ کر بھولنے کی انہیں یہ رکھ ترکیب خود کو مصروف کچھ زیادہ کر خود کو مضبوط کر چٹانوں سا اور لہجہ ذرا سا سادہ کر کوئے جاناں میں جا رہے ہیں لوگ قتل ہو جانے کا ارادہ کر تجھ کو تاریخ بھی تو یاد کرے کام کوئی تو بے ارادہ کر کتنی شائستگی سے جاتے ہو میری حسرت کو بے لبادہ کر تجھ کو آزادؔ کر دیا خود سے اپنے دل کو ذرا کشادہ کر

غزل · Ghazal

agarche husn kabhi ham pe teri zaat khule

اگرچہ حسن کبھی ہم پہ تیری ذات کھلے ہمارے سامنے اسرار کائنات کھلے یقیناً ایک دن اس پر گزر کے دیکھیں گے کبھی جو عرض تمنا کا پل صراط کھلے نہ جانے کتنے ہی دل منتظر کھڑے ہیں یہاں لبوں پہ اس کے دبی ہے ابھی جو بات کھلے کئی برس سے مقفل تھیں خواہشیں دل میں مخاطب آپ کے یہ باب خواہشات کھلے کوئی تو پختہ وسیلہ ہو میرے چارہ گر گرہ دلوں کی کھلے تو نہ بے ثبات کھلے میں چاہتا تھا کہ وہ دوڑ کر لپٹ جائے کبھی دکھے ہی نہیں اس کو میرے ہاتھ کھلے تمہارے حسن کی حرکت کوئی نہ ضائع ہو تمہاری زلف مری چشم ساتھ ساتھ کھلے غموں کی قید میں آزادؔ پھنس گیا ہوں میں کبھی تو کاش کوئی صورت نجات کھلے

غزل · Ghazal

hijr aur vaslaton mein uljhaa hai

ہجر اور وصلتوں میں الجھا ہے دل یہ کن الجھنوں میں الجھا ہے درد ہمدرد ڈھونڈھتا ہے مگر ہر کوئی مسئلوں میں الجھا ہے کچھ دنوں سے نظر نہیں آیا چاند کن بادلوں میں الجھا ہے ایک دل ہے مرا مگر یہ بھی آپ کی حسرتوں میں الجھا ہے اس کو فرصت نہیں کہ وہ میرے قتل کی سازشوں میں الجھا ہے غم خوشی کچھ نہیں سمجھتے ہیں تو بھی کیا بے حسوں میں الجھا ہے دیکھ کر کچھ سمجھ نہیں آتا کون کن کوششوں میں الجھا ہے ہر خوشی غم ہے آج شہروں میں اور دکھ بستیوں میں الجھا ہے اف یہ آزادؔ بھی ہے دیوانہ اپنے ہی قاتلوں میں الجھا ہے

غزل · Ghazal

agarche husn kabhi ham pe teri zaat khule

اگرچہ حسن کبھی ہم پہ تیری ذات کھلے ہمارے سامنے اسرار کائنات کھلے یقیناً ایک دن اس پر گزر کے دیکھیں گے کبھی جو ارض تمنا کا پل صراط کھلے نہ جانے کتنے ہی دل منتظر کھڑے ہیں یہاں لبوں پہ اس کے دبی ہے ابھی جو بات کھلے کئی برس سے مقفل تھیں خواہشیں دل میں مخاطب آپ کے یہ باب خواہشات کھلے کوئی تو پختہ وسیلہ ہو میرے چارہ گر گرہ دلوں کی کھلے تو نہ بے ثبات کھلے میں چاہتا تھا کہ وہ دوڑ کر لپٹ جائے کبھی دکھے ہی نہیں اس کو میرے ہاتھ کھلے تمہارے حسن کی حرکت کوئی نہ ضائع ہو تمہاری زلف مری چشم ساتھ ساتھ کھلے غموں کی قید میں آزادؔ پھنس گیا ہوں میں کبھی تو کاش کوئی صورت نجات کھلے

غزل · Ghazal

pankh katar kar mujh ko dilbar pheink diyaa

پنکھ کتر کر مجھ کو دلبر پھینک دیا عنبر سے دھرتی پہ لا کر پھینک دیا میں تو تھا آباد نشیمن پر تم نے زیست کو میری کر کے بنجر پھینک دیا اپنے آپ کو روشن کر کے پھر اس نے تیلی سا مجھ کو سلگا کر پھینک دیا جھولی پھیلائی پھولوں کی خواہش میں میری سمت اٹھا کر پتھر پھینک دیا پہلے پیار جتایا مجھ پر خوب اس نے پھر ظالم نے مجھ پر خنجر پھینک دیا آپ کی عزت کی خاطر دیکھو ہم نے اپنے سر کا تاج زمیں پر پھینک دیا

غزل · Ghazal

mandi mein mahngaa saamaan sanbhaale ham

مندی میں مہنگا سامان سنبھالے ہم بیٹھے ہیں دل میں ارمان سنبھالے ہم آنکھوں میں سیلاب کی گردش جاری ہے اور سینہ میں ہیں طوفان سنبھالے ہم ہونٹوں پر مسکان سجائے بیٹھے ہیں کتنے ہونٹوں کی مسکان سنبھالے ہم الفت کے بازار میں بیچی بینائی لوٹے ہیں پھر بھی نقصان سنبھالے ہم قصر مبارک ہو تم کو یہ خوشیوں کا اچھے سے ہیں دل ویران سنبھالے ہم مجبوری ہی بازی گر کی ہمت ہے رسی پر چلتے ہیں دھیان سنبھالے ہم مطلب کی اس دنیا میں بھی جیتے ہیں جیسے تیسے اپنی جان سنبھالے ہم زرد ہوئے پتوں کی قسمت کیا آخر ٹوٹ گئے شاخوں کا مان سنبھالے ہم اس کے کوچہ میں ہر شخص خدا تھا سو لوٹ آئے اپنے اوسان سنبھالے ہم مظلوموں کی چیخیں سنتے ہیں آزادؔ بہروں کی بستی میں کان سنبھالے ہم

Similar Poets