
Motee Ahmad Mujtaba
Motee Ahmad Mujtaba
Motee Ahmad Mujtaba
Ghazalغزل
mujhe zabaan zarurat thi ik sadaa ke liye
مجھے زبان ضرورت تھی اک صدا کے لیے کوئی نہ تھا مرے احباب میں وفا کے لیے میں تیرے ہجر میں ہی مر گیا تھا میری جاں یہ زندگی میں جیا ہوں فقط سزا کے لیے مجھے نہیں ہے ضرورت یہ عیش و عشرت اب تڑپ رہا ہے یہ دل بس تری ادا کے لیے ترا ہی نقش ابھرتا رہا لکیروں میں اٹھائے ہاتھ جو میں نے کبھی دعا کے لیے سمجھ نہیں مجھے آتا یہ فلسفہ احمدؔ کسی کے در پہ ہیں کیوں مانگتے خدا کے لیے
mil kar dil jab bad-dil hote jaate hain
مل کر دل جب بد دل ہوتے جاتے ہیں تب دن کافی مشکل ہوتے جاتے ہیں آ جاتا ہے ہم کو جینا بھی لیکن ہم مرنے کے قابل ہوتے جاتے ہیں اس کی ذات کے بھید مظاہر میں روشن جو سمجھیں وہ کامل ہوتے جاتے ہیں درد دل کے گھائل ہوتے جاتے ہیں آپ ہماری منزل ہوتے جاتے ہیں کوئی کوشش کر کے دیکھے تو احمدؔ آسانی سے حاصل ہوتے جاتے ہیں
DhunDte ho dil-e-figaar mein kyaa
ڈھونڈتے ہو دل فگار میں کیا ہو بھی سکتا ہے اس مزار میں کیا لفظ کرتے ہیں رقص چاروں طرف لکھتا رہتا ہوں میں خمار میں کیا مرتبے رفعتیں مقام اور نام اور ہوتا ہے انکسار میں کیا چند سانسوں کی مہلتوں کے عوض اس نے بخشا ہے انتظار میں کیا کس کی خوشبو مجھے بلاتی ہے کوئی مہکا مرے مدار میں کیا جن کی مٹی خزاں سے اٹھی ہو مل سکے گا انہیں بہار میں کیا چڑھ ہے کیوں اتحاد سے تم کو دوست برکت ہے انتشار میں کیا ڈاچی والے چلے گئے کب کے سر کھپاؤگے اب غبار میں کیا ساتھ لے کر نہیں گیا کچھ میں ڈھونڈتے ہو مرے مزار میں کیا رات ڈوبی ہے کیوں اندھیرے میں چاند نکلا نہیں دیار میں کیا
ik mohabbat thi jo thi tartib mein
اک محبت تھی جو تھی ترتیب میں ورنہ شے تھی کب کوئی ترتیب میں ہم تجھے کیسے بناتے ہم سفر ہم جیے تھے زندگی ترتیب میں موت کا کچھ ڈر نہیں ہوتا مجھے زندگی میری کٹی ترتیب میں اب تو اپنے عشق کا قصہ سنا داستاں اپنی تو تھی ترتیب میں دل سے اس کی یاد کو رخصت کرو تاکہ آئے زندگی ترتیب میں تاکہ اب اپنا نشیمن بن سکے خود کو لے آ تو کسی ترتیب میں وقت پر تاروں نے چھوڑا آسماں رات دن میں ڈھل گئی ترتیب میں نام تیرا اور مرا جوڑا گیا اور آئی ہر خوشی ترتیب میں چھوڑ احمدؔ اب یہ بے ترتیبیاں خود کو اب لے آ کسی ترتیب میں
mujhe bulaayaa to thaa zindagi ne main na milaa
مجھے بلایا تو تھا زندگی نے میں نہ ملا پکارا بھی تھا تری دوستی نے میں نہ ملا سراغ ملنے لگا تھا قدیم مدفن کا زمین کھول رہی تھی خزینے میں نہ ملا کبھی رلا بھی تھا کوئی مرے تعاقب میں نکل گئے تھے کسی کے پسینے میں نہ ملا نہ جانے کون سی دنیا میں جا کے بس گیا ہوں بہت تلاش کیا ہے کسی نے میں نہ ملا جو تیرے ہجر میں گم ہو گئے تھے کچھ رستے نشان ان کے بتائے تمہی نے میں نہ ملا
ik hasin dilkash mohabbat ham ne ki
اک حسیں دل کش محبت ہم نے کی یوں مکمل اک عبادت ہم نے کی عین سے ہے قاف تک کا جو سفر اس سفر میں طے مسافت ہم نے کی کیوں نہ سپنے میں ترا ہم نام لیں رات دن اس کی ریاضت ہم نے کی بے وفا کہہ کر ہمیں وہ چل دیا کب امانت میں خیانت ہم نے کی عشق کے آغاز میں کچھ یوں ہوا مقتدی وہ تھے امامت ہم نے کی وہ قیامت ہم قیامت مل گئے یوں قیامت پر قیامت ہم نے کی





