SHAWORDS
Mubashshir Saeed

Mubashshir Saeed

Mubashshir Saeed

Mubashshir Saeed

poet
19Ghazal

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

aa dekh miri aankhon mein ik baar mire yaar

آ دیکھ مری آنکھوں میں اک بار مرے یار روشن ہیں کسی ہجر کے آثار مرے یار لے جا تو رفاقت کے یہ پل وصل کا جنگل رہنے دے یہاں ہجر کے آزار مرے یار مل جائے جو مجھ ایسا کوئی مجھ کو بہت ہے جز اس کے نہیں کچھ مجھے درکار مرے یار اے قیس یہ کیا نجد کی وحشت کا اثر ہے اب خواب میں آتا ہے چمن زار مرے یار

غزل · Ghazal

dasht-e-hijraan se mohabbat ko nibhaate hue ham

دشت ہجراں سے محبت کو نبھاتے ہوئے ہم خاک ہوتے ہیں میاں خاک اڑاتے ہوئے ہم اک عجب عالم حیرت میں چلے جاتے ہیں تیری آواز میں آواز ملاتے ہوئے ہم صورت حال کو رنجور بنانے والے کیسے لگتے ہیں تجھے رنج مناتے ہوئے ہم صاحب کشف پرندوں کی کہانی کہہ کر سو گئے آپ درختوں کو سلاتے ہوئے ہم یاد ہے تجھ کو مری روح بساتے ہوئے شخص ہنستے رہتے تھے سدا باغ کو جاتے ہوئے ہم موسم سبز میں بے حال ہوئے جاتے ہیں اپنی آنکھوں سے ترے اشک بہاتے ہوئے ہم

غزل · Ghazal

zard mausam ki aziyyat bhi uThaane kaa nahin

زرد موسم کی اذیت بھی اٹھانے کا نہیں میں درختوں کی جگہ خود کو لگانے کا نہیں اب ترے ساتھ تعلق کی گزر گاہوں پر وقت مشکل ہے مگر ہاتھ چھڑانے کا نہیں قریۂ سبز سے آتی ہوئی پر کیف ہوا طاق پر رکھا مرا دیپ بجھانے کا نہیں صبر کا غازہ مرے عشق کی زینت ٹھہرا سو میں آنکھوں سے کوئی اشک بہانے کا نہیں چل رہا تھا تو سبھی لوگ مرے بازو تھے گر پڑا ہوں تو کوئی ہاتھ بڑھانے کا نہیں مجھ کو یہ میر تقی میرؔ بتاتے ہیں سعیدؔ عشق کرنا ہے مگر جان سے جانے کا نہیں

غزل · Ghazal

inkaar ki lazzat se na iqraar-e-junun se

انکار کی لذت سے نہ اقرار جنوں سے یہ ہجر کھلا مجھ پہ کسی اور فسوں سے یہ جان چلی جائے مگر آنچ نہ آئے آداب محبت پہ کسی حرف جنوں سے عجلت میں نہیں ہوگی تلاوت ترے رخ کی آ بیٹھ مرے پاس ذرا دیر سکوں سے اے یار کوئی بول محبت سے بھرا بول کیا سمجھوں بھلا میں تری ہاں سے تری ہوں سے دیوار کا سایہ تو مجھے مل نہیں پایا بیٹھا ہوں تری یاد میں اب لگ کے ستوں سے تجھ سے تو مری روح کا بندھن تھا مرے یار انجان رہا تو بھی مرے حال دروں سے

غزل · Ghazal

girya-zaari bhi karun shor machaaun main bhi

گریہ زاری بھی کروں شور مچاؤں میں بھی حالت حال پرندوں کو سناؤں میں بھی زندگی روز نیا روپ دکھاتی ہے مجھے عرصۂ جسم کبھی چھوڑ کے جاؤں میں بھی حضرت قیس اگر آپ اجازت دے دیں کبھی وحشت کے لیے دشت میں آؤں میں بھی سارے ماحول کو دے دوں کسی تعبیر کا وجد اپنی مستی میں کوئی خواب سناؤں میں بھی میں کوئی عشق کروں ہار کے جیتا ہوا عشق یعنی عشاق میں کچھ نام کماؤں میں بھی آج تنہائی کے منظر نے سجھایا ہے سعیدؔ موسم ہجر کی تصویر بناؤں میں بھی

غزل · Ghazal

jo rang-haa-e-rukh-e-dostaan samajhte the

جو رنگ ہائے رخ دوستاں سمجھتے تھے وہ ہم نفس بھی مرا دکھ کہاں سمجھتے تھے محبتوں میں کنارے نہیں ملا کرتے مگر یہ ڈوبنے والے کہاں سمجھتے تھے کھلا کہ چادر شب میں بھی وسعتیں ہیں کئی ذرا سی دھوپ کو ہم آسماں سمجھتے تھے خزاں کے عہد اسیری سے پیشتر طائر چمن میں موسم گل کی زباں سمجھتے تھے انہیں بھی دہر کی فرزانگی نہ راس آئی جو کار عشق کے سود و زیاں سمجھتے تھے کسی کا قرب قیامت سے کم نہیں تھا سعیدؔ فقط فراق کو ہم امتحاں سمجھتے تھے

Similar Poets