SHAWORDS
Mudassir Husain Mudassir

Mudassir Husain Mudassir

Mudassir Husain Mudassir

Mudassir Husain Mudassir

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

خبر کسے تھی کہ ایسا بھی امتحاں ہوگا جو حرز جاں ہے بنا وہ وبال جاں ہوگا میں اس لیے نہیں کہتا کسی سے اپنے راز کہ راز داں کا بھی کوئی تو راز داں ہوگا کبھی تو دے گا وہ اس گل تلک رسائی ہمیں کبھی تو ہم پہ بھی گلچیں وہ مہرباں ہوگا فریفتہ ہے ہمی پر یہ شمع محفل بھی ہوئے نہ ہم تو نہ یہ ذوق اور سماں ہوگا مراد دل جو مدثرؔ ابھی نہ بر آئی تو اس تڑپ کا ابھی اور امتحاں ہوگا

khabar kise thi ki aisaa bhi imtihaan hogaa

غزل · Ghazal

نصیب خستہ کی معراج و عید چاہتا ہوں میں اپنے چاند کی اک بار دید چاہتا ہوں تمام زخم دل اب ہو گئے پرانے سے اے مہرباں کوئی گھاؤ جدید چاہتا ہوں مریض عشق کو جو کھینچ لائے مرگھٹ سے مرے خدا کوئی ایسی امید چاہتا ہوں اسے سناؤں کہ وہ ظلم پھر کبھی نہ کرے ستم پہ شیخ جی ایسی وعید چاہتا ہوں ہے اک نگاہ کا تیری مجھے تو اب بھی خمار ترا کرم کوئی ایسا مزید چاہتا ہوں بہت ستایا ہے مخلوق نے تری یا رب سکون اب پئے حضرت فرید چاہتا ہوں

nasib-e-khasta ki me'raaj-o-'id chaahtaa huun

غزل · Ghazal

قدموں میں کل پڑا تھا عدو میرے سامنے کہتا ہے آج کچھ نہیں تو میرے سامنے ہمت تو دیکھ میری کہ ڈٹ کر کھڑا ہوں میں بکھرا ہے جبکہ میرا لہو میرے سامنے یہ آنکھیں شوق دید میں بے نور ہو چلیں نور نگاہ آ کبھی تو میرے سامنے ساقی تری نگاہ سے بے خود ہو جاؤں گا یونہی پڑا رہے گا سبو میرے سامنے یارو ستم گری کی بھی تب انتہا ہوئی تھاما جب اس نے دست عدو میرے سامنے

qadmon mein kal paDaa thaa 'adu mere saamne

غزل · Ghazal

جس بات کا کرے ہے دل اقرار صبح و شام لب پر مسلسل اس کا ہے انکار صبح و شام ہم یاد سے تری ہیں خبردار صبح و شام دل پھر بھی ہے ترا ہی طلب گار صبح و شام چلتی نہیں ہے سانس نکلتی نہیں ہے جان اپنے لیے تو زیست ہے آزار صبح و شام چھایا ہے ہم پہ کوئی عجب سا جنون یار کرتے ہیں اپنے آپ سے گفتار صبح و شام گھیرا ہے مجھ کو ضعف نے عہد شباب میں رہتا ہوں مدتوں سے میں بیمار صبح و شام آنکھوں کے گرد حلقوں کا میرے سبب نہ پوچھ رہتا ہوں غم میں اس کے میں بیدار صبح و شام ہوتا ہے وجہ اس کی مدثرؔ معاشرہ رہتا نہیں کوئی یونہی بیزار صبح و شام

jis baat kaa kare hai dil iqraar subh-o-shaam

غزل · Ghazal

ہوا جو ختم مرا سیم و زر گئے احباب اسی سبب مرے دل سے اتر گئے احباب یوں کاٹ دی مری شہ رگ مجھے خبر نہ ہوئی بڑے ہنر سے مرا قتل کر گئے احباب کبھی تھا وقت کہ تھی دوستی عزیز از جاں گزر گئی وہ صدی وہ گزر گئے احباب انہیں نکال دو دل سے رکھو نہ سوچ میں بھی مدثرؔ ایسے ہی سمجھو کہ مر گئے احباب

huaa jo khatm miraa sim-o-zar gae ahbaab

غزل · Ghazal

ڈسنے سے جن کے سانپ بھی جائے ہے جان سے زہریلے اس قدر ہیں کچھ انساں زبان سے بنتی نہیں بنائے مری خاندان سے گزرے ہے کیا ہر ایک اسی امتحان سے کیسے کرے یقین کسی اور پر وہ گل خطرہ جسے ہو شام و سحر باغبان سے لب کھولنے سے پہلے کرو خوب غور تم پھر تیر لوٹتا نہیں نکلا کمان سے کھینچی ہے میں نے اپنی خوشی یوں نصیب سے فرہاد جیسے نہر نکالے چٹان سے کردار میں عمل نظر آتا نہیں ترے کچھ بھی بدل نہ پائے گا اپنے بیان سے کوئی خوشی بھی لوٹ کر آئے کبھی یہاں نکلے کبھی تو غم کی نحوست مکان سے ہاتھوں سے اپنے دفن کیا ہے انہیں بھی یار ہوتے تھے جو قریب کبھی اپنی جان سے دنیا غلام عقل نہ سمجھی یہ مسئلہ مذہب پرے ہے عشق و وفا کا گمان سے شاید کہ دے سکون مدثرؔ ہمیں لحد ہم تھک گئے ہیں روز نئے امتحان سے

Dasne se jin ke saanp bhi jaae hai jaan se

Similar Poets