Mudassir Ishtiyaaq
Mudassir ishtiyaaq
Mudassir ishtiyaaq
Ghazalغزل
mizaaj-e-jahaan ke mutaabiq nahin main
مزاج جہاں کے مطابق نہیں میں برا تو ہوں لیکن منافق نہیں میں میں ہوں تیرگی کھوج لے روشنی تو بجھا سا ہوں اک دیپ شارق نہیں میں یہاں لوگ سارے ہی قیدی انا کے کسی طور ان کے موافق نہیں میں کوئی تو یہ پیغام دے آفتوں کو ذرا دل لگی سی تھی عاشق نہیں میں ہیں زندہ مرے پالے دشمن مدثرؔ خدایا ہے صد شکر رازق نہیں میں
mire to jo bhi aas-paas hai udaas hai
مرے تو جو بھی آس پاس ہے اداس ہے جو شخص بھی مرا قیاس ہے اداس ہے اداسی منسلک ہے تن بدن سے اس طرح یہ تن پہ میرے جو لباس ہے اداس ہے بدل گیا گلوں کا رنگ آ کے ٹھیلوں پہ جو آتی ان گلوں سے باس ہے اداس ہے بتا بتا کے تھک چکا اداسی کا سبب بلا وجہ ہی دل اداس ہے اداس ہے ذرا نظر گھما فقط اداس تو نہیں ہوا بھی آج بد حواس ہے اداس ہے ترے ملن سے پہلے شاد باش تھا یہ دل لگی جو دل کو تیری آس ہے اداس ہے کبھی تو آ کے گھوم جا مرا یہ دل نگر ذرا ترے ملن سے یاس ہے اداس ہے نصیب ہی مرا خفا ہے مجھ سے اس طرح جو ہر طرح سے مجھ کو راس ہے اداس ہے
ham aise muravvat ke sataae hue log
ہم ایسے مروت کے ستائے ہوئے لوگ دل توڑ گئے دل میں بسائے ہوئے لوگ اک پل میں محبت نے بنایا ہے فقیر چھینے ہیں محبت نے کمائے ہوئے لوگ شاید ہی ملن کی دے اجازت یہ ضمیر کب دل کو لگے لوٹ کے آئے ہوئے لوگ سمجھے وہ بھی دعوت کو محبت کا پیام مجبوری سے محفل میں بلائے ہوئے لوگ رہتے ہیں سدا بن کے وہ عبرت کا نشاں کم بخت محبت کے جلائے ہوئے لوگ پتھر کو ہی حاصل ہے محبت سے نجات بہتر ہیں یہ پتھر کے بنائے ہوئے لوگ کرتے ہیں مدثرؔ وہ محبت سے گریز اک بار محبت کے گنوائے ہوئے لوگ
kisi tarah se ghiraa main kuchh bad-duaaon mein huun
کسی طرح سے گھرا میں کچھ بد دعاؤں میں ہوں مجھے ضرورت ہے دھوپ کی اور میں چھاؤں میں ہوں بروں سے میری فقط سزا میں مشابہت ہے گناہ ناکردہ کی پھنسا میں سزاؤں میں ہوں کوئی سمجھ پائے میری الجھن تو حل بتائے جڑا ہوں شہر فتن سے الجھا میں گاؤں میں ہوں کبھی جو میری مسافتوں کا حساب کرنا شمار کرنا رکا میں کتنا سراؤں میں ہوں میں گم شدہ ہوں ترا منادی نے ہے بتایا مجھے خوشی ہے ابھی میں تیری صداؤں میں ہوں وفا کی راہوں میں بچھ گیا تھا میں تیری خاطر شمار ہونے لگا میں کیوں بے وفاؤں میں ہوں جنہوں نے پلکوں پہ تھا بٹھانا مجھے مدثرؔ دبا ہوا آج کل انہی کے میں پاؤں میں ہوں
dard-e-dil se ho kinaara ab hai mushkil
درد دل سے ہو کنارہ اب ہے مشکل بات اس کی ہو گوارہ اب ہے مشکل سچ ہے اک مدت سے تنہا جی رہے ہیں بن ترے جینا ہمارا اب ہے مشکل موت کی ہے بد دعا یہ غم جدائی ساتھ چل کر ہو گزارا اب ہے مشکل عشق کو حالات لے آئے یہاں تک عشق میں کوئی خسارہ اب ہے مشکل سوچ کی تحریر لیتا تھا کبھی پڑھ پیار کا سمجھے اشارہ اب ہے مشکل چشم تر ہوتی محبت میں ہے ساگر بہتے اشکوں کا فوارہ اب ہے مشکل چوٹ سینے پہ لگاتے ہو مدثرؔ عشق تم سے ہو دوبارہ اب ہے مشکل
samajhtaa hai kaun gham ko sahte betaab kaa dukh
سمجھتا ہے کون غم کو سہتے بیتاب کا دکھ شباب کو کھا گیا ہے ڈھلتے شباب کا دکھ ضمیر در در پہ جا کے چاہے دے جتنی دستک کوئی نہیں سنتا کھول کے در جناب کا دکھ نظر تو دل کش ہیں آتے سارے نظارے لیکن سمجھتی ہیں بہتی آنکھیں بہتے چناب کا دکھ کتاب کا رتبہ اب تو پاپوش کو ہے حاصل سڑک کنارے مجھے ہے بکتی کتاب کا دکھ بگاڑ کے مجھ کو من ہے مائل نجات کو اب لگا ہے من پاپی کو گناہ و ثواب کا دکھ کہیں تو دل میں یہ حال ڈالے خیال کل کا کہیں اسے ماضی کی ہے حالت خراب کا دکھ پہاڑ ٹوٹا نہ آسماں ہی گرا مدثرؔ سراب گر ہی بتا رہا تھا سراب کا دکھ





