
Muhammad Rashid Athar
Muhammad Rashid Athar
Muhammad Rashid Athar
Ghazalغزل
فقط یوں ہی تو نہیں ناز آفریں ہے وہ مری نگاہ سے دیکھو بہت حسیں ہے وہ ہے مثل عقدہ مری ذات سے وہ پیوستہ جہاں جہاں میں نہیں ہوں وہیں وہیں ہے وہ تم اس کے رنگ رخ و لب کی بات کرتے ہو خود اپنی آتش تیور سے آتشیں ہے وہ کبھی نہ سرد ہوا میری ذات کا دوزخ کسی نے سچ ہی کہا ہے جہنمیں ہے وہ ہے اس اثر سے ہی خوں ریز چشم ناز اس کی کہ مدتوں سے رگوں میں پنہ گزیں ہے وہ وہ کیسے آئنۂ انہماک میں آئے کہ لمحہ بھر کو بھی مجھ سے جدا نہیں ہے وہ جب اس کو دیکھ کے آتا ہے یاد رب مجھ کو تو کیوں کہوں کہ حریف خدا و دیں ہے وہ وہ جس طرح نظر انداز کر رہا ہے مجھے تو لگ رہا ہے کہ غافل ذرا نہیں ہے وہ مٹا چکا ہوں سبھی نقش اس کے قدموں کے مگر یہ وہم ہے اب بھی یہیں کہیں ہے وہ
faqat yunhi to nahin naaz-aafrin hai vo
مرے کردار کے روشن حوالے آپ رکھ لیجے مجھے دے کر خوشی میرے یہ نالے آپ رکھ لیجے مرے اشکوں سے تر یہ چند اوراق تمنا ہیں یہ مجھ سے تو نہیں جاتے سنبھالے آپ رکھ لیجے اگر مجنوں ہمیں رہنا ہے تو لیلیٰ بھی کوئی ہو مسافت ہم رکھیں پاؤں کے چھالے آپ رکھ لیجے ہمارے نام سے ہی فال کا آغاز کیجے گا پرندہ جو بھی پھر قرعہ نکالے آپ رکھ لیجئے ہمیں جل جانے ہی دیجے کہ ہم جل کر ہی روشن ہیں اندھیرے ہم سمیٹیں گے اجالے آپ رکھ لیجے یہ دنیا کی چمک یہ درد دل یہ بے خودی میری نہ جانے کب مجھے اپنا بنا لے آپ رکھ لیجئے مجھے سچ کہنے دیجے میری فطرت کا تقاضا ہے زباں پر مہر اور ہونٹوں پہ تالے آپ رکھ لیجے
mire kirdaar ke raushan havaale aap rakh liije
عاقبت نا شناس ہوں اور ہوں غم یہ ہے بے لباس ہوں اور ہوں تو زمانہ شناس تھا اور تھا میں محبت شناس ہوں اور ہوں تو بہت دور تھا اور آج نہیں میں ترے آس پاس ہوں اور ہوں لوگ مایوس ہو کے جا بھی چکے اور میں کب سے اداس ہوں اور ہوں لہر ہوتا تو بن کے مٹ جاتا میں کنارے کی گھاس ہوں اور ہوں سارا مضمون کون پڑھتا ہے میں تو بس اقتباس ہوں اور ہوں میرے ہونے کی صورتیں کیا ہیں میں فقط اپنا ماس ہوں اور ہوں بندگی مجھ کو راس ہو کہ نہ ہو میں خدائی کو راس ہوں اور ہوں مجھ پہ اک بوجھا ہے دوئی میری اپنے ہونے کی پیاس ہوں اور ہوں
aaqibat naa-shanaas huun aur huun
آخری وار کر رہا ہوں میں اپنا انکار کر رہا ہوں میں آڑ اپنے ہی جسم کی لے کر روح کو تار کر رہا ہوں میں اپنے دکھ بانٹ کر زمانے میں کتنا ایثار کر رہا ہوں میں ہے محبت بھی کار فن کہ جسے دل سے ہر بار کر رہا ہوں میں کس مہارت سے اس ڈرامے میں اپنا کردار کر رہا ہوں میں تیر کھانے سے اس کے اس فن میں اس کو فن کار کر رہا ہوں میں کچھ تو بیمار ہے وہ پہلے سے اور بیمار کر رہا ہوں میں دوست احباب کیوں خجل ہیں آج ذکر اغیار کر رہا ہوں میں میں اگر جا چکا تو پھر کس سے اب بھی تکرار کر رہا ہوں میں اپنی ناکامی کی دعا کر کے مرضی یاد کر رہا ہوں میں خود ہی تعمیر کر کے بت اپنا خود ہی مسمار کر رہا ہوں میں اک نہ اک شے ہر عمر میں اب بھی بے سروکار کر رہا ہوں میں کوئی تو مجھ سے ہار کر جیتے سب سے ہی ہار کر رہا ہوں میں جانے کس عہد کے لیے راشدؔ اس کو تیار کر رہا ہوں میں
aakhiri vaar kar rahaa huun main
ہے آج مجھ پر عتاب ایسا کہ جیت کر ہار چن رہا ہوں میں اپنے ہر سمت دور تک صرف خار ہی خار چن رہا ہوں ہوں خواب زندہ تو ذہن انسان ان کی تعبیر مانگتا ہے میں اس لیے اپنے سارے خوابوں کو بین دیوار چن رہا ہوں عدو سے میں بے خبر نہیں ہوں جواب میں بھی ضرور دوں گا میں اس کا ہر وار جھیل کر سب سے کارگر وار چن رہا ہوں یہ میرا منشور تو نہیں ہے میں اپنے دشمن کو بھی سزا دوں مرے الٰہی میں کیوں قلم چھوڑ کر یہ ہتھیار چن رہا ہوں میں اہل مغرب کا منتظر ہوں خدا انہیں کامیاب کر دے وہ جلد مرہم تلاش کر لیں میں اپنے بیمار چن رہا ہوں یہ راہ حق پر جو گامزن ہیں لگا چکے ہیں سروں کی بازی جو سر سلامت رکھے ہوئے ہیں انہیں کو سردار چن رہا ہوں مرے نمو سے جو یہ تغیر ہے مجھ میں یہ بھی کمال رب ہے میں رب کی عظمت کے ہی تناظر میں کوئی شہکار چن رہا ہوں ہے کوئی بولی لگانے والا خرید لے جو ضمیر میرا میں ایک ہی خوش نصیب تاجر ہوں جو خریدار چن رہا ہوں ابھی اشارا ہوا ہے مجھ کو کہ ساتھ میرے ہوں چند رفقا سو واپسی کا ہے در کھلا ہے میں بس وفادار چن رہا ہوں
hai aaj mujh par itaab aisaa ki jiit kar haar chun rahaa huun
تیری چاہت میں کمی کیسے گوارا کر لیں عشق روزی تو نہیں ہے کہ گزارا کر لیں منفعت چاہے تو الفت کو تجارت نہ بنا جانتے بوجھتے ہم کیسے خسارا کر لیں تو ہواؤں کے جھپٹے میں نہ آیا ہو کہیں دو گھڑی ٹھہر جا تیرا بھی اتارا کر لیں تیرے وعدوں پہ یقیں ہو تو اسی آس سے ہم جسم کو راکھ کریں روح کو پارہ کر لیں غیر سے بھی وہ مخاطب ہیں تو امید سی ہے بات ہم سے نہ سہی ذکر ہمارا کر لیں کیسے برداشت کریں غیر کی تجھ پر تنقید خود بھی شاکی ہوں تو خود سے بھی کنارا کر لیں ہم سے غافل نہیں رہتے کبھی طوفاں کہ کہیں ڈوبتے ڈوبتے تنکے کو سہارا کر لیں ہوئی متروک وفا عام ہوئی بو الہوسی عقل کہتی ہے کہ ہم بھی کوئی چارہ کر لیں
teri chaahat mein kami kaise gavaaraa kar lein





