SHAWORDS
Mujtaba Shahroz

Mujtaba Shahroz

Mujtaba Shahroz

Mujtaba Shahroz

poet
16Ghazal

Ghazalغزل

See all 16
غزل · Ghazal

achchhaa kiyaa thaa tum ne jhaTak kar hamaaraa haath

اچھا کیا تھا تم نے جھٹک کر ہمارا ہاتھ ورنہ پکڑتا کون لپک کر ہمارا ہاتھ اس نے ذرا سا ہاتھ پہ کیا ہاتھ رکھ دیا سینے میں آ گیا تھا دھڑک کر ہمارا ہاتھ محفل میں اور بھی تھے کئی آشنا مگر پکڑا تھا آپ ہی نے سسک کر ہمارا ہاتھ جس ہاتھ کو ہماری ہی قیمت نہیں پتا اس ہاتھ میں گیا ہے بھٹک کر ہمارا ہاتھ اس گل بدن کے لمس کا ہے یہ کمال کہ گلدان ہو گیا ہے مہک کر ہمارا ہاتھ

غزل · Ghazal

manzilein chhin liin anjaan saa rasta de kar

منزلیں چھین لیں انجان سا رستہ دے کر ہم کو جنت سے نکالا گیا دنیا دے کر جانے والے کا جنازہ تھا جنازہ میرا خود کو دفنا دیا میں نے اسے کاندھا دے کر اب یہ بتلاؤ کہ نخرے بھی اٹھا پاؤ گے گھر تو لے آئے اسے عشق کا جھانسہ دے کر میں نے افواج کی نیندوں میں خلل ڈالا ہے اپنی شمشیر کو میدان میں بوسہ دے کر آج وہ لوگ مرے سر پہ کھڑے ہیں جن کو میں نے پالا تھا کبھی دھوپ میں سایہ دے کر

غزل · Ghazal

gar tire ghar Thahar gae hote

گر ترے گھر ٹھہر گئے ہوتے پھر کبھی ہم نہ گھر گئے ہوتے وہ اگر خود سمیٹنے آتا ہم زیادہ بکھر گئے ہوتے دشت میں بھی اگر نہ ملتی جگہ سوچیے پھر کدھر گئے ہوتے چار کاندھے نہیں ملے ہم کو ورنہ ہم لوگ مر گئے ہوتے اس جدائی سے لاکھ بہتر تھا تم مجھے مار کر گئے ہوتے

غزل · Ghazal

de rihaai mujhe is haalat-e-yaktaai se

دے رہائی مجھے اس حالت یکتائی سے تھک چکا ہوں میں شب و روز کی تنہائی سے تم بھی کہتے ہو مرا زخم دوا والا ہے تم تو واقف ہو مرے زخم کی گہرائی سے میں محبت میں دکھاوا نہیں کرنے والا جیتنا ہے مجھے اس شخص کو سچائی سے اس مراسم کو خد و خال ضروری تو نہیں ہم شناسا ہیں مری جان شناسائی سے وہ ہے دنیا کا طلب گار تم اس کے شہروزؔ دل لگایا تو لگایا کسی ہرجائی سے

غزل · Ghazal

mujh ko maa'lum na the pyaas ke maa'ni pahle

مجھ کو معلوم نہ تھے پیاس کے معنی پہلے چل کے آتا تھا مرے پاس میں پانی پہلے اب یہ عالم کے عدالت میں چلے جاتے ہیں بانٹی جاتی تھی وراثت بھی زبانی پہلے اب تو بچوں کو بھی دیکھوں تو جواں لگتے ہیں بعد اک عمر کے آتی تھی جوانی پہلے کوچۂ یار سے صحرا میں چلے آئے ہیں ہم کو آتی نہ تھی یہ نقل مکانی پہلے

غزل · Ghazal

hijr mein ashk bahaane se bhalaa kyaa hogaa

ہجر میں اشک بہانے سے بھلا کیا ہوگا اے مرے دل یہ بتا تجھ سے نیا کیا ہوگا میں نے اک عمر اسی ڈر میں گزاری ہے کہ وہ گر مرا ہو نہیں پایا تو مرا کیا ہوگا ایسے چہرے ہیں کہ میں ہوش گنوا دیتا ہوں بندے ایسے ہیں تو پھر سوچ خدا کیا ہوگا مجھ کو دنیا نہ ملی تو نہ ملا کچھ نہ ملا اب مرے ساتھ بتا اور برا کیا ہوگا

Similar Poets