SHAWORDS
Mukesh Indori

Mukesh Indori

Mukesh Indori

Mukesh Indori

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

sukun-parvar nigaahon ke sahaare chhin leti hai

سکوں پرور نگاہوں کے سہارے چھین لیتی ہے سونامی جب بھی آتی ہے کنارے چھین لیتی ہے ہنسی بھی چھین لیتی ہے خوشی بھی چھین جاتی ہے بگڑ جاتی ہے قسمت تو ستارے چھین لیتی ہے مصیبت جب بھی آتی ہے تو آنسو لے کے آتی ہے لبوں سے مسکراہٹ کے نظارے چھین لیتی ہے کوئی ہوتا نہیں ہے پوچھنے والا یہ قسمت تو غریبوں میں ہمارے سب سہارے چھین لیتی ہے وداع ہو کر چلی جاتی ہیں جب بھی بیٹیاں گھر سے تو پھر ماں باپ کی آنکھوں کے تارے چھین لیتی ہے پتا کو ناز تھا جس پر وہی اولاد پھر اک دن یقیں بھی توڑ دیتی ہے سہارے چھین لیتی ہے بہاریں جب کبھی گلشن سے اپنے روٹھ جاتی ہیں سبھی گلشن سے وہ رنگیں نظارے چھین لیتی ہے مقدر کو بگڑتے دیر لگتی ہی نہیں اندوریؔ کسی کی بد دعائیں سب بہاریں چھین لیتی ہیں

غزل · Ghazal

lazzat-e-dard-e-jigar dost baDhaa detaa hai

لذت درد جگر دوست بڑھا دیتا ہے زخم رستا ہے تو کچھ اور مزہ دیتا ہے میرے زخموں پہ نمک روز چھڑک دیتا ہے جانے کس جرم کی وہ مجھ کو سزا دیتا ہے تلخ باتوں سے مرے دل کو دکھاتا ہے روز میرا ہو کے مرے زخموں کو ہوا دیتا ہے رنگ بیٹا بھی بدل لیتا ہے گرگٹ کی طرح وقت پڑنے پہ ہمیشہ وہ دغا دیتا ہے جب بھی بے پردہ تصور میں چلا آتا ہے میری نظروں میں کوئی خواب سجا دیتا ہے آگ سینے میں محبت کی سلگ جاتی ہے وہ نگاہوں سے مجھے جب بھی پلا دیتا ہے ڈوب جاتا ہے سر شام وہ سورج تو مگر خواہشیں رات کے سینے میں دبا دیتا ہے تیرے آنے کی تمنا میں ہی رہتا ہے مکیشؔ تیری راہوں میں یہ پلکوں کو بچھا دیتا ہے

غزل · Ghazal

andheron ki hukumat ko miTaa kar apne ghar aayaa

اندھیروں کی حکومت کو مٹا کر اپنے گھر آیا سویرے جیسے ہی آنکھیں کھلی سورج نظر آیا گیا متھرا بنارس اور کعبہ ہر جگہ لیکن ملا دل کو سکوں جب لوٹ کر میں اپنے گھر آیا پڑی ہے مار جب سے وقت کی ڈرنے لگا ہوں میں چڑھا تھا جو جوانی کا نشہ پل میں اتر آیا کئی کانٹے بچھائے دوستوں نے راہ میں میری انہیں چن کر انہیں راہوں سے میں ثابت گزر آیا اکیلا لڑ رہا ہوں زندگی کی جنگ بچپن سے بلا کی بھیڑ ہے کوئی نہیں اپنا نظر آیا گھروں میں قید ہو کر رہ گئی ہے زندگی سب کی زمانے کی فضا میں دوست کیسا یہ اثر آیا زمانے والے تو کہتے رہیں گے کہنے دو ان کو ہمیشہ مارے ہیں پتھر نظر جو بھی شجر آیا دعاؤں کا اثر ہے میرے پرکھوں کی یہ اندوریؔ ہمیشہ دشمنوں کے گھر میں ان کے پر کتر آیا

غزل · Ghazal

banda-parvar aap ki to zindagi aabaad hai

بندہ پرور آپ کی تو زندگی آباد ہے آپ کو اس سے غرض کیا گر کوئی برباد ہے ہے اجازت آپ تو مشک ستم فرمائیے ہم غریبوں کا کلیجہ با خدا فولاد ہے اپنا اپنا ہے مقدر اپنا اپنا ہے نصیب ہے کوئی آباد دنیا میں کوئی برباد ہے خون انساں کا بہاتے ہیں جو پانی کی طرح ایسے لوگوں کی بدولت گلستاں برباد ہے کس قدر مشکل ہے کھل کر سانس لینا بھی یہاں صرف کہنے کے لیے اپنا وطن آزاد ہے نوجواں ہاتھوں میں ہے اس ملک کی تقدیر اب نوجواں ہاتھوں کے دم سے ملک یہ آباد ہے تتلیوں کے پیچھے پیچھے دوڑنا وہ ہر طرف آج تک ہم کو لڑکپن کا زمانہ یاد ہے کس قدر رنگی زمانہ تھا وہ بچپن کا مکیشؔ کچھ تمہیں بھی یاد ہوگا کچھ مجھے بھی یاد ہے

غزل · Ghazal

jurm-e-vafaa ki khuub sazaa de gayaa mujhe

جرم وفا کی خوب سزا دے گیا مجھے اک لمبی زندگی کی دعا دے گیا مجھے زخموں پہ میرے اس نے نمک تک چھڑک دیا درد جگر کی خوب دوا دے گیا مجھے آنکھوں میں اشک میری وہ بھر کر چلا گیا میری وفا کا خوب صلہ دے گیا مجھے اس نے سکون کب مجھے بخشا ہے آج تک بھولی تسلیوں کا نشہ دے گیا مجھے جس کو بھی دوست میں نے شریک سفر کیا ہر اک قدم پہ وہ ہی دغا دے گیا مجھے اے دوست راہ چلتے ملا جو فقیر آج وہ میری زندگی کا پتا دے گیا مجھے آنکھوں میں اشک سینے میں رہنے لگا تھا درد سن لی خدا نے آج قضا دے گیا مجھے میں نے حیات جس کی سنواری تھی اے مکیش وہ ہی غموں کی گرم ہوا دے گیا مجھے

غزل · Ghazal

kise khabar thi labon se hansi bhi chhinegaa

کسے خبر تھی لبوں سے ہنسی بھی چھینے گا زمانہ ہم سے ہماری خوشی بھی چھینے گا سہارا کون غریبوں کو دوست دیتا ہے غریب کی تو کوئی جھونپڑی بھی چھینے گا اسی کے دم سے ہے قائم نظام سانسوں کا یہ زندگی ہے اسی کی کبھی بھی چھینے گا یہ بات سن کے تعجب سا ہو رہا ہے ہمیں کبھی کسی کی کوئی زندگی بھی چھینے گا لگا دے شوق سے کوئی قلم پہ پابندی ہے کس میں دم جو مری شاعری بھی چھینے گا ہے سادگی تو ازل سے ہی میری فطرت میں وہ کون ہے جو مری سادگی بھی چھینے گا چمن میں شعلہ جو نفرت کا اٹھ رہا ہے یہاں ہنسی گلوں کی وہی تازگی بھی چھینے گا اندھیرے جس کو مقدر نے دے دئے ہیں مکیشؔ وہ سوچتا ہے مری روشنی بھی چھینے گا

Similar Poets