
Munazza Sahar
Munazza Sahar
Munazza Sahar
Ghazalغزل
تصور کہکشاں ہوتا نہیں ہے تو اب مجھ سے بیاں ہوتا نہیں ہے تڑپ میری جبیں کی بڑھ گئی ہے مگر تو آستاں ہوتا نہیں ہے مری قسمت میں ہے جلتا ستارہ بکھر کے جو دھواں ہوتا نہیں ہے مری سانسوں میں تو اٹکا ہوا ہے طبیعت میں رواں ہوتا نہیں ہے خوشی اب بھی مجھے ہوتی ہے لیکن وہ پہلا سا سماں ہوتا نہیں ہے وہ دریا ہے جہاں اک بار گزرے وہ رستہ بے نشاں ہوتا نہیں ہے میں اس کے ساتھ چلتی جا رہی ہوں جو میرا کارواں ہوتا نہیں ہے تجھے اشکوں میں میں کیسے بہا دوں تو مجھ سے رائیگاں ہوتا نہیں ہے مرے لفظوں میں ہے ظاہر مگر تو نگاہوں سے عیاں ہوتا نہیں ہے
tasavvur kahkashaan hotaa nahin hai
جو اشک آنکھوں میں تھم گئے ہیں ترے تصور میں جم گئے ہیں جو تو مسیحا بنا ہے میرا کدھر نہ جانے یہ غم گئے ہیں کھڑے ہیں پاؤں پہ اپنے ہم تو جہاں سہارے تھے کم گئے ہیں جو تیری محفل میں ہنستے آئے وہ لے کے آنکھوں کو نم گئے ہیں کبھی نہ لوٹایا اس نے خالی جو لے کے دامن یہ ہم گئے ہیں
jo ashk aankhon mein tham gae hain
مقام گریہ و زاری نہیں ہے تکلم عشق پہ بھاری نہیں ہے یہ سوچیں اس سے مل کر کھل اٹھی ہیں کوئی الہام تو جاری نہیں ہے تمہاری مسکراہٹ میں چھپی سی کہانی ہے مگر ساری نہیں ہے ترے لہجے سے اکثر پھوٹتی تھی وہ خوشبو آج بھی ہاری نہیں ہے سکوت شب کی کیا بتلائیں تم کو کہ اس سے شے کوئی بھاری نہیں ہے
maqaam-e-girya-o-zaari nahin hai
دنیا کی آب و تاب سے آگے چلے گئے ہم عشق کے عذاب سے آگے چلے گئے آنکھوں نے لکھ لیے ہیں فسانے امید کے آنسو فصیل آب سے آگے چلے گئے اس نے قبولیت کی سند جب سے دی مجھے سب حرف اس کتاب سے آگے چلے گئے جب خوشبوؤں کے در پہ ہوئی روشنی تو ہم گلشن کے ہر گلاب سے آگے چلے گئے خاموشیوں کی جب سے سمجھنے لگے زباں لفظوں کے اضطراب سے آگے چلے گئے آنکھیں چمک اٹھی ہیں جو روشن خیال سے دیوانگی کے خواب سے آگے چلے گئے
duniyaa ki aab-o-taab se aage chale gae
خیال ہجر میں اب جو بھی سانحہ ہوگا وہی تو پھر سے نیا ایک سلسلہ ہوگا کسے خبر تھی کہ اس روشنی کی چادر میں ہمارا عشق میں پھولوں سے رابطہ ہوگا امیر شہر کو پیغام مل بھی جائے تو غریب شہر کا کوئی نہ آسرا ہوگا نئے افق سے گریزاں نہ ہو مرے ہمدم پرانی سوچ سے اب یہ نہ فیصلہ ہوگا خدا کا شکر دعائیں جو رنگ لائی ہیں لکھوں گی لفظ میں جو بھی وہ برملا ہوگا سنیں گے لوگ یہ جب بھی مری کہانی کو حصار ذات کے قیدی کا ماجرا ہوگا عجیب حال ہے اندر کی خلفشاری کا کسے خبر تھی کہ ایسا یہ حادثہ ہوگا
khayaal-e-hijr mein ab jo bhi saaneha hogaa
دل کی دہلیز تلک خود کو رسائی دے گا مرا لہجہ مرے شعروں میں سنائی دے گا میرا ہونا ہے ہوا جس کی بدولت ممکن اب وہ چہرہ مری آنکھوں میں دکھائی دے گا میں نے آنکھوں سے تجھے دور کیا تھا لیکن یہ نہ سوچا تھا خدا ایسی جدائی دے گا اور زرخیز کرے گا یہ مرے لفظوں کو ہجر یکتا ہے تو یکتا ہی کمائی دے گا دیکھ کر دشت کے تیور میں یہی سوچتی ہوں عشق ابھی اور مجھے آبلہ پائی دے گا میں نے اس دل کو دھڑکنے سے ہے روکا ورنہ تو سمجھتا ہے تجھے کوئی دہائی دے گا
dil ki dahliz talak khud ko rasaai degaa





