
Muneer Anjum
Muneer Anjum
Muneer Anjum
Ghazalغزل
آپ لوگوں نے جو یہ حشر اٹھایا ہوا ہے اس کا مطلب وہ مرے شہر میں آیا ہوا ہے اس طرح آنکھ ملا کے مجھے گمراہ نہ کر تو نے یہ شعر تو پہلے بھی سنایا ہوا ہے پہلے خوش باش تھا وہ ترک تعلق کر کے اب مجھے مانگنے دربار پہ آیا ہوا ہے ایسے انکار نہ کر میرا بھرم ہی رکھ لے میں نے لوگوں کو ترے بارے بتایا ہوا ہے اس نے آنا ہے تو ملنا ہی نہیں اس سے منیرؔ سازشی دل نے مرا ذہن بنایا ہوا ہے
aap logon ne jo ye hashr uThaayaa huaa hai
آئیں گے راہ عشق میں کچھ حادثات اور دل مجھ سے کہہ رہا ہے ذرا احتیاط اور بچوں سے پھر کہا ہے کہ گاڑی نہیں ملی بچوں سے پھر کہا ہے کہ بس ایک رات اور پہلے بھی تیرے جود و کرم سے عطا ہوئی اے شاہ ممکنات مجھے ایک نعت اور وہ بات چیت عشق پہ کرتا تو ہے مگر کہنے کی بات اور ہے کرنے کی بات اور یہ لوگ جو بھی کہتے ہیں لوگوں کی بات چھوڑ لوگوں کے ساتھ اور ہوں میں تیرے ساتھ اور اک دوسرے کے ساتھ بھی بنتی نہ تھی منیرؔ اور آ گئی سفر میں اچانک سے رات اور
aaeinge raah-e-'ishq mein kuchh haadsaat aur
رکھتے ہیں میرے ساتھ وہ یوں بیر دیکھیے جیسے میں ان کے واسطے ہوں غیر دیکھیے افسوس جن کے پیروں میں رکھتا ہوں اپنا دل رکھتے ہیں میرے دل پہ وہی پیر دیکھیے اس نے کہا ہے ساتھ نبھائے گا وہ مرا امید تو نہیں ہے مجھے خیر دیکھیے دیکھیں وہ شخص آ کے چلا تو نہیں گیا الٹے لگے ہوئے ہیں یہاں پیر دیکھیے وہ شخص چل پڑا ہے مرے ساتھ آخرش انجمؔ کی ساہیوال میں اب سیر دیکھیے
rakhte hain mere saath vo yuun bair dekhiye
وہ آ کے ہاتھ پہ جس وقت دل بناتی ہے مرے بدن میں حرارت سی پھیل جاتی ہے تمہارے شہر سے گزرا تو یہ کھلا مجھ پر ہوا میں عود کی خوشبو کہاں سے آتی ہے کبھی خیال میں آتی ہے جھولتی رسی کبھی تو ریل کی پٹری مجھے بلاتی ہے جو میرے لب پہ ہنسی ہے برائے دنیا ہے جو میری آنکھ میں غم ہے وہ میرا ذاتی ہے تمہارے آنے سے آیا ہے اب یقیں انجمؔ یہ زندگی بھی بڑے معجزے دکھاتی ہے
vo aa ke haath pe jis vaqt dil banaati hai
گفتگو کر کے آپ کی تکیہ مجھ سے کرتا ہے دل لگی تکیہ رات سویا تھا تیرے بازو پر آنکھ کھولی تو پھر وہی تکیہ میری دنیا فقط یہیں تک ہے چائے سگریٹ سخنوری تکیہ اے خدا تو ہی میرا سب کچھ ہے اولیں دوست آخری تکیہ جو سمجھتا نہ تھا مجھے کچھ بھی مجھ پہ کرنے لگا وہی تکیہ ایک تکیہ خرید لے انجمؔ گود اس کی ہے عارضی تکیہ
guftugu kar ke aap ki takiya
آج بھی اس نے سر بزم سنی بات نہیں اور یہ بات مرے دوست نئی بات نہیں غیر کا ذکر کیا اور کہا یہ ہنس کر آپ جو سوچتے ہیں ایسی کوئی بات نہیں آپ کے واسطے میں جان بھی دے سکتا ہوں آپ کے واسطے لیکن یہ بڑی بات نہیں ہم گئے وقت میں یوسف بھی کہے جاتے رہے یہ گئی بات ہے اتنی بھی گئی بات نہیں لوگ اس واسطے لڑتے ہیں مرے ساتھ منیرؔ میں جو ہر بات پہ کہتا ہوں کوئی بات نہیں
aaj bhi us ne sar-e-bazm suni baat nahin





