SHAWORDS
M

Muneer Bhopali

Muneer Bhopali

Muneer Bhopali

poet
42Ghazal

Ghazalغزل

See all 42
غزل · Ghazal

har musibat bhi shaadmaani thi

ہر مصیبت بھی شادمانی تھی اک بلا تھی کہ نوجوانی تھی الفت اک کاوش نہانی تھی کسی صورت سے موت آنی تھی جستجو نے ملا دیا تجھ سے راز جوئی بھی راز دانی تھی وہ تھے اور خواب عیش کی لذت ہم تھے اور درد کی کہانی تھی جس سے تسکین ہو گئی دل کی نامہ بر کی غلط بیانی تھی روح پرور تھا درد دل اپنا میہمانی بھی میزبانی تھی ہم بھی رہتے تھے ان کی نظروں میں کبھی ہم پر بھی مہربانی تھی کس نے کھویا ہمیں زمانہ سے کیا کہیں کس کی مہربانی تھی اس کے ہاتھوں منیرؔ مرنا تھا پھر تو یہ موت زندگانی تھی

غزل · Ghazal

khataa betaabiyon ki qalb par bedaad karte hain

خطا بیتابیوں کی قلب پر بیداد کرتے ہیں کسے برباد کرنا تھا کسے برباد کرتے ہیں یہاں دن رات جن کی یاد میں فریاد کرتے ہیں چمن والے بھی اے صیاد ہم کو یاد کرتے ہیں الاہا شان خودداری یہ استغنائیاں کب تک ترے بندے بتوں کے سامنے فریاد کرتے ہیں تجھے دل مفت دیتے ہیں ہمارا یہ کلیجہ ہے کہ اپنا گھر لٹا کر تیرا گھر آباد کرتے ہیں ادائے بے نیازی چھا رہی ہے سارے عالم پر حرم کے رہنے والے بت کدے آباد کرتے ہیں سراپا پیکر مستی مجسم شان رعنائی کسی کو دیکھتے ہیں اور خدا کو یاد کرتے ہیں چمن بھی آئے لینے کو قفس سے ہم نہ جائیں گے رہا یہ کون ہوتا ہے کسے آزاد کرتے ہیں محبت ہے انہیں اجزائے مجبوری کا مجموعہ بھلاتے ہیں جنہیں دل سے انہیں کو یاد کرتے ہیں نہ وہ بوئے وفا گل میں نہ وہ نظریں ہیں غنچوں کی چمن کو چھوڑ کر اب بیعت صیاد کرتے ہیں انہیں ذرات بیتابی سے دل کی زندگانی ہے یہی ذرات بیتابی ہمیں برباد کرتے ہیں فریب آرزو کا نام وصل یار رکھا ہے وفور غم میں دھوکے دے کے دل کو شاد کرتے ہیں وہی بازو وہی طاقت وہی پرواز ہے اب بھی قفس کی تیلیاں کیا خاطر صیاد کرتے ہیں سکوت دل نہیں خاموشیٔ لب اے منیرؔ اک دن دکھا دیں گے یہ اہل ضبط یوں فریاد کرتے ہیں

غزل · Ghazal

mohabbat hai to phir andaaza-e-shauq-e-vafaa kyon ho

محبت ہے تو پھر اندازۂ شوق وفا کیوں ہو شکایت درد کی کیوں ہو جفاؤں کا گلہ کیوں ہو کسی کے کان تک پہنچے وہ میری التجا کیوں ہو بر آنا جس کا ممکن ہو وہ میرا مدعا کیوں ہو یہ راہ عشق ہے اے دل مآل اندیشیاں کیسی جنوں ہے دستگیر اپنا کوئی زنجیر پا کیوں ہو حیات آرزو پروردۂ آغوش طوفاں ہے جسے ہو فکر ساحل کی وہ میرا ناخدا کیوں ہو نہ یہ فریاد ہوگی پھر نہ یہ آہیں نہ یہ نالے دل ناداں محبت میں حقیقت آشنا کیوں ہو وہ نظریں خاک میں جن کو ملانا بھی نہیں آتا انہیں نظروں سے وابستہ ہمارا مدعا کیوں ہو حدود شش جہت سے ماورا جب اس کے جلوے ہیں تو پرواز محبت تا بہ حد دو سرا کیوں ہو خدا کے یاد آنے کا بڑا اچھا ذریعہ ہے شناسائے کرم وہ بانی جور و جفا کیوں ہو محیط عرش و کرسی جب خدا کا ظل رحمت ہے منیرؔ اپنی خطا کوشی کی کوئی انتہا کیوں ہو

غزل · Ghazal

dil mein hujum-e-shauq-o-tamannaa liye hue

دل میں ہجوم شوق و تمنا لیے ہوئے جاتا ہوں تیری بزم سے کیا کیا لیے ہوئے نیرنگیٔ جمال ہے جلوہ گہہ خیال اس دل میں ہوں میں حسن کی دنیا لیے ہوئے امید زیست اس کو ہو کیا جس کے واسطے آئے پیام موت مسیحا لیے ہوئے وہ جلوہ گاہ ناز ہو اور چشم شوق میں ہوں کس قدر میں دل میں تمنا لیے ہوئے یہ مسکرا کے کس نے نظر دل پہ ڈال دی ہر ہر تڑپ ہے شان تمنا لیے ہوئے ارماں کی فکر کس کو تمنا کا ذکر کیا دل خود ہے اک نظر کا سہارا لیے ہوئے ڈرنے لگے ہیں اب وہ نظر سے مری منیرؔ گویا سکوت بھی ہے تقاضا لیے ہوئے

غزل · Ghazal

bakht ko royaa kiye aur aashiyaan dekhaa kiye

بخت کو رویا کئے اور آشیاں دیکھا کئے بجلیاں گرتی رہیں ہم بے زباں دیکھا کئے التفات یار شکل دشمناں دیکھا کئے رات بھر محفل میں سوئے آسماں دیکھا کئے کر دیا صیاد نے قید قفس تو کیا ہوا ہم اسیری میں بھی خواب گلستاں دیکھا کئے پتے پتے سے خزاں نے کھینچ لی جان بہار گلستاں لٹتا رہا اور باغباں دیکھا کئے غیر اس کی بزم میں آتے رہے جاتے رہے ہم بڑی حسرت سے روئے پاسباں دیکھا کئے رفتہ رفتہ جان بھی نذر الم کرنی پڑی ہر مسرت جب نصیب دشمناں دیکھا کئے مٹنے والوں کے لئے اسباب کی حاجت نہیں کیا کہیں ہم کیوں کسی کا آستاں دیکھا کئے بخت نے کب ایک حالت پر ہمیں رہنے دیا عمر بھر ہم انقلابات جہاں دیکھا کئے ان کی آنکھوں ان کے دل کو آفریں صد آفریں دوست بن کر جو مری بربادیاں دیکھا کئے وجہ کچھ ہو ہم نے جب سے آنکھ کھولی ہے منیرؔ روز و شب بربادیٔ ہندوستاں دیکھا کئے

غزل · Ghazal

allaah re ye garmi-e-baazaar-e-mohabbat

اللہ رے یہ گرمیٔ بازار محبت خود حسن ازل بھی ہے خریدار محبت یہ قلب کہاں اور کہاں بار محبت کیا اور نہ تھا کوئی سزاوار محبت دل یوں ہی رہے گا جو ضیا بار محبت چھا جائیں گے کونین پہ انوار محبت دنیا سے غرض اس کو نہ کچھ دین سے مطلب آزاد دو عالم ہے گرفتار محبت ساقی تری ان مست نگاہوں کی قسم اب اپنے سے بھی بیگانہ ہے سرشار محبت جنت بھی پریشاں ہے جہنم بھی ہے لرزاں وہ برق ہے یہ آہ شرر بار محبت کچھ اشک کے قطرے ہیں کچھ الجھی ہوئی سانسیں محتاج کرم اب نہیں بیمار محبت اک آتش خاموش ہے کلیوں کا تبسم صد نار بہ آغوش ہے گلزار محبت وہ وقت بھی آئے گا کبھی دور زمانہ خود آرزو ہو جائے گی جب بار محبت اک شعلۂ بیتاب ہے ہر برق تجلی کیا حسن کے پردہ میں ہیں انوار محبت یہ گردش دوراں ہے نگاہوں کے اشارے وابستۂ قسمت نہیں سرکار محبت بیتاب ہوئی جاتی ہیں خود حسن کی نظریں کیا سحر ہے یہ چشم نگوں سار محبت اس چشم پشیماں کی ہیں دامن پہ نگاہیں بس بس ارے او دیدۂ خوں بار محبت یہ زردی رخ دیدۂ تر نالۂ پیہم کس منہ سے کرے اب کوئی انکار محبت اک آرزو کیا خاک میں دنیا کو ملا دیں دیکھے ہیں کہاں آپ نے خوددار محبت ہر آنکھ منیرؔ اس کو جگہ دیتی ہے دل میں خود حسن کی نظریں ہیں پرستار محبت

Similar Poets