SHAWORDS
Munib Muzaffarpuri

Munib Muzaffarpuri

Munib Muzaffarpuri

Munib Muzaffarpuri

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

کیسے ہوگا اثر دواؤں کا میں تو محتاج ہوں دعاؤں کا نام شامل ہے بے وفاؤں میں یہ صلہ ہے میری وفاؤں کا دل پہ آ کر کے تو نے دی دستک نقش ابھرا ہے تیرے پاؤں کا آگ لگ جائے گی گلستاں میں تذکرہ چھڑ گیا اداؤں کا ہو چکا وقت اے شام کیا کہنا زندگی کھیل دھوپ چھاؤں کا

kaise hogaa asar davaaon kaa

غزل · Ghazal

درد سے کس طرح نباہ کروں کیوں نہ اب دل کو وقف آہ کروں اے غزل تجھ کو گنگناؤں میں اور خود کو یوں ہی تباہ کروں کتنی دشواریوں سے گزرا ہوں ضبط کب تک میں اپنی آہ کروں جوڑ کے دل کا سلسلہ دل سے دل میں ان کے میں اپنی راہ کروں جب بھی ہو ان سے سامنا میرا کس لیے روؤں کیوں میں آہ کروں

dard se kis tarah nibaah karun

غزل · Ghazal

کیسے ہوگا اثر دواؤں کا میں تو محتاج ہوں دعاؤں کا نام شامل ہے بے وفاؤں میں یہ صلہ ہے مری وفاؤں کا دل پے آ کر کے تو نے دی دستک نقش ابھرا ہے تیرے پاؤں کا آگ لگ جائے گی گلستاں میں تذکرہ چھڑ گیا اداؤں کا ہو چکا وقت شام کیا کہنا زندگی کھیل دھوپ چھاؤں کا

kaise hogaa asar davaaon kaa

غزل · Ghazal

آرزوؤں کے شہر جلنے لگے کارواں ساتھ ساتھ چلنے لگے تیری آنکھوں سے مے چھلکنے لگی اور گر گر کے ہم سنبھلنے لگے اک محبت تھی اور کچھ بھی نہیں ہم ترا نام لے کے چلنے لگے تھا اندھیرا سمندروں میں مگر ساحلوں پر چراغ جلنے لگے موسم گل ہے اور تیرا خیال اور ہم ساتھ ساتھ چلنے لگے

aarzuon ke shahr jalne lage

غزل · Ghazal

جس کو پڑھ کر کے علم نافع ہو گھر میں ایسی کتاب رکھتے ہیں واسطہ صوفیت سے ہے ہم کو کچھ تو پا بہ رکاب رکھتے ہیں چاند آ جائے میری مٹھی میں اب بھی بچپن کا خواب رکھتے ہیں کتنا کھویا ہے کتنا پایا ہے زندگی کی کتاب رکھتے ہیں

jis ko paDh kar ke ilm-e-naafe ho

غزل · Ghazal

ہے کٹھن راہ تو گر گر کے سنبھالنا ہوگا اپنی منزل کی طرف دوڑ کے چلنا ہوگا اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے خواب غفلت سے کسی طور نکلنا ہوگا تیز آندھی میں جلانا ہے اگر اپنا چراغ رخ ہواؤں کا بہ ہر حال بدلنا ہوگا بن کے الفت کی گھٹا تم یہاں برسو ورنہ آگ نفرت کی جو بھڑکے گی تو جلنا ہوگا چپ رہو گے تو نہ مل پائے گا انصاف کبھی اس کو پانے کے لیے تم کو مچلنا ہوگا زندگی مانگ رہی ہے جو امنگوں کی دلیل تم کو دریا کی طرح پھر سے ابلنا ہوگا تم جو چاہو کہ اجالا ہو ترے دم سے منیبؔ بن کے ایک شمع یہاں تجھ کو پگھلنا ہوگا

hai kaThin raah to gir gir ke sambhaalnaa hogaa

Similar Poets