SHAWORDS
M

Muqaddas Malik

Muqaddas Malik

Muqaddas Malik

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

خون سے گوندھا مٹی کو اور آدم کو تعمیر کیا اوپر والے نے بھی اپنے خوابوں کو تعبیر کیا تنہائی کے ساز پہ چھیڑے سارے درد صداؤں کے وحشت کے آنچل سے لپٹے اور اسے زنجیر کیا جس لہجے کو بھی جھٹلایا ہاتھ میں اس کے خاک لگی جس ابرو تک ہاتھ بڑھایا ہم نے اس کو تیر کیا اوپر جانے والے رستے پستی کے محتاج کئے ہم جس کے قدموں میں بیٹھے اس کو ہی جاگیر کیا میرا چہرہ دیکھنے والو پڑھنا بھی تو سیکھو نا کتنے مشکل موسم کاٹے اور ان کو تفسیر کیا اپنا رونا رونے والے تو کس کھیت کی مولی ہے عشق نے تجھ سے پہلے جانے کتنوں کو راہگیر کیا

khuun se gundhaa miTTi ko aur aadam ko taamir kiyaa

غزل · Ghazal

ربط عرش بریں سے نکلے گا میرا شجرہ وہیں سے نکلے گا گھر تو دہشت سے کانپ جائیں گے زلزلہ جب مکیں سے نکلے گا حرف آئے گا پھر نقابوں پر آئینہ جب کہیں سے نکلے گا یار یاروں کی بات مت چھیڑو قافلہ آستیں سے نکلے گا مر بھی جاؤں تو میری مٹی کا ہر تعلق زمیں سے نکلے گا

rabt arsh-e-barin se niklegaa

غزل · Ghazal

غم کمائی سے چل رہا ہے دل کس ڈھٹائی سے چل رہا ہے دل آپ آئے تو مجھ کو ایسا لگا خوش نمائی سے چل رہا ہے دل ورنہ اندر سے کچھ نہیں باقی خود نمائی سے چل رہا ہے دل تیرا ملنا شفا کا باعث ہے اس دوائی سے چل رہا ہے دل عشق میں ہجر کا سہارا ہے پیر بھائی سے چل رہا ہے دل ہجر نے داغ دھوئے آنکھوں کے اس صفائی سے چل رہا ہے دل غم نے کھولے قفس کہ در مجھ پہ اس رہائی سے چل رہا ہے دل

gham kamaai se chal rahaa hai dil

غزل · Ghazal

عمر گزری ہے تو پھر ہوش کو رب یاد آیا مر گیا شوق تو پھر اس کا سبب یاد آیا دن کا آغاز ہوا آنکھ میں آنسو آئے اول شب کا زیاں آخر شب یاد آیا مجھ کو تو یاد نا تھا اس سے جدا ہو جانا وہ تو بتلایا مجھے اس نے تو تب یاد آیا اب کے شہروں میں بھی جنگل کی ہوا ایسی چلی مائیں بستر میں چھپیں بھیڑیا جب یاد آیا میری طرح سے وہ یک رنگی سے تنگ آیا تو دن کو پھر رات میں ڈھل جانے کا ڈھب یاد آیا

umr guzri hai to phir hosh ko rab yaad aayaa

غزل · Ghazal

زخم کی فصل اب ہری سمجھو یہ ملاقات آخری سمجھو نیتوں کے ثمر سے ملتا ہے اس دوائی کو دائمی سمجھو اب یہ دیوار گرنے والی ہے اپنی تصویر عارضی سمجھو میں تجھے تجھ سے چھین سکتی ہوں اپنی حالت کو بے بسی سمجھو اب یہ پردے کا ڈھونگ اضافی ہے میں سمجھتی ہوں آپ بھی سمجھو

zakhm ki fasl ab hari samjho

غزل · Ghazal

مرے کاندھوں کے بالکل درمیاں رکھا گیا ہے مرا چہرا مرا جھوٹا نشاں رکھا گیا ہے میں اب آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کرتی ہوں باتیں مجھے صدیوں سے اتنا بے زباں رکھا گیا ہے بنا کر ایک پیشانی پھر اس نے حد بنائی پھر اس کا نام اس سے کہکشاں رکھا گیا ہے میں یوں ہی تو نہیں خود سے ہی باہر آ گئی ہوں مرے سر پر کوئی تو آسماں رکھا گیا ہے میں کیوں جذبات سے عاری کسی شے کو کہوں دل مرے پہلوں میں کوئی بے اماں رکھا گیا

mire kaandhon ke bilkul darmiyaan rakkhaa gayaa hai

Similar Poets