
Murtaza Bismil
Murtaza Bismil
Murtaza Bismil
Ghazalغزل
میں دوانہ ہوں وہ بھی دوانی ہے عشق کی ہم کو چوٹ کھانی ہے عمر رفتہ کو دیکھنے کے لیے مجھ کو عمر رواں بڑھانی ہے ذمہ داری کا بوجھ اٹھ نہ سکا ناتوانی ہی ناتوانی ہے سنسنی ہجر کی یوں پھیلی ہے لگ رہا ہے کہ نوحہ خوانی ہے کھول دو قفل زنگ آلودہ تشنگی برسوں کی بجھانی ہے لاکھ مشکل سہی مگر پھر بھی زندگانی تو زندگانی ہے ہجر کی راتوں کا شہنشہ ہوں تیرگی میری نوکرانی ہے رنج کا راگ کس نے چھیڑا ہے آج تو میری عقد خوانی ہے دوست حق پر جو مر گیا اس کی تا قیامت امر کہانی ہے تیر مژگاں کے لگ گئے دل پر اس لیے جسم ارغوانی ہے سر گرانی سے خوب لگتا ہے کہ محبت ضرر فشانی ہے تیرا کردار مرتضیٰ بسملؔ تیرا کردار جاودانی ہے
main divaana huun vo bhi divaani hai
تم سے قد میں بہت ہی چھوٹا ہوں اس لیے چار زانو بیٹھا ہوں شہر کا شہر جل گیا ہائے مر گئے سب فقط میں زندہ ہوں ہاتھ میں تیرے ہاتھ میرا ہے میں ترے ساتھ کتنا جچتا ہوں تم رباعی کا آخری مصرع نظم کا میں اضافی ٹکڑا ہوں اس پہ جمہور کا ہوا اجماع تو سمندر ہے اور میں دریا ہوں ہے ترے واسطے یہ خوش خبری میں تجھے اپنا دل دے بیٹھا ہوں میں ہی ہوں اپنے آپ کا باغی میں مبارک گھڑی میں سوتا ہوں پا لیا وصل میں بھی خوب مزا ہجر کا پھر بھی دل سے شیدا ہوں تو اگر کہتا ہے بعید ہے تو پھر میں کس کے قریب ہوتا ہوں مجھ کو بے حد سکون ملتا ہے جب بھی میں تیرے غم میں روتا ہوں مجھ کو کہتے ہیں مرتضیٰ بسملؔ وادیٔ کاشمر میں رہتا ہوں
tum se qad mein bahut hi chhoTaa huun
روز و شب ہم نے اشک باری کی انتہا ہے یہ بے قراری کی میرا دامن سیاہ تھا پھر بھی اے خدا تو نے پاسداری کی جانے کب کا میں مر گیا ہوتا ان کی یادوں نے آبیاری کی کوستا ہی رہا مجھے ہر دم قدر کیا جانے وہ بھکاری کی خاک ہوں خاک میں ہی ملنا ہے بو بھی آتی ہے خاکساری کی کام میں نے کیا مصور کا میں نے شعروں میں دست کاری کی میں تو مجنون بن گیا بسملؔ مجھ پہ لوگوں نے سنگ باری کی
roz-o-shab ham ne ashk-baari ki
مار دو مجھ کو بے حیا ہوں میں تیرے سینے کو تاکتا ہوں میں اب تو کچھ یاد ہی نہیں خود سے آخری بار کب ملا ہوں میں آپ کی شادمانی کی خاطر بارہا جھوٹ بولتا ہوں میں اشک جو ہجر میں بہائے تھے غم زدوں کو پلا رہا ہوں میں زندگی تو نہیں خفا مجھ سے زندگی تجھ سے تو خفا ہوں میں سرمئی آنکھوں کو ذرا کھولو غور سے دیکھ لو جدا ہوں میں داور حشر اتنا کہہ دے بس خوش رہو تیرا آسرا ہوں میں
maar do mujh ko be-hayaa huun main
زیست پہچان کھو رہی ہے تو قحط سالی میں سو رہی ہے تو ہجر کی شاخ یاد کر کر کے دشت سارا بھگو رہی ہے تو کہتے ہیں بن گئی ہے تو دھوبن کہتے ہیں کپڑے دھو رہی ہے تو چاندنی پاس آبرو رکھ اب چاندنی سب ڈبو رہی ہے تو آب و گل کی حسین آنکھ بتا بات کیا ہے جو رو رہی ہے تو اے مری سانولی جدائی سن کانٹے ہر دم چبھو رہی ہے تو ہے تذبذب کہ لاش بسملؔ پر ہنس رہی ہے کہ رو رہی ہے تو
ziist pahchaan kho rahi hai tu
سارا دن آفتاب سویا تھا یار بھی بے حجاب سویا تھا وصل کی شب بہ فضل اللہ میاں رات بھر ماہتاب سویا تھا اے ہماری کتاب زیست بتا کیوں ترا انتساب سویا تھا پیڑ کے کاندھے پر تھکا ماندہ صبح تک اک عقاب سویا تھا سر جدائی کے طاق پر رکھ کے دو دہائی سے خواب سویا تھا چاند کے دل فریب سائے تلے تر و تازہ گلاب سویا تھا ایک بیدار میں ہی تھا بس اور عالم اضطراب سویا تھا آج بسملؔ ہوا کے آنچل میں بے جھجک بے حساب سویا تھا
saaraa din aaftaab soyaa thaa





