SHAWORDS
Mushtaq Shad

Mushtaq Shad

Mushtaq Shad

Mushtaq Shad

poet
1Shayari
20Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

وہ زمانہ جو اپنے پیار کا تھا ایک دورانیہ بہار کا تھا ہم نے اپنی تلاش میں کھویا وقت جو تیرے انتظار کا تھا زندگی میں وہ پھر نہیں آیا ایک لمحہ جو اعتبار کا تھا عمر بھر دوستی کی لے نہ بنی تار ٹوٹا ہوا ستار کا تھا نفرتیں آ کھڑی ہوئی ہیں جہاں وہ دریچہ ترے ہی پیار کا تھا لوگ تو کب کے جا چکے تھے شادؔ قافلہ دور تک غبار کا تھا

vo zamaana jo apne pyaar kaa thaa

4 views

غزل · Ghazal

لہو رواں ہے تو نبضیں رکی ہوئی کیوں ہیں ہوا چلی ہے تو سانسیں گھٹی ہوئی کیوں ہیں بلندیوں پہ اگر کوئی جا نہیں سکتا تو پھر پہاڑ پہ راہیں بنی ہوئی کیوں ہیں ابھی تو پاؤں سے کانٹے نکالنے ہیں مجھے نظر کے سامنے کلیاں پڑی ہوئی کیوں ہیں وہ آئے گا تو کسی ایک راستے سے مگر ہر ایک راہ پر آنکھیں بچھی ہوئی کیوں ہیں ابھی سحر کو اجالے تلاش کرنے ہیں ابھی تو رات ہے شمعیں بجھی ہوئی کیوں ہیں اگر کسی کو نہیں دیکھنا کسی کی طرف تو سب کے چہروں پہ آنکھیں بنی ہوئی کیوں ہیں برا نہ مانے جو موسم تو پوچھ لوں اس سے ہرے درخت کی شاخیں ملی ہوئی کیوں ہیں نظر جھکا کے اگر چل رہا ہوں میں تو شادؔ تمام شہر کی نظریں اٹھی ہوئی کیوں ہیں

lahu ravaan hai to nabzein ruki hui kyuun hain

3 views

غزل · Ghazal

میں ترے پاس آ کے پیتا ہوں گل کو شبنم پلا کے پیتا ہوں داغ لگنے نہیں دیا کوئی اپنا دامن بچا کے پیتا ہوں زندگی زہر ہی سہی لیکن اس کو امرت بنا کے پیتا ہوں ظرف رکھتا ہوں میں سمندر سا جام دریا بنا کے پیتا ہوں اب بھی میری غزل کا روپ ہے وہ میں اسے گنگنا کے پیتا ہوں آنکھ تو جاگتی ہی رہتی ہے ساتھ دل بھی جگا کے جیتا ہوں زہر لگتی ہے وہ شراب مجھے جس میں پانی ملا کے پیتا ہوں جمع ہوتے ہیں کائنات کے غم روز محفل سجا کے پیتا ہوں دونوں جانب ہے ایک مے خانہ آ کے پیتا ہوں جا کے پیتا ہوں ہر نفس ہے شراب کی صورت گھونٹ جیسے ہوا کے پیتا ہوں دکھ دکھوں سے جدا نہیں کرتا غم غموں میں ملا کے پیتا ہوں شادؔ رت سے غرض نہیں مجھ کو اپنے موسم بنا کے پیتا ہوں

main tire paas aa ke piitaa huun

3 views

غزل · Ghazal

اپنے سبھی لباس پرانے لگے مجھے خود کو سنوارنے میں زمانے لگے مجھے جن میں تمہاری یاد مرے سامنے رہی وہ دن جدائیوں کے سہانے لگے مجھے میں نے جو ان سے دل کے لگانے کی بات کی شیشے کی کرچیاں وہ دکھانے لگے مجھے ان سب میں تیرنے کا ہنر میرے پاس تھا میں ڈوبنے لگا تو بچانے لگے مجھے تاریکیوں نے مجھ سے انہیں کر دیا قریب محفل میں وہ بجھا کے جلانے لگے مجھے آنکھوں سے دل کا فاصلہ کچھ بھی نہ تھا مگر اتنے سفر میں کتنے زمانے لگے مجھے جن کے لیے سیاہ شبوں میں جلا ہوں میں جب روشنی ہوئی تو بجھانے لگے مجھے لے ڈوبیں شادؔ مجھ کو مری انکساریاں سکے کی طرح لوگ چلانے لگے مجھے

apne sabhi libaas puraane lage mujhe

2 views

غزل · Ghazal

میں ایک ذرہ تھا صحرا کیا مجھے اس نے مری شکست سے پیدا کیا مجھے اس نے مرا وجود بھی ناآشنا تھا میرے لیے نمود ذات سے رسوا کیا مجھے اس نے نظر نظر کو دیا اس نے شوق بینائی نفس نفس میں سراپا کیا مجھے اس نے چلا تو عالم حیرت کے بعد کچھ بھی نہ تھا رکا تو حیرت دنیا کیا مجھے اس نے جو ابر چھائے تو اک برق میرے ہاتھ میں دی جو دھوپ اتری تو سایا کیا مجھے اس نے میں اس کے بعد کسی کا نہ ہو سکا لیکن یہ کم نہیں ہے کہ اپنا کیا مجھے اس نے اسی کا فیض ہے قطرے کو آب جو کرنا کہ تنگنائے میں دریا کیا مجھے اس نے سر نگاہ تو موجود تھا مرا پرتو پس نگاہ بھی افشا کیا مجھے اس نے جہان بھر سے میں جب آشنا ہوا اے شادؔ مرے ہی خول میں تنہا کیا مجھے اس نے

main ek zarra thaa sahraa kiyaa mujhe us ne

2 views

غزل · Ghazal

زخم تھوڑی سی خوشی دے کے چلے جاتے ہیں خشک آنکھوں کو نمی دے کے چلے جاتے ہیں روز آتے ہیں اجالے مرے اندھے گھر میں روز اک تیرہ شبی دے کے چلے جاتے ہیں ان کرائے کے گھروں سے تو میں بے گھر اچھا نت نئی در بدری دے کے چلے جاتے ہیں ذائقہ مدتوں رہتا ہے مرے ہونٹوں پر وہ ذرا سی جو ہنسی دے کے چلے جاتے ہیں شب گزاری کے لیے روشنی مانگوں جن سے وہ چراغ سحری دے کے چلے جاتے ہیں اختلافات اسی موسم گل سے ہیں جو شادؔ خار بختوں کو کلی دے کے چلے جاتے ہیں

zakhm thoDi si khushi de ke chale jaate hain

2 views

Similar Poets