
Mustafa Momin
Mustafa Momin
Mustafa Momin
Ghazalغزل
چھپا رکھی ہے کوئی شے کوئی منظر درختوں پر بلائیں ڈھونڈھتی ہیں پھر کوئی پیکر درختوں پر ہوا خاموش تھی لیکن ہر اک پتا لرزتا تھا اچانک ٹوٹ کر برسے تھے یوں پتھر درختوں پر نہ جانے کون سی وادی میں گم ہیں یہ چمن والے پرندے ڈھونڈتے ہیں پھر نئے منظر درختوں پر سحر ہونے سے پہلے بھیگ جاتی ہیں فضائیں بھی بچھا جاتا ہے شبنم کا کوئی بستر درختوں پر یہی ٹوٹے ہوئے پر آشیانے میں کوئی رکھ دے زمانہ ڈھونڈھتا ہے پھر ہمارا گھر درختوں پر
chhupaa rakhi hai koi shai koi manzar darakhton par
4 views
وہ لاکھ اپنا تھا پر اعتبار کس کا تھا کوئی یہ پوچھے ہمیں انتظار کس کا تھا بگولے اٹھتے تھے ہنستے تھے رہ گزاروں پر ہوائیں سبز تھیں ان میں غبار کس کا تھا دلوں پہ چھائی ہوئی دھند تھی صداؤں کی تباہیوں پہ مگر اختیار کس کا تھا تمام پیڑ زمیں بوس ہوئے جاتے ہیں بساط خاک پہ پھولوں کا ہار کس کا تھا
vo laakh apnaa thaa par eatibaar kis kaa thaa
4 views
یا خدا مجھ کو وہ انداز شکیبائی دے مرے چہرے کو مرے زخموں کی گہرائی دے فاش ہو جائیں مری روح پہ کونین کے راز مجھ کو وہ آنکھ دے آنکھوں کو وہ بینائی دے آپ ہی اپنے کو سنگسار کیا ہے میں نے میرے قاتل کو نہ الزام مسیحائی دے کب تلک ترسوں گا کانٹوں بھرے پیراہن کو برہنہ تن ہوں مجھے خلعت رسوائی دے مرے چہرے پہ یہ لب ہیں کہ سلگتا ہوا زخم مرے لفظوں کو زباں یا مجھے گویائی دے
yaa khudaa mujh ko vo andaaz-e-shakebaai de
3 views
لہو میں ڈوبی ہوئی پھر کوئی صدا آئی الٰہی خیر کہ مقتل سے پھر گھٹا آئی بچھڑ گئی تھی کوئی روح اپنے سائے سے کسی کو ڈھونڈنے والی کوئی صدا آئی لرز اٹھا در و دیوار کا بھی سناٹا کسی طرف سے اچانک جو یہ ہوا آئی کسی کے عکس کے سائے میں جل رہا تھا میں کہ شاخ دل سے الجھنے کو پھر صبا آئی جھلس کے سارے پرندے ہوئے ہیں خاکستر ہوا میں پنکھ پسارے ہوئے بلا آئی بکھرتے جسم کو کیسے سنبھالتا کوئی سکوت شہر میں جب زور سے ہوا آئی تھکن سے چور ہوں اپنے ہی سائے میں سو لوں جگانے مجھ کو ابھی کیوں مری قضا آئی
lahu mein Duubi hui phir koi sadaa aai
3 views
کون تھا دائرۂ شام و سحر سے باہر کیسے پہنچا وہ زمانہ کے اثر سے باہر ایک موسم تھا انوکھا سا بدن کے اندر ایک موسم تھا عجب سا مرے گھر کے باہر کیا پتہ خوف کا احساس ہے کیوں اتنا مجھے پھر کوئی نکلا ہے زندان شرر سے باہر میں ہواؤں میں کوئی گھونسلہ کس طرح بناؤں اک پرندہ ہوں میں ٹوٹے ہوئے پر کے باہر قید کر رکھا ہے مٹھی میں یہ سورج کس نے رات ہے بکھری ہوئی سی مرے گھر کے باہر
kaun thaa daaera-e-shaam-o-sahar se baahar
2 views
خالی خالی مکاں کے منظر دیکھ ہر طرف پھر وہی سمندر دیکھ توڑ کر اک پہاڑ سے رشتہ گم ہوا ہے ندی میں پتھر دیکھ رات سب کو نکھار دیتی ہے دن میں تو رنگ ماہ اختر دیکھ آنکھ میں رکھ لے روشنی پہلے پھر ذرا شام غم کا لشکر دیکھ تجھ کو منزل بھی مل ہی جائے گی پہلے رستے کا میل پتھر دیکھ گھر کے باہر بھی ایک آندھی ہے ایک طوفان میرے اندر دیکھ
khaali khaali makaan ke manzar dekh
2 views





