Muzaffar Shikoh
Muzaffar Shikoh
Muzaffar Shikoh
Ghazalغزل
ab aa bhi jaao ki phir ehtimaam-e-id karein
اب آ بھی جاؤ کہ پھر اہتمام عید کریں نشاط دید سے تشویق دل مزید کریں شکست توبہ سے واعظ کے دل کو خون کریں فروغ بادہ سے زاہد کو ناامید کریں بیا کہ قاعدۂ آسماں بدل ڈالیں بہ نقد بادہ دل و جان نو خرید کریں بنام ساقئ گلگوں لبان و سیمیں ساق وفور بادہ سے ذوق طلب شدید کریں بنائے کہنہ کے آثار منہدم کر کے جہان تازہ بدست خود آفرید کریں درون صومعہ ہر مقتدی کو جل دے کر خود اپنے پیر خرابات کا مرید کریں ہٹا کے پھر رخ زیبا سے غیریت کا حجاب ہر ایک دغدغۂ دل سقر رسید کریں جنون تشنہ لبی کو دو آتشہ کر کے عقیق لب سے مے ارغواں کشید کریں
jaan ik but pe fidaa karte ho kyaa karte ho
جان اک بت پہ فدا کرتے ہو کیا کرتے ہو پھر بھی امید وفا کرتے ہو کیا کرتے ہو ہم سے پیمان وفا کرتے ہو کیا کرتے ہو ترک دستور وفا کرتے ہو کیا کرتے ہو وعدہ کرتے ہو وفا کرتے ہو کیا کرتے ہو جرم قانون جفا کرتے ہو کیا کرتے ہو کر کے کونین کو زنجیرئ گیسوئے دراز زلف پیچاں کو دوتا کرتے ہو کیا کرتے ہو خاک میں ہم کو ملایا تو بہت خوب کیا اب پشیمان ہوا کرتے ہو کیا کرتے ہو ہم کو خود کر کے گرفتار بلا حضرت دل اب یہ کہتے ہو برا کرتے ہو کیا کرتے ہو گھر جو زنداں ہے تو ویرانہ بنا دیتا تھا در و دیوار تکا کرتے ہو کیا کرتے ہو خون دل اشکوں سے بولا یہ امنڈ کر کل رات آپ ہی آپ بہا کرتے ہو کیا کرتے ہو پیرہن جو کہ گریباں ہی رہا اور نہ جیب اس کو بیٹھے جو سیا کرتے ہو کیا کرتے ہو
iid hai aur saaqi-e-nau-khez maikhaane mein hai
عید ہے اور ساقئ نو خیز میخانے میں ہے آج پینے کا مزہ پی کر بہک جانے میں ہے کیف و مستی جو تری آنکھوں کے خم خانے میں ہے وہ تری مینا میں ہے ساقی نہ پیمانے میں ہے ہے غم دیوار اس کو اور نہ فکر پیرہن کیا فراغت تیرے دیوانے کو ویرانے میں ہے گر جلانے میں جگر کا خوں ہے لطف انتظار ہجر کی لذت بھی مر مر کے جیے جانے میں ہے اس کی نظریں بھانپ لیتی ہیں تجھے ہر رنگ میں کس بلا کی ہوشیاری تیرے دیوانے میں ہے اور الجھاتے چلے جاتے ہو میرے صبح و شام جب سے تم کو یہ شغف گیسو کے سلجھانے میں ہے اب بلا سے ہو چراغ دیر یا شمع حرم قصد جل کر خاک ہو جانے کا پروانے میں ہے
saudaa tumhaare ishq kaa jis din se sar mein hai
سودا تمہارے عشق کا جس دن سے سر میں ہے سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے مرنے کی آرزو بھی نکل جائے گی کبھی ایسا کہاں کہ بیر دعا و اثر میں ہے جوش جنوں کو کس لئے صحرا کی ہے تلاش سر پھوڑنے کا لطف تو دیوار و در میں ہے ہر حلقۂ خیال ہے تصویر روئے دوست افسون انتظار یہ کیسا نظر میں ہے اے دل طوالت شب فرقت کا کیا گلہ نادان فرق بھی کوئی شام و سحر میں ہے اس گردش مدام سے گھبرائیں کس لئے اک حلقۂ جنوں ہے جو دور قمر میں ہے سجدوں نے فرق نقش قدم بھی مٹا دیا ایسا بھی اک مقام تری رہ گزر میں ہے دل دے چکے ہیں جان بھی اب دے کے دیکھ لیں اک امتحان یہ بھی ہماری نظر میں ہے کہہ دو شمیم غنچۂ تازہ شگفتہ سے بوئے چراغ کشتہ بھی باد سحر میں ہے
gham-e-darun kaa koi tarjumaan nahin na sahi
غم دروں کا کوئی ترجماں نہیں نہ سہی جو زخم دل بھی دہان فغاں نہیں نہ سہی یہ کم نہیں ہے کہ آنکھوں میں دل اتر آیا تمہارے سامنے منہ میں زباں نہیں نہ سہی یہاں تو کوئی نہیں جس کا دل ہلا دو گے جگر میں طاقت ضبط فغاں نہیں نہ سہی تجھی سے شکوۂ درد نہاں کریں اے دل ترے سوا جو کوئی راز داں نہیں نہ سہی چمن میں آگ لگا دی جو برق سوزاں نے تو شاخ گل پہ مرا آشیاں نہیں نہ سہی ابھی کچھ اور گھروندے بناؤ یادوں کے غبار راہ تو ہے کارواں نہیں نہ سہی زمیں تو پاؤں تلے ہے یہی غنیمت ہے ہمارے زیر قدم آسماں نہیں نہ سہی
mohabbat ik gham-e-naa-ikhtitaam hoti hai
محبت اک غم نا اختتام ہوتی ہے نہ صبح ہوتی ہے اس کی نہ شام ہوتی ہے مئے شباب و غرور شباب کیا کہنا بس ایک گھونٹ میں ترکی تمام ہوتی ہے جو راہ عقل و خرد کے لئے ہے لا محدود جنون عشق میں بس ایک گام ہوتی ہے





