SHAWORDS
Muztar Majaz

Muztar Majaz

Muztar Majaz

Muztar Majaz

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

عید آئی تو اکثر ہم سے خوشیوں نے منہ پھیر لیا روشنیوں کے تہواروں میں تیرگیوں نے گھیر لیا صبح ہوئی تو پلک جھپکتے بھول گئے ہم گو شب بھر دو آنکھوں سے یک بینی کا ایک سبق تا دیر لیا قامت اپنا سچ پوچھو تو ایسا کوئی کم بھی نہ تھا لیکن چار طرف سے ہم کو دراز قدوں نے گھیر لیا دن میں بھی ہم دیکھنے والے خواب کہاں آنکھیں پھوڑیں خوابوں سے پہلے ہی ہم کو تعبیروں نے گھیر لیا توبہ توبہ یہ بھی کوئی جینا ہے مضطرؔ صاحب آنکھ کہیں پہ لڑائی نہ مے پی اور نہ لطف شعر لیا

eid aai to aksar ham se khushiyon ne munh pher liyaa

غزل · Ghazal

فن کار ہے تو اپنے ہنر کی بھی جانچ کر دو اور دو کو چھ نہیں کرتا تو پانچ کر ہیں تیرے کتنے کام کے بے کار کس قدر دریاؤں کو کھنگال ستاروں کی جانچ کر لے لے نہ سارے شہر کو اپنی لپیٹ میں سر میں سلگ رہی ہے جو ٹھنڈی وہ آنچ کر سچ بولنے کی تاب نہیں ہے تو کم سے کم اے عقل مند جھوٹ کو چمکا کے سانچ کر کب تک زمیں مکاں زن و فرزند کاروبار ہستی کا حل بھی ڈھونڈ کوئی سونچ سانچ کر مٹی بھی تیری دیکھ کے اگلے گی سیم و زر اپنے لہو سے چھوڑ اسے سینچ سانچ کر ہیرے کو کون پوچھنے والا ہے اے عزیز ہیرے کو چھیل چھال کے چمکا کے کانچ کر

fankaar hai to apne hunar ki bhi jaanch kar

غزل · Ghazal

تھے سب کے آنکھ ناک کوئی اس میں شک نہ تھا دیکھا تو اتنی بھیڑ میں اک چہرہ تک نہ تھا یوں ہے کہ میرے قتل کے درپے تمام عمر خود میں تھا اور یہ مجھے معلوم تک نہ تھا بے جا ہوا بجا ہوا جو کچھ ہوا ہوا مخلوق وہ فلک کی نہ تھی میں ملک نہ تھا صدیوں کی زندگی میں الٹ پھیر ہو گئی اور لطف یہ کہ جیب میں اک لمحہ تک نہ تھا جنگل عمارتوں کے کھڑے تھے چہار سمت ڈھونڈا تو آدمی کا نشاں دور تک نہ تھا شب تھی تو اس کو چاند کا جھومر نہ تھا نصیب سورج کا دن کے ماتھے پہ روشن تلک نہ تھا جمن میاں بھی تھے وہاں پنواڑی لال بھی مضطرؔ غزل سنانے کا ہم کو ہی حق نہ تھا

the sab ke aankh naak koi is mein shak na thaa

غزل · Ghazal

آپ جب آئے تو جینے کی ادا بھی آئی یک بہ یک دل کے دھڑکنے کی صدا بھی آئی اٹھ گئی آنکھ تو کلیوں نے بھی آنکھیں کھولیں کھل گئی زلف تو لہرا کے گھٹا بھی آئی تیری زلفوں کی مہک ہی ابھی لائی تھی صبا کہ لہک کر ترے دامن کی ہوا بھی آئی ابھی جاگا بھی نہ تھا تیرے تصور کا فسوں کہ اچانک ترے قدموں کی صدا بھی آئی ابھی بخشا بھی نہ تھا لب نے ترے آب حیات کہ قضا بن کے نگاہوں میں حیا بھی آئی عقل کہتی ہی رہی اور محبت بڑھ کر زندگانی ترے کوچے میں لٹا بھی آئی دل اسی سوچ میں گم ہے کہ کہوں یا نہ کہوں نگہ شوق وہ افسانہ سنا بھی آئی داور حشر تو اک سوچ میں بیٹھا ہی رہا تیری رفتار کئی حشر اٹھا بھی آئی

aap jab aae to jiine ki adaa bhi aai

غزل · Ghazal

انتہائے شوق میں کیا کیا سمجھ بیٹھے تھے ہم وائے نادانی کسے اپنا سمجھ بیٹھے تھے ہم یہ نہیں سمجھا کہ تیرا وہ تو لطف خاص تھا جس کو تیری رنجش بے جا سمجھ بیٹھے تھے ہم تھے نہ ملنے میں بھی تیرے کتنے عالم نو بہ نو تیرے ملنے ہی کو اک دنیا سمجھ بیٹھے تھے ہم چھوٹ کر تجھ سے بہت مشکل نہیں جینا مگر سہل بھی اتنا نہیں جتنا سمجھ بیٹھے تھے ہم

intihaa-e-shauq mein kyaa kyaa samajh baiThe the ham

غزل · Ghazal

یوں پو پھٹی کہ صبح کی توقیر گھٹ گئی سورج چڑھا تو دھوپ اندھیروں میں بٹ گئی ہر شام یوں لگا کہ قیامت کا دن ڈھلا ہر صبح یوں لگا کہ صدی ایک کٹ گئی سائے میں آیا میں تو عجب واقعہ ہوا سائے کا ساتھ چھوڑ کے دیوار ہٹ گئی میں دب گیا تو پیس کے سرمہ بنا دیا اٹھا تو اپنے خول میں دنیا سمٹ گئی شہر نوا پہ پڑ گئی افتاد کیا عجب سناٹے بولنے لگے آواز پھٹ گئی اتنا مچایا شور بتوں نے درون سنگ پتھر کی میٹھی نیند بھی آخر اچٹ گئی حالانکہ دیکھنا ہے مرا اور بات اور وہ آنکھ سب کے ساتھ مجھے بھی ڈپٹ گئی آخر کو رنگ لائیں مری خاکساریاں اس کی گلی کی گرد بھی مجھ سے لپٹ گئی گردن پہ جس کی کتنی پتنگوں کا خون تھا مدت ہوئی پتنگ ہماری وہ کٹ گئی پھرتا ہے آفتاب لئے کاسۂ گدائی تھی جتنی دھوپ چاند ستاروں میں بٹ گئی محفوظ جس میں تھی تری دزدیدہ اک نظر بازار زندگی میں وہی جیب کٹ گئی اس بھک مری میں اس کو غنیمت ہی جانئے یاروں کی جوتیوں میں اگر دال بٹ گئی تفصیل میں نہ جا کہ پیمبر تو میں نہ تھا مضطرؔ مری قمیص تھی اک روز پھٹ گئی

yuun pau phaTi ki subh ki tauqir ghaT gai

Similar Poets