SHAWORDS
N

Nabiul Hasan Shamim

Nabiul Hasan Shamim

Nabiul Hasan Shamim

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

ghair se jam na sakaa rang-e-vafaa mere baa'd

غیر سے جم نہ سکا رنگ وفا میرے بعد مٹ گیا شیوۂ تسلیم و رضا میرے بعد اس ستم گر کے اٹھے دست دعا میرے بعد بیکسی دیکھتی ہے شان خدا میرے بعد اب تو وہ گرمیٔ بازار حسیناں بھی نہیں کیسی تبدیل ہوئی آب و ہوا میرے بعد شکر ہے مر کے میں آئین وفا سے چھوٹا رہ سکے وہ بھی نہ پابند جفا میرے بعد شمع خاموش رہی روح بھی دب کر نکلی کوئی ہنگامۂ عالم نہ ہوا میرے بعد حسن اور عشق کے چرچوں میں بھی کچھ لطف نہیں مل گیا خاک میں دنیا کا مزا میرے بعد جان دیتے ہوئے اس واسطے ڈرتا ہوں شمیمؔ کھل نہ جائے کہیں انجام وفا میرے بعد

غزل · Ghazal

aarzu-e-dil-e-sad-chaak hai darmaan honaa

آرزوئے دل صد چاک ہے درماں ہونا یعنی کچھ اور تری تیغ کا احساں ہونا موت آنا ہے غم ہجر کا درماں ہونا یہ وہ مشکل ہے کہ آسان نہیں آساں ہونا مقصد زیست ہے قرباں بہ دل و جاں ہونا نام احساس فرائض کا ہے انساں ہونا بن گئے طائر تصویر قفس میں آ کر راس آیا نہ اسیروں کو خوش الحاں ہونا رہ گئی اب تو یہی ایک عبادت اپنی یاد کر کر کے گناہوں کو پشیماں ہونا باعث مرگ ہوئی جوشش شوق بسمل اس کی قسمت میں نہ تھا آپ کا احساں ہونا آئنہ دار حقیقت ہے خوشا جوش جنوں ذرہ ذرہ کا بیاباں کے بیاباں ہونا میری بالیں پہ نہ بیٹھو کہ بہت مشکل ہے جان سے دور شریک غم پنہاں ہونا مسکرا کر یہ پس قتل بھی کہتا ہے شمیمؔ وہ بھی ہو جائے جو باقی ہے مری جاں ہونا

غزل · Ghazal

hamaari tarz-e-shikaayat kisi ko kyaa maalum

ہماری طرز شکایت کسی کو کیا معلوم تمہارا رنگ طبیعت کسی کو کیا معلوم ہر ایک خون کے قطرہ میں ہے تری تصویر یہ انتہائے محبت کسی کو کیا معلوم ہمارے اشک ندامت پروئے جائیں گے بنے گا دامن رحمت کسی کو کیا معلوم جو دل بھی دیتے ہیں ہم نام تک نہیں لیتے ہماری شان مروت کسی کو کیا معلوم تجلیوں نے کیا انتخاب دل میرا مجھے ملی ہے جو دولت کسی کو کیا معلوم خدا کی یاد میں ہر وقت محو رہتا ہے دل شمیمؔ کی حالت کسی کو کیا معلوم

غزل · Ghazal

mahv kar Daalegi ik din husn ki shohrat mujhe

محو کر ڈالے گی اک دن حسن کی شہرت مجھے غیر تجھ کو دیکھتے ہیں ہوتی ہے حیرت مجھے عشق کی راہیں ہیں طے کرنی کسی صورت مجھے منزلیں دشوار ہیں اللہ دے ہمت مجھے حشر کے دن بھی گناہوں سے نہ ہوں گا شرمسار منہ چھپانے کو ملے گا دامن رحمت مجھے میں پس دیوار بیٹھا ہوں سکون قلب سے جیتے جی دنیا میں گویا مل گئی جنت مجھے کوئی رہنا چاہئے دست جنوں کا مشغلہ لے تو آئی ہے بیاباں میں مری وحشت مجھے زندگی تو کاوشوں میں ہی کٹی اپنی شمیمؔ قبر میں لے جائے گی اب خواہش راحت مجھے

غزل · Ghazal

maut hai tere marizon ko shifaa ho jaanaa

موت ہے تیرے مریضوں کو شفا ہو جانا قہر ہے قید مصائب سے رہا ہو جانا ہائے مشتاق شہادت سے خفا ہو جانا تیغ کا قسمت ارباب وفا ہو جانا اہل دنیا مری قسمت فلک ناہنجار سب تو روٹھے ہیں کہیں تم نہ خفا ہو جانا سب جفاؤں کی تلافی ہے ستم کش کے لئے تم سے وعدہ کوئی بھولے سے وفا ہو جانا اپنی حالت کی خبر کچھ نہیں اچھا ہے یہی باعث مرگ ہے احساس بقا ہو جانا بہر تسکین دل زار یہی کافی ہے شکوۂ جور پہ اقرار وفا ہو جانا آتش رشک سے یہ شوق جلاتا ہے مجھے اس ستم گار کا پابند جفا ہو جانا جاننا اپنی حقیقت کا بہت مشکل ہے سر مکتوم ہے بندہ کا خدا ہو جانا اب لب یار پہ پرشش ہے تمنا کی شمیمؔ کام آیا مرا راضی بہ رضا ہو جانا

غزل · Ghazal

paabandi-e-raahat mujhe manzur nahin hai

پابندیٔ راحت مجھے منظور نہیں ہے میں خوش ہوں کہ فطرت مری مجبور نہیں ہے بالیں پہ ضیائے‌ رخ پر نور نہیں ہے اب کوئی علاج دل رنجور نہیں ہے اب کوئی جگہ حسن سے معمور نہیں ہے اس دل کے سوا اور کوئی طور نہیں ہے کرنا جو پڑے منت اغیار عجب کیا یہ بھی مری تقدیر سے کچھ دور نہیں ہے میں نے جو کہا جیتا ہوں امید وفا پر فرمایا زمانے کا یہ دستور نہیں ہے مرنے کی تمنا ہو کہ جینے کی ہو خواہش اک بات بھی میری نہیں منظور نہیں ہے ہم دیر سے ہوتے ہوئے اے شیخ چلیں گے اس راہ سے کعبہ بھی کوئی دور نہیں ہے او بت ترا پتھر کا کلیجا بھی ہو پانی اللہ کی قدرت سے یہ کچھ دور نہیں ہے پیمانہ بھرے دیتی ہیں ساقی کی نگاہیں وہ آنکھ نہیں آج جو مخمور نہیں ہے کیا روز دکھاتا ہے نہ جانے یہ دل زار اب تک تو شمیمؔ آپ کا مشہور نہیں ہے

Similar Poets