
Nadeem Ajmal Adeem
Nadeem Ajmal Adeem
Nadeem Ajmal Adeem
Ghazalغزل
عجب سی بات نہیں کہہ گیا مداری کیا عدن سے نکلے ہوئے سانپ کو پٹاری کیا وہ اپنا کاندھا بڑھائے تو یاد آتا ہے ادھار مانگی ہوئی نیند کیا خماری کیا وہاں صدائیں مسلسل دہائی دیتی ہیں یہاں کسی کو ضرورت نہیں ہماری کیا زمانہ سنتا ہے رک کر ہماری باتوں کو ہمارے سینے میں آواز ہے تمہاری کیا مرا پڑاؤ زیادہ نہیں زمانے میں مری بلا سے یہ ہوتی ہے دنیا داری کیا سنا ہے تم بھی ستائے ہوئے ہو اپنوں کے تمہارے واسطے آئی نہیں سواری کیا تمام شہر میں چیخیں سنائی دیتی ہیں کسی کے ہاتھ یوں خنجر بنے کٹاری کیا عدیمؔ رات کی دیوار کا سہارا لیے اسی طرح سے گزارو گے عمر ساری کیا
'ajab si baat nahin kah gayaa madaari kyaa
1 views
جیسا دکھتا ہوں اگر ویسا نہیں میں بھی کوئی آدمی اچھا نہیں آگ سینے سے اٹھی تو یہ کھلا روشنی کے تن پہ بھی کرتا نہیں وقت کی گردن پہ پاؤں تھا مرا آدمی سے با خدا جھگڑا نہیں راز رکھو یار کا پانی بھرو یہ گھڑا کچا تو ہے چکنا نہیں جھیل میں بہنے لگی ہے چاندنی کون کہتا ہے یہاں چشمہ نہیں ایک حسرت سی بندھی ہے شاخ سے لہلہاتے پھول کا جوڑا نہیں چشم تر نے ایک دن مجھ سے کہا آنکھ وہ کاسہ ہے جو بھرتا نہیں ہم محبت ساتھ رکھتے ہیں عدیمؔ اور یہی سکہ یہاں چلتا نہیں
jaisaa dikhtaa huun agar vaisaa nahin
1 views
آپ نے جو گرا دئے آنسو ہم نے موتی بنا دئے آنسو ایسے رویا بہار میں کوئی شاخ پر بھی اگا دئے آنسو نام اس کا لبوں پہ آتے ہی گال پر مسکرا دئے آنسو تم بھی کیسے عجیب آدمی ہو داؤ پر پھر لگا دئے آنسو میں نے پوچھا کہ آنکھیں روتی ہیں اس نے اک دم بہا دئے آنسو خواب جتنے بھی دیکھے آنکھوں نے وقت نے وہ بنا دئے آنسو کہیں ہنس کر عدیمؔ پی آئے کہیں رو کر اڑا دئے آنسو
aap ne jo giraa diye aansu
1 views
سفر ہی کرنا ہے لازم تو مت تھکان گرا زمیں لپیٹ مرے سر پہ آسمان گرا مرے وجود کے دیوار و در ہلا اور پھر مرے خیال کی حد پر کوئی چٹان گرا میں شب گزیدہ جو کل رات گھر کو لوٹ آیا مرا دو زانو پہ سر سر پہ سائبان گرا میں با نصیب ہوں کتنا یہ جان لے تو بھی کہ پہلے دھوپ تنی مجھ پہ پھر مکان گرا میں وہ فقیر ہوں لفظوں کا جس کے ہاتھوں سے خیال چھوٹا کہیں چاک پر گمان گرا مری کہانی میں اے میرے کاتب تحریر تو میرا عجز بکھیر اور اس کا مان گرا
safar hi karnaa hai laazim to mat thakaan giraa
کھو دیا ہے ایک ایسا آدمی سب جسے کہتے تھے اچھا آدمی اپنے ہاتھوں سے گنوا کر دوستو ڈھونڈنے نکلے ہیں اپنا آدمی جھڑ گئے پتے پرندے اڑ گئے جس شجر پر میں نے لکھا آدمی ایک ہی فتنہ اٹھائے گا میاں آخری کیا اور پہلا آدمی مسکراہٹ نے تری دھوکہ دیا اور ہمارے دل سے اترا آدمی آ گیا ہے جو مری دہلیز پر لگ رہا ہے دیکھا دیکھا آدمی وہ غموں کے واسطے تریاک تھا سب جسے کہتے تھے کڑوا آدمی بین کرتی پھر رہی ہے زندگی آدمی کا ہے سہارا آدمی کیا عدیمؔ افتاد سر پر آ پڑی گھر سے خالی ہاتھ نکلا آدمی
kho diyaa hai ek aisaa aadmi
مت مری پوشاک پر دھبہ لگا رنگ بھرنا ہے تو پھر اچھا لگا تیر لے کر بے بسی کے ہاتھ سے گھاؤ اپنے ہاتھ سے گہرا لگا دوستوں کو جشن کی دے کر نوید زخم اب سیدھا نہیں ترچھا لگا سچ نظر آ جائے تو بخیہ ادھیڑ جھوٹ کو تشہیر کا ٹانکا لگا آتا جاتا آدمی الجھا رہے شہر میں تو آئنہ میلا لگا جس کے آگے ہو زمانہ سرنگوں اس کے پیچھے وہم کا چیتا لگا سر کسی کا دار پر لٹکا عدیمؔ دور سے دیکھا تو وہ جھنڈا لگا
mat miri poshaak par dhabba lagaa





