
Nadeem Najid
Nadeem Najid
Nadeem Najid
Ghazalغزل
کچھ اس طرح سے بھی خود کو اب معتبر کروں گا میں رنج اٹھاتے ہوئے چراغوں میں گھر کروں گا تمہارے بھیگے بدن کی خوشبو کا ہاتھ تھامے اے عشق زادی میں تم میں عمروں سفر کروں گا اے حسن زادی میں تجھ بدن کی پہاڑیوں سے خدا کو دیکھوں گا اور سب کو خبر کروں گا
kuchh is tarah se bhi khud ko ab mo'tabar karungaa
سلسلہ وار تعلق کو نبھاتے ہوئے ہم تجھ تلک آ ہی گئے ملتے ملاتے ہوئے ہم اپنی آنکھوں کو ترے طاق میں چھوڑ آئے ہیں اے حسیں شخص ترے خواب سے آتے ہوئے ہم عالم عشق میں خاک اور خدا ایک ہوئے رات برسات میں اک ساتھ نہاتے ہوئے ہم آخر کار ترے دل کے قریں آ ہی گئے سرخ پھولوں کی سی دیوار اٹھاتے ہوئے ہم
silsila-vaar ta'alluq ko nibhaate hue ham
زندگی گیان سے نکلتے ہیں حد امکان سے نکلتے ہیں جب بھی اظہار عشق کرتا ہوں لفظ بے جان سے نکلتے ہیں کوچۂ عشق سے نہ جانے کیوں لوگ حیران سے نکلتے ہیں اب ہمیں سوچتے رہا کرنا ہم ترے دھیان سے نکلتے ہیں آج یہ دوریاں مٹا ڈالیں آج نقصان سے نکلتے ہیں
zindagi gyaan se nikalte hain
آنے جانے کا سلسلہ کریے آپ بھی کچھ نہ کچھ کہا کریے مل بھی سکتا ہے کوئی بچھڑا ہوا دور تک بس یوںہی چلا کریے آپ بینائی کا تسلسل ہیں آپ بس آنکھ میں رہا کریے اولیں رزق ہیں دعائیں مرا میرے حق میں سبھی دعا کریے
aane jaane kaa silsila kariye
دشت میں اشک بہائیں تو سبھی سر رکھیں کیوں نہ مل کر یہاں بنیاد سمندر رکھیں ہم سبھی کام محبت سے لیا کرتے ہیں دوست شمشیر کو پردے ہی کے اندر رکھیں ہم ہیں عشاق سو مٹھی میں جہاں رکھتے ہیں اور گھنگرو کی چھنا چھن میں قلندر رکھیں یہ تو فطرت کے تقاضوں کے منافی ہے ندیمؔ دل کی جو بات ہے وہ دل ہی کے اندر رکھیں
dasht mein ashk bahaaein to sabhi sar rakkhein
ان سے یوں رابطے نزول پڑے راہ میں جابجا تھے پھول پڑے کیا کہا عشق کے سفر پہ ہو گر یہ سچ ہے تو دوست طول پڑے جس پہ تصویر زندگی نہ لگے ایسی دیوار دل پہ دھول پڑے منکر خد و خال دکھتے ہو جا تجھے آئنہ نزول پڑے اس نے جوڑے میں پھول ٹانکنا تھے اور ہم شاخ شاخ جھول پڑے پاؤں دھرنے کی دیر تھی اس کے اور پھر پانیوں پہ پھول پڑے اس نے یوںہی بس اک نظر دیکھا اور ہم تھے کہ راہ بھول پڑے
un se yuun raabte nuzul paDe





