aajizi kahne lagi gar ho bulandi ki talab
dil jhukaa daaira-e-naara-e-takbir mein aa

Nadeem Sirsivi
Nadeem Sirsivi
Nadeem Sirsivi
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
مستقل محو غم عہد گزشتہ ہونا ایسے ہونے سے تو بہتر ہے نہ دل کا ہونا میں ہوں انساں مجھے انسان ہی رہنے دیجے مت سکھائیں مجھے ہر گام فرشتہ ہونا دیکھنی پڑتی ہیں ہر موڑ پہ ادھڑی لاشیں کتنا دشوار ہے اس شہر میں بینا ہونا اے مصور ذرا تصویر میں منظر یہ اتار دو کناروں کو ہے دیکھا گیا یکجا ہونا ہیں فراہم مجھے بے راہروی کے اسباب زیب دے گا مجھے آوارۂ دنیا ہونا بستیاں شہر خموشاں کی طرح ہیں آباد زندہ لوگوں کو لبھانے لگا مردہ ہونا خود ہی گر جائے گی زندان بدن کی دیوار روح افسردہ کو بے چین بھلا کیا ہونا کھا گیا رونقیں پیوند و مراسم کی ندیمؔ جنس اخلاص کا بازار میں سستا ہونا
mustaqil mahv-e-gham-e-ahd-e-guzishta honaa
جیسے ہوں لاشیں دفن پرانے کھنڈر کی بنیاد تلے احساس دبے ہیں کتنے ہی مری نا گفتہ روداد تلے وہ ذات تو ایک ہی ذات ہے نہ ہر لمحہ جس کو ڈھونڈھتا ہے مومن نور ایمان تلے کافر سنگ الحاد تلے امروز و فردا کرتے رہے تم اور یہاں اہل حسرت کتنے ہی کچلے جاتے رہے بار یوم میعاد تلے کل تک نعرہ آزادی کا جن کے ہونٹوں کی زینت تھا وہ اطمینان سے بیٹھے ہیں اب خود دام صیاد تلے کر ظلم بپا لیکن تاریخ کا یہ سچ اپنے ذہن میں رکھ کتنے ہی ظالم دفن ہوئے مظلوموں کی فریاد تلے ہم غرب زدہ زہریلی فضا کی زد میں آ ہی سکتے نہیں ہم کرتے ہیں تعمیر تمدن تہذیب اجداد تلے وہ عقل گرا ہم عشق گرا دونوں میں تقابل کیسا ندیمؔ دونوں ہی ازل سے رہتے ہیں جب فہرست اضداد تلے
jaise hon laashein dafn puraane khanDar ki buniyaad tale
گرفت کرب سے آزاد اے دل ہو ہی جاؤں گا ابھی رستہ ہوں میں اک روز منزل ہو ہی جاؤں گا اتر جانے دے وحشت میرے سر سے حبس خلوت کی میں بالتدریج پھر مانوس محفل ہو ہی جاؤں گا گرے گر مجھ پہ برق التفات چشم تر ہر دم تو میں بالجبر تیری سمت مائل ہو ہی جاؤں گا بصد ترکیب رکھے ہیں قدم ترتیب سے میں نے اگر ترتیب یہ بگڑی میں زائل ہو ہی جاؤں گا متاع جاں تو میری ذات کا حصہ ہے اک دن میں تو مل جائے گا تو انسان کامل ہو ہی جاؤں گا مری مظلومیت کی روشنی ہر سو بکھرنے دے سر مقتل میں پیش تیغ قاتل ہو ہی جاؤں گا ذرا سا ٹھہر جائیں بے خودی کی مضطرب موجیں اے دشت غم میں اک خاموش ساحل ہو ہی جاؤں گا پیمبر درد کا بن کے تو گر دنیا میں آئے گا صحیفہ بن کے اشکوں کا میں نازل ہو ہی جاؤں گا کہا اس نے قریب آ کر ندیمؔ اشعار کی صورت رگ افکار میں تیری میں شامل ہو ہی جاؤں گا
giraft-e-karb se aazaad ai dil ho hi jaaungaa
زندہ رہنے کی طلب اس لیے پیاری نہ رہی کوئی وقعت دل قاتل میں ہماری نہ رہی مے کشی چھوڑ دی اس واسطے ہم نے ساقی پہلے جیسی تری آنکھوں میں خماری نہ رہی نیند کا زہر نگاہوں میں سمایا جب سے رتجگوں سے مری با ضابطہ یاری نہ رہی آخرش آ ہی گیا کشتۂ حسرت کو قرار عمر بھر لذت آوارگی طاری نہ رہی سیکھتا کس طرح آئین جنوں کے آداب مجھ پہ مائل بہ کرم دید تمہاری نہ رہی شدت ضبط سے پتھرا گئیں آنکھیں بھی ندیمؔ غم رہا ساتھ میں پر گریہ و زاری نہ رہی
zinda rahne ki talab is liye pyaari na rahi
اک زمیں دوز آسماں ہوں میں ہاں مری جان بے نشاں ہوں میں مجھ کو توحید ہو چکی ازبر لا مکاں کا نیا مکاں ہوں میں دست قدرت کی شاہکاری کا خود میں آباد اک جہاں ہوں میں کب سے آمادہ سجدہ ریزی پر آب و گل ہی کے درمیاں ہوں میں موت سے کہیے آئے فرصت میں ابھی مصروف امتحاں ہوں میں کس طرح سے بنے زیادہ بات ذرۂ کن ہوں کم زباں ہوں میں لو سے بہتی ہوئی ضیا ہو تم لو سے اٹھتا ہوا دھواں ہوں میں جیسے تو میرا راز پنہاں ہے ایسے ہی تیرا رازداں ہوں میں جس سے لرزاں ہے پتھروں کا وجود آئینہ زاد وہ فغاں ہوں میں موت تو کب کی مر چکی لیکن بزم امکاں میں جاوداں ہوں میں تم تسلسل نئی بہاروں کا اور اجڑی ہوئی خزاں ہوں میں تیری یادوں کا اس میں دوش نہیں بے سبب آج نیم جاں ہوں میں
ik zamin-doz aasmaan huun main
سراب دل سے مسلسل فریب کھا رہا ہوں میں ایک عمر سے اپنے خلاف جا رہا ہوں یقین و شک کی عجب کیفیت سے ہوں دو چار بچھا رہا ہوں مصلیٰ کبھی اٹھا رہا ہوں مرا غرور ہے یہ خاک زادگی میری میں پھر فرشتو تمہیں بات یہ بتا رہا ہوں طلسم لفظ و معانی کے پھیر میں پھنس کر بہ شکل نظم و غزل خون دل بہا رہا ہوں خیام اشک میں جھلسی پڑی ہے کوئی مشک میں اپنی پیاس کا قصہ اسے سنا رہا ہوں بھلا کے سارے تقاضے ردیف موت کے میں فقط حیات کا ہر قافیہ نبھا رہا ہوں
saraab-e-dil se musalsal fareb khaa rahaa huun





