SHAWORDS
Nadir Kakorvi

Nadir Kakorvi

Nadir Kakorvi

Nadir Kakorvi

poet
1Sher
1Shayari
10Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

2 total

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

aaj o naala sharar-baar ho taasir ke saath

آج او نالہ شرر بار ہو تاثیر کے ساتھ ہم نے میدان بدا ہے فلک پیر کے ساتھ دیکھنا یہ ہے کہ مے خانہ سے نکلے کیوں کر شیخ آئے تو بڑی عزت و توقیر کے ساتھ آپ نے دے کے سزا اور بڑھا دی جرأت خوف تعزیر بھی دل سے گیا تعزیر کے ساتھ دل کو اس درجہ تری زلف سے رغبت کیوں ہے کیوں نہیں اس کو مرے پاؤں کی زنجیر کے ساتھ ساتھ ہی زندہ دلی کے گیا دل بھی اپنا شمع محفل سے گئی شمع کی تنویر کے ساتھ عکس لینے میں اٹھا دیتے ہیں مجھ کو کہ نہیں میری تصویر بھی کھنچ جائے نہ تصویر کے ساتھ دشت وحشت میں بگولوں کا تماشا آہا ناچ ان کا وہ مرے نغمۂ زنجیر کے ساتھ جانے کس جال میں کم بخت رہا اس میں اسیر پڑ گئی دل میں گرہ زلف گرہ گیر کے ساتھ پیروی ہے اسی مرحوم کی نادرؔ ورنہ شاعری کہتے ہیں جس کو وہ گئی میرؔ کے ساتھ

غزل · Ghazal

ye vaza-e-qaumiyat aainda rukhsat hone vaali hai

یہ وضع قومیت آئندہ رخصت ہونے والی ہے نئی تہذیب سے تجدید ملت ہونے والی ہے شب لذت ہے آخر اور محفل اٹھتی جاتی ہے سحر کیا ہونے والی ہے قیامت ہونے والی ہے نئے سامان آرائش فراہم ہوتے جاتے ہیں فراہم کیوں نہ ہوں ان کی ضرورت ہونے والی ہے گرامو فون پر بیچارہ مطرب گت بجائے کیا وہ خود سمجھا ہوا ہے اس کی جو گت ہونے والی ہے پرانی وضع والے اپنی اپنی فکر میں ہیں سب کہ دیکھیں اس بھری محفل میں کیا گت ہونے والی ہے کمیشن کر رہا ہے غور تفریق مذاہب پر بھلی ہو یا بری ترمیم ملت ہونے والی ہے کوئی مانے نہ مانے ہم تو اس ترمیم سے خوش ہیں اگر قومی پرستش جزو ملت ہونے والی ہے پلے پڑتے ہیں ہندی اس طرح تقلید یورپ پر کہ گویا ان کی یورپ پر حکومت ہونے والی ہے ہماری سادگی روزانہ ایسی بڑھتی جاتی ہے کہ اس کی جلد تر پیچیدہ صورت ہونے والی ہے ہماری ہر غرض میں سخت قیدیں لگتی جاتی ہیں ہر آسانی ہمیں آئندہ دقت ہونے والی ہے گزشتہ عظمتیں اپنی ہمیں سب یاد ہوں لیکن اب ان سے کوئی عزت کوئی وقعت ہونے والی ہے تم آئینے میں اپنے خال و خط کا حسن مت دیکھو وہ صورت دیکھو جو آئندہ صورت ہونے والی ہے شمار اب تک تھا چوپایوں میں جس کا اس کے بازو کو پر پرواز کی قوت عنایت ہونے والی ہے بہت کچھ تم ترقی کر چکے اور کرتے جاتے ہو مگر قدرت پہ حاصل تم کو قدرت ہونے والی ہے تمہیں معراج دنیاوی تو حاصل ہو چکا آگے ترقی ہونے والی کیا ہے ذلت ہونے والی ہے غرض دنیا بدلتی جا رہی ہے ایسی تیزی سے کہ کوئی دن میں مخدوش اس کی صورت ہونے والی ہے تمہیں کیا سوچ نادرؔ تم نہ ہو گے اور نہ دیکھو گے جو کچھ اچھی بری آئندہ حالت ہونے والی ہے

غزل · Ghazal

baDhaao vaada-e-fardaa pe tum apni ibaadat bhi

بڑھاؤ وعدۂ فردا پہ تم اپنی عبادت بھی کہ فردا کیا نہ بھولوں گا میں فردائے قیامت بھی شب خلوت جب اتریں کشتیوں پر کشتیاں مے کی زمیں پر آسماں سے آ گیا دریائے رحمت بھی تسلی اس دل بیتاب کی میں آپ ہی کر لوں ہجوم یاس سے پاؤں کہیں کمبخت فرصت بھی بہم اک مختصر سے دل میں ہیں شادی و غم دونوں یہ چھوٹا سا مکاں اور اس میں دوزخ بھی ہے جنت بھی سوال بوسہ پر بولے کہ دیکھو تم نے پھر چھیڑا تمہیں کچھ ہو گئی ہے گالیاں سننے کی عادت بھی یہاں زاہد بنے ہیں اور میخانے سے کل شب کو نکالے جب گئے مے کش تو ان میں خود بدولت بھی بنے وہ مدعی میرے تو میرے دوست بول اٹھے کہ ہم حاضر ہیں دینے کو گواہی بھی شہادت بھی وہ کہتے ہیں کہ جنت بھی ہے اک کوچہ حسینوں کا بنا لینا اسی کوچے میں جا کر اپنی تربت بھی نماز پنجگانہ سے ہے بہتر کام کیا زاہد مگر نیت سے پہلے ٹھیک کر لے اپنی نیت بھی بہت اچھا رہا جو بچ گیا عشق و محبت سے محبت ہے کوئی یہ اہل دنیا کی محبت بھی سر بالین تربت سب دکھانے کے یہ آنسو ہیں دلوں میں یہ کہ ہو جائے کہیں جلدی فراغت بھی فنا جب ہو گئے بحر حوادث میں تو ہم کو کیا کنارے پر اگر کچھ ہڈیاں پہنچیں سلامت بھی شب غم نیند بھی اول تو کیوں آنے لگی مجھ کو اگر سویا تو اٹھنے کا نہیں صبح قیامت بھی تری باتیں بھی نادرؔ کتنی لچھے دار باتیں ہیں کچھ اظہار اطاعت بھی کچھ انداز متانت بھی

غزل · Ghazal

aaj ham is ko laDaa deinge tire tiir ke saath

آج ہم اس کو لڑا دیں گے ترے تیر کے ساتھ آہ بھی تیر ہے گر آہ ہو تاثیر کے ساتھ فکر عقبیٰ بھی رہے رفعت و توقیر کے ساتھ قبر تعمیر ہو ہر قصر کی تعمیر کے ساتھ اب کسی فتنۂ محشر کے بنیں گے شاگرد ہم بھی اب چال چلیں گے فلک پیر کے ساتھ دل پری خانہ بنا عکس پری پیکر سے اڑ چلا سارا مکاں ایک ہی تصویر کے ساتھ رنگ و روغن کے پس پردہ ہے سادہ کاغذ شکل پیری بھی جوانی کی ہے تصویر کے ساتھ میں خطا‌ وار ہوں اس وقت جب اے داور حشر میری نیت بھی ہو ثابت مری تقصیر کے ساتھ تم ہی ملتے نہیں لیکن خط قسمت میرا ملتا جلتا ہے تمہارے خط تقدیر کے ساتھ غیر کے دل میں نہ رہ جائے کہیں تیر اس کا اس نے جب تیر چلایا میں اڑا تیر کے ساتھ کہتے ہیں آہ تری بن گئی بجلی کیوں کر یا مرے ساتھ چلی یا مری شمشیر کے ساتھ یہ مرا نامۂ اعمال ہے اے داور حشر تو اسے دیکھ ملا کر خط تقدیر کے ساتھ

غزل · Ghazal

pher letaa hai mukaddar ho ke munh jis se kahein

پھیر لیتا ہے مکدر ہو کے منہ جس سے کہیں ہائے جو جی پر گزرتی ہے وہ ہم کس سے کہیں مانع عرض تمنا کیوں نہ ہو رشک رقیب ان سے ہم کہنے نہ پائیں ان کے مونس سے کہیں نادرؔ اس محفل میں ہیں وہ نام کے صدر انجمن آپ کو کہنا ہو جو کچھ اہل مجلس سے کہیں

غزل · Ghazal

ab na hasrat na paas hai dil mein

اب نہ حسرت نہ پاس ہے دل میں کوئی بھی اس مکان میں نہ رہا کیا شکایت جو کٹ گئے گاہک مال ہی جب دکان میں نہ رہا مر کے رہنا پڑا اب اس میں آہ جیتے جی جس مکان میں نہ رہا نادرؔ افسوس قدر دان سخن ایک ہندوستان میں نہ رہا

Similar Poets