SHAWORDS
Nafees Ghazipuri

Nafees Ghazipuri

Nafees Ghazipuri

Nafees Ghazipuri

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

ہر الجھن سے اگر نکلا نہیں وہ بچھڑ جائے نہ خود سے بھی کہیں وہ ندی اور پیاس دونوں درمیاں ہیں جہاں ہوں مدتوں سے میں وہیں وہ نشہ کیسا ہے اس کے دیکھنے میں صراحی وہ نہیں ساغر نہیں وہ اسے کیوں ناز ہے زور نمو پر میں بادل ہوں اگر بھیگی زمیں وہ میں جا سکتا ہوں اس کو چھوڑ کر بھی ابھی اس بات کو سمجھا نہیں وہ ستارو کیوں لرزتے ہو ابھی سے ابھی تو رقص کو اٹھا نہیں وہ اچانک ہی اٹھے گا کوئی طوفاں کہیں ہوں گے نفیسؔ آپ اور کہیں وہ

har uljhan se agar niklaa nahin vo

غزل · Ghazal

آنکھوں میں خواب دل میں امید سحر بھی ہے اور سامنے چراغ سر رہ گزر بھی ہے رفتار کائنات کی کچھ تیز تر بھی ہے ہو جائے حادثہ نہ کوئی اب یہ ڈر بھی ہے محور پہ اپنے گھومے ہے رقاصۂ زمیں سانسوں کے زیر و بم کا رتوں پر اثر بھی ہے آؤ پلٹ کے چلتے ہیں پھر بزم یار میں کیا جا کے چھوڑ آئے وہاں کچھ خبر بھی ہے اس فصل گل میں ٹھہرا ہے ملنا کسی سے جب در پیش ہم کو دشت جنوں کا سفر بھی ہے کیوں چھیڑئیے سرود غم زیست پھر نفیسؔ کانٹوں سے بچ کے چلئے کہ ایسی ڈگر بھی ہے

aankhon mein khvaab dil mein umid-e-sahar bhi hai

غزل · Ghazal

شام کے گیسو پھیلے ہوئے تھے مہکے مہکے سائے تھے ہم صدیوں کے جاگے ہوئے تھے خواب میں چل کر آئے تھے شام کے پچھلے زمینوں سے جب سورج اترا گھاٹی میں تنہائی کے بڑھتے سائے زہر کا پیالہ لائے تھے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیں آنکھوں میں چبھتی ہی رہیں ہاتھ ہوا کے پونچھتے یوں تو میرے آنسو آئے تھے غم کی کھیتی سوکھ رہی تھی دل کی دھرتی بنجر تھی چھاگل چھاگل آنسو لے کر تر کرنے وہ آئے تھے بیٹھے ہوئے کچھ سوچ رہے تھے گاؤں کے پیپل کے نیچے بجھتا ہوا سورج تھا ہم تھے ڈھلتی شام کے سائے تھے بارش کی اک بوند کو ترسا صحرا دل کا اب کے نفیسؔ کہنے کو تو پیار کے بادل چاروں طرف ہی چھائے تھے

shaam ke gesu phaile hue the mahke mahke saae the

غزل · Ghazal

نیند آنکھوں میں آج کم کم ہے پھر وہی رت جگوں کا موسم ہے دوستی دل دہی وفاداری ان چراغوں کی لو بھی مدھم ہے پھول مرجھا رہے ہیں عارض کے میری آنکھوں میں تھوڑی شبنم ہے کون اٹھ کر گیا ہے صحرا سے کیوں غزالوں کی آنکھ پرنم ہے زلف ہستی سنور نہ پائے گی زلف گیتی بہت ہی برہم ہے دن گزرنے تو دو کچھ اور نفیسؔ وقت سنتے ہیں خود بھی مرہم ہے

niind aankhon mein aaj kam-kam hai

غزل · Ghazal

رستہ بہت آسان لگا ہم کو وہاں تک سائے تری پلکوں کے رہے ساتھ جہاں تک کیا ہوگا اگر ٹوٹ گئی نیند ہماری ہم آ تو گئے خواب میں چل کر کے یہاں تک سمجھو تو ذرا ہوتی ہے کیا پیاس کی شدت آؤ تو ذرا ساتھ مرے جوئے رواں تک کیا سو گئے بستی کے سبھی لوگ سر شام کیوں چھت پہ کسی گھر کی نہیں آج دھواں تک اب سوچ رہا ہوں یہ انا توڑ ہی ڈالوں لڑتا رہوں پرچھائیں سے میں اپنی کہاں تک سر اپنا پٹکتی ہیں وہاں آج بھی موجیں پہنچا ہی نہیں پانی جہاں تشنہ‌ لباں تک احباب نفیسؔ آپ کو اب ڈھونڈیں بھی کیونکر صحرا میں تو کھو جاتے ہیں قدموں کے نشاں تک

rasta bahut aasaan lagaa ham ko vahaan tak

غزل · Ghazal

دور خزاں ہے موسم گل کے زوال تک قصہ ہمارے ہجر کا لکھیے وصال تک بانہوں میں بانہیں ڈالے ہوئے خواب کی طرح وہ آئے ہم کو چھوڑنے شہر خیال تک وہ شاخ گل ہے خوشبو ہے یا کوئی لہر ہے وہ کیا ہے جس کی کوئی نہیں ہے مثال تک پہچان ہی نہ پائے مجھے گھر کے لوگ بھی دھندلا دئے تھے وقت نے یوں خد و خال تک گردش میں جو زمانے کی ہم سے بچھڑ گئے ملنے کے وہ نفیسؔ نہیں ماہ و سال تک

daur-e-khizaan hai mausam-e-gul ke zavaal tak

Similar Poets