SHAWORDS
Nafis Parvez

Nafis Parvez

Nafis Parvez

Nafis Parvez

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

تیرگی ٹھہرے گی کب تک روشنی کے سامنے صبح آئے گی نئی پھر زندگی کے سامنے مختصر سی خواہشوں نے یہ کبھی سوچا نہ تھا غم بڑے ہو جائیں گے چھوٹی خوشی کے سامنے بے وفائی کو بھی نادانی سمجھنا عشق تھا دل نے ان کو چاہا ان کی ہر کمی کے سامنے مدتوں کے بعد وہ کچھ اس طرح ہم سے ملے روبرو جیسے ہو کوئی اجنبی کے سامنے بھول کر شکوے گلے مل جائیں وہ شاید گلے ہاتھ اپنے ہم بڑھا لیں بے رخی کے سامنے

tirgi Thahregi kab tak raushni ke saamne

غزل · Ghazal

کوئی تو ہے جو اندھیروں میں بھی اجالا ہے سفر حیات کا آسان کرنے والا ہے لہکتی شاخ پہ قائم ہے آشیاں میرا صبا نے گود میں اپنی مجھے سنبھالا ہے کیا سوال تو دل نے ہمیں یوں بہلایا ذرا سی دیر میں موسم بدلنے والا ہے کریں بھی ذکر وفا کس لیے زمانہ میں یہ مدعا ہی نہیں کیوں اسے اچھالا ہے عطا ہوئے ہیں ہمیں اشک جو زمانہ سے مرے لبوں نے تبسم میں ان کو ڈھالا ہے وہ مدتوں سے نہیں ہے مری نگاہوں میں نہ جانے دل نے اسے کیوں نہیں نکالا ہے

koi to hai jo andheron mein bhi ujaalaa hai

غزل · Ghazal

پہن رکھی ہیں تعصب کی بیڑیاں اب بھی سلگ رہیں ہیں سیاست سے بستیاں اب بھی نئی سحر کو نئی روشنی کے نام کریں کہ بند کیوں ہیں اجالوں کی کھڑکیاں اب بھی مقام اور کئی زندگی میں آنے ہیں ملیں گے سانپ کئی اور سیڑھیاں اب بھی کسی سے رابطہ میرا نہیں ہے برسوں سے نہ جانے کیوں یہ ستاتی ہیں ہچکیاں اب بھی خزاں کے روکے سے رکتی کہاں بہاریں ہیں کھلیں گے پھول تو آئیں گی تتلیاں اب بھی

pahan rakhi hain ta'assub ki beDiyaan ab bhi

غزل · Ghazal

جنوں کچھ کر گزرنے کے لیے ہے دلوں کے زخم بھرنے کے لیے ہے ترا یوں چھوڑ جانا میرے دل کی کسک بن کر اترنے کے لیے ہے زمانہ بھر کا مجھ پر ظلم ڈھانا تری امید کرنے کے لیے ہے جہاں سے کیا چھپانا یہ محبت یہ خوشبو عام کرنے کے لیے ہے تمہاری ہاں نہیں کا فیصلہ اب مرے جینے کے مرنے کے لیے ہے

junun kuchh kar guzarne ke liye hai

غزل · Ghazal

باغبانی کے اصولوں کو نہیں چھوڑا ہے رنگ و بو دیکھ کے پھولوں کو نہیں چھوڑا ہے کم سے کم چھاؤں تو ہوگی ہی درختوں کے تلے سوچ کر ہم نے ببولوں کو نہیں چھوڑا ہے آدمی آدمی کو سمجھے یہی کافی ہے ورنہ انساں نے رسولوں کو نہیں چھوڑا ہے رابطہ سب سے بنایا ہے ترے کوچہ میں بے سبب کے بھی فضولوں کو نہیں چھوڑا ہے ساتھ چلنے کا سبق یاد رکھا ہے ہم نے راہ بھٹکے ہوئے بھولوں کو نہیں چھوڑا ہے

baaghbaani ke usulon ko nahin chhoDaa hai

غزل · Ghazal

سفر ہے عمر بھر کا ساتھ میں سامان کیا کرتے جو مل جاتے ہمیں بھگوان تو انسان کیا کرتے سفر میں ٹھوکریں کھا کر ہٹائے سنگ راہوں سے اب اس سے اور بہتر راستے آسان کیا کرتے دبے ہیں جو ابھی دل میں وہی ارمان ہیں دل کے جو نکلے ہیں مرے ارمان وہ ارمان کیا کرتے ڈبونا ہی تھا گر ان کو سفینہ عشق کا میرے تو اک قطرہ ہی کافی تھا بھلا طوفان کیا کرتے ترے قدموں کی آہٹ سے تجھے ہم جان لیتے ہیں بتا اے زندگی اب اور ہم پہچان کیا کرتے

safar hai 'umr-bhar kaa saath mein saamaan kyaa karte

Similar Poets