SHAWORDS
N

Najma Tasadduq

Najma Tasadduq

Najma Tasadduq

poet
1Sher
1Shayari
5Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

2 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

larzaan main jo ruuh ke pardon mein anvaar luTaae jaati huun

لرزاں میں جو روح کے پردوں میں انوار لٹائے جاتی ہوں ہستی کے ذرے ذرے کو خورشید بنائے جاتی ہوں کچھ نکھرے نکھرے گیت ہیں جو ہونٹوں سے برستے رہتے ہیں اک میٹھی میٹھی آگ ہے جو ہر سو بھڑکائے جاتی ہوں خود اپنی لے کو سنتی ہوں خوش ہوتی ہوں سر دھنتی ہوں اشعار میں ڈھال کے اشکوں کو مستی میں گائے جاتی ہوں دل اکثر چوٹیں سہتا ہے اور چپ چپ روتا رہتا ہے گو سر تا پا غم ہوں لیکن ہنستی ہوں ہنسائے جاتی ہوں موہوم سی ایک تمنا کی خاطر یہ حوادث توبہ ہے پھولوں کی محبت میں کانٹے آنکھوں سے لگائے جاتی ہوں کیا جانے کس سے کہتی ہوں خوابوں کے سنہرے افسانے ٹھہرو کہ ابھی میں آتی ہوں ٹھہرو کہ بن آئے جاتی ہوں معلوم کبھی یہ ہوتا ہے محصور ہوں چاند ستاروں میں محسوس کبھی یہ کرتی ہوں ذروں میں سمائے جاتی ہوں نجمہؔ پھر سندر سپنوں میں بننے لگے قصر امیدوں کے پھر ریت کے گرتے ساحل پر بنیاد اٹھائے جاتی ہوں

غزل · Ghazal

jalvon ko baaryaab kiye jaa rahi huun main

جلووں کو باریاب کئے جا رہی ہوں میں قلب و نظر خراب کئے جا رہی ہوں میں بہکی ہوں میں لطیف جوانی کے کیف میں ہر چیز کو شراب کئے جا رہی ہوں میں کتنا بلند ہے مری تعمیر کا مذاق تاروں کو آفتاب کئے جا رہی ہوں میں کیوں میں گناہ عشق سے ڈرتی ہوں اس قدر ہستی کو کیوں عذاب کئے جا رہی ہوں میں نجمہؔ نگاہ شوق کو حد نگاہ تک جلووں سے فیض یاب کئے جا رہی ہوں میں

غزل · Ghazal

us nigaah-e-mast se jab vajd mein aati huun main

اس نگاہ مست سے جب وجد میں آتی ہوں میں کیف و رنگ و نور کی دنیا پہ چھا جاتی ہوں میں کیا کہوں کیا ہے محبت کا فریب خود نگر دیکھتی ہوں جس طرف خود ہی نظر آتی ہوں میں چاہتی تو ہوں کہ موجوں سے رہوں دامن کشاں کشتیٔ غم ہوں بھنور میں پھر بھی آ جاتی ہوں میں صبح تک ٹھہرا نظر آتا ہے دور آسماں جب تصور میں ترے راتوں کو کھو جاتی ہوں میں جام گر پڑتا ہے ساقی تھرتھرا جاتے ہیں ہاتھ تیری آنکھیں دیکھ کر نشے میں آ جاتی ہوں میں ان کی آنکھیں دیر تک رہتی ہیں رشک کہکشاں جب کبھی راتوں کو نجمہؔ یاد آ جاتی ہوں میں

غزل · Ghazal

khud miT gai na paa saki tere nishaan ko main

خود مٹ گئی نہ پا سکی تیرے نشاں کو میں سمجھی تھی سہل شوق کی راہ گراں کو میں یہ آرزوئے جوش تجسس کا ہے مآل بھولا ہے کارواں مجھے اور کارواں کو میں سوز جنوں کی آگ سے اک روز پھونک دوں وہم و گماں کو جذبۂ سود و زیاں کو میں تاروں کی مست چھاؤں میں اب بھی کبھی کبھی کرتی ہوں یاد بھولی ہوئی داستاں کو میں لیل و نہار میری جبیں سجدہ ریز ہے کعبہ سمجھ رہی ہوں ترے آستاں کو میں ٹھکرا کے دو جہاں کے نشیب و فراز کو جانے لگی ہوں وادیٔ جنت نشاں کو میں نجمہؔ نہ پوچھ مجھ سے مری داستان زیست المختصر کہ یاد رہوں گی جہاں کو میں

غزل · Ghazal

karam teraa ki soz-e-jaavedaani le ke aai huun

کرم تیرا کہ سوز جاودانی لے کے آئی ہوں مگر یہ کیا کہ میں اک عمر فانی لے کے آئی ہوں یہ کس کافر کی محفل ہے کہ جس میں نذر کرنے کو میں دل کی دھڑکنیں آنکھوں کا پانی لے کے آئی ہوں یہ دنیا یہ خلوص و عشق کے رنگ آفریں نغمے بیاباں میں گلستاں کی کہانی لے کے آئی ہوں بھڑک کر شعلہ بن جائے کہ بجھ کر راکھ ہو جائے ہوا کی زد پہ شمع زندگانی لے کے آئی ہوں اگر چاہوں یہ دنیا پھونک ڈالوں اپنے نغموں سے کہ میں سانسوں میں شعلوں کی روانی لے کے آئی ہوں مرا دل بھی ہے محسوسات کا آتش کدہ آخر عجب کیا ہے جو ذوق شعر خوانی لے کے آئی ہوں ضیا اندوز ہوں اک آسمانی نور سے نجمہؔ زمیں پر چاند تاروں کی جوانی لے کے آئی ہوں

Similar Poets