SHAWORDS
Nami Ansari

Nami Ansari

Nami Ansari

Nami Ansari

poet
2Shayari
16Ghazal

Popular Shayari

2 total

Ghazalغزل

See all 16
غزل · Ghazal

ہر شے وہی نہیں ہے جو پرچھائیوں میں ہے اس کے سوا کچھ اور بھی گہرائیوں میں ہے آئینہ جس سے ٹوٹ کے بے آب ہو گیا وہ عکس بے نوا بھی تماشائیوں میں ہے فرصت ملے تو میں بھی کوئی مرثیہ لکھوں اک دشت کربلا مری تنہائیوں میں ہے کس شہر میں تلاش کریں رشتۂ وفا سنتے تو ہیں پرانی شناسائیوں میں ہے دریا کے زور و شور پہ باتیں ہزار ہوں پانی مگر وہی ہے جو گہرائیوں میں ہے گھل جائے شعر میں تو زمیں آسماں بنے وہ حسن لا زوال جو سچائیوں میں ہے بے کار اس کو اہل وفا میں گنا گیا نامیؔ کہاں سے آپ کے شیدائیوں میں ہے

har shai vahi nahin hai jo parchhaaiyon mein hai

1 views

غزل · Ghazal

جہاں پہ ڈوب گیا تھا کبھی ستارہ مرا اسی افق پہ جہاں تاب ہے نظارہ مرا یہی ہوا کہ پرندے فضا میں تیر گئے نہ کام آئیں مری بندشیں نہ چارہ مرا ہوائے دشت بھی مجنوں صفت نہیں ہے اگر تو اس مقام پہ شاید نہ ہو گزارہ مرا ابھی تو حرف تمنا لکھا نہیں میں نے ابھی سے کیوں ورق جاں ہے پارہ پارہ مرا نہ آگ لگتی نہ تقسیم جسم و جاں ہوتی فغاں کہ شہر ستم پر نہیں اجارہ مرا وہ تیرگی ہے کہ راہ خیال بھی گم ہے نہ آسمان ہے روشن نہ استعارہ مرا نہ کوئی دشت منور ہوا نہ در نامیؔ نواح غیر میں جل بجھ گیا شرارہ مرا

jahaan pe Duub gayaa thaa kabhi sitaara miraa

غزل · Ghazal

نظر ملی تھی کسی بے خبر سے پہلے بھی صدائے تشنہ اٹھی تھی جگر سے پہلے بھی یہ سحر کم ہے کہ شاداب ہو گیا صحرا بہے تھے اشک بہت چشم تر سے پہلے بھی نیا نہیں ہے تقاضائے شیشہ و تیشہ گزر چکا ہوں میں اس درد سر سے پہلے بھی میں خاک چھاننے والا سواد صحرا کا پڑے تھے پاؤں میں چھالے سفر سے پہلے بھی حصار لفظ و بیاں میں نہ رہ سکا نامیؔ کہ آشنا تھا مقام ہنر سے پہلے بھی

nazar mili thi kisi be-khabar se pahle bhi

غزل · Ghazal

اک نگاہ دلبری میری طرف زندگی آ جائے گی میری طرف سیم و زر کا اک شجر اس کے لیے شاخ علم و آگہی میری طرف میرے اندر بھی اندھیرا ہے بہت روشنی اے روشنی میری طرف سیر گل سیر چمن سب اس کے نام شہر بھر کی ناخوشی میری طرف دست مجنوں کے ہرن کالے ہوئے برف سی گرتی ہوئی میری طرف اس کے دست ناز میں لاکھوں ہنر میرا پائے نا رسی میری طرف میں کہ نامیؔ پاسدار فکر نو جرم ہائے گفتنی میری طرف

ik nigaah-e-dilbari meri taraf

غزل · Ghazal

اے آبلہ پا اور بھی رفتار ذرا تیز اس دشت پر اسرار میں چلتی ہے ہوا تیز آثار تو کچھ ایسے خطرناک نہیں تھے کیا جانئے کس طرح یہ طوفان ہوا تیز کچھ ابر و ہوا برق و شرر سے نہیں مطلب اس دور پر آشوب میں ہر شے ہے سوا تیز کیا موج سخن کیا نفس صاعقہ پرور بس یہ ہے کہ ہو جاتی ہے آواز انا تیز اٹھتے ہیں سر راہ جہاں زرد بگولے ہوتا ہے وہیں رقص جنوں اور سوا تیز شاید کہ رگ جاں میں لہو زندہ ہے اب تک اکثر در زنداں سے ابھرتی ہے صدا تیز تقدیر محبت بھی بدل جائے گی نامیؔ ان ہاتھوں پہ ہو جائے ذرا رنگ حنا تیز

ai aabla-paa aur bhi raftaar zaraa tez

غزل · Ghazal

گھر چھوڑا بے سمت ہوئے حیرانی میں کیسے کیسے دکھ جھیلے نادانی میں تازہ ہوا میں اس کے نفس کی خوشبو تھی قطرہ قطرہ ڈوب گیا میں پانی میں کس نے جوڑا کیوں جوڑا مذکور نہیں اس کا قصہ میری رام کہانی میں چاند کو آگے بڑھنا اوج پہ جانا تھا تارے ٹوٹے پل پل عین جوانی میں کیسا تھا وہ پیکر خوبی کیا کہئے آئینہ دو لخت ہوا حیرانی میں دل پہ اچانک ثبت ہوا تا عمر رہا ایسا بھی اک عکس ملا تھا پانی میں ساری غزلیں اک جیسی ہی لگتی ہیں کیا رکھا ہے نامیؔ جشن معانی میں

ghar chhoDaa be-samt hue hairaani mein

Similar Poets