
Naqqash Kazmi
Naqqash Kazmi
Naqqash Kazmi
Ghazalغزل
har nai shaam ye ehsaas huaa ho goyaa
ہر نئی شام یہ احساس ہوا ہو گویا میرا سایہ مرے پیکر سے بڑا ہو گویا تیرے لہجے میں تو تھی ہی تری تلوار کی کاٹ تیری یادوں میں بھی اب زہر ملا ہو گویا پچھلے موسم میں سبھی گریہ کناں تھے مگر اب چشم خوں رنگ میں سیلاب رکا ہو گویا چاند نکلا تو مری ذات کو اندازہ ہوا اس نے چپکے سے مرا نام لیا ہو گویا چن لیا میں نے تو پھر اپنی محبت کا خدا اس کو اب بھی ہے گماں میرا خدا ہو گویا ایک مدت سے خلاؤں میں تھیں آنکھیں روشن اب یہ عالم ہے کہ آنکھوں میں خلا ہو گویا پھول کھلنے کو تو نقاش کھلے خواب مگر میرے زخموں کے چٹخنے کی صدا ہو گویا
lamha lamha biit chukaa hai ab jo tum pachhtaao to kyaa
لمحہ لمحہ بیت چکا ہے اب جو تم پچھتاؤ تو کیا بھولی بسری یادیں سب کے آگے بھی دہراؤ تو کیا کون پرایا درد سمیٹے کون کسی کا یار بنے اپنا زخم ہے اپنا پیارے لوگوں کو دکھلاؤ تو کیا پہلے تو تم آگ لگا کر سب کچھ جلتا چھوڑ گئے دیواریں تاریک ہوئی ہیں اب اس گھر میں آؤ تو کیا اس کا چہرہ اس کی آنکھیں اس کے لب وہ بات کہاں رنگ برنگی اخباروں کی تصویریں دکھلاؤ تو کیا میں اک ایسا پیڑ ہوں جس پر بیٹھ کے سب اڑ جاتے ہیں تم بھی میری شاخ پہ آ کر بیٹھو اور اڑ جاؤ تو کیا سوچ کی دھوپ تو کیا کم ہوگی سوچ کی کرنیں عام ہوئیں رات کے سائے میرے سر کے سورج پر پھیلاؤ تو کیا توڑ کے پیروں کی زنجیریں میدانوں کا عزم کرو اپنے گریبانوں کے پرچم کمروں میں لہراؤ تو کیا اپنے بدن کو صورت ایسی نذر صلیب ظلم کرو سونے کی معصوم صلیبیں سینوں پر لٹکاؤ تو کیا کیا کیا شعر کئے ہیں تم نے نقش غزل کی صورت میں ہم تم کو نقاشؔ کہیں گے تم شاعر کہلاؤ تو کیا
zakhm apnaa saa kaam kar na jaae
زخم اپنا سا کام کر نہ جائے پھر درد کی لے بکھر نہ جائے جب اس کی نگاہ اس طرف ہے کیوں میری نظر ادھر نہ جائے ہے فصل جنوں کی آمد آمد پیڑوں کا لباس اتر نہ جائے اب مجھ سے نہ مل کہ زہر میرا نس نس میں ترے اتر نہ جائے مدت سے ملا نہیں ہوں اس سے وہ میرے بغیر مر نہ جائے ایسا تو نہیں کہ لوٹ جاؤں اب آگے جو ہم سفر نہ جائے
dil ye kahtaa hai ki royaa jaae
دل یہ کہتا ہے کہ رویا جائے آنکھ کے پیالوں کو دھویا جائے لے اڑا خواب تو آنکھوں سے کوئی اب نہ آرام سے سویا جائے ہار جب ٹوٹ کے بکھرے ہر سو آنسوؤں کو ہی پرویا جائے دھیان کا شہر تو کھونے کا نہیں آؤ اس شہر میں کھویا جائے رات ہنستی ہے تو شبنم بن کر دامن دل کو بھگویا جائے ہے یہ نقاشؔ نمائش کیسی دل تو ہر گام پہ کھویا جائے
TuuTaa hai aaj abr jo is aan-baan se
ٹوٹا ہے آج ابر جو اس آن بان سے برسے گا کل لہو بھی ترے آسمان سے یہ کس کے دل کی آگ سے جلتے ہیں بام و در شعلے سے اٹھ رہے ہیں بدن کے مکان سے سورج کی تیز دھوپ سے شاید اماں ملے رکتی ہے غم کی دھوپ کہیں سائبان سے چہروں پہ گرد آنکھوں میں نیندیں فضا خموش سستا رہے ہیں لوگ سفر کی تکان سے ہے اپنی اپنی طاقت پرواز کا کمال مطلب کسی کو کیا تری اونچی اڑان سے آخر چٹخ چٹخ کے بکھرنے لگا ہوں میں ٹکرا گیا تھا رات خود اپنی چٹان سے پھرتے ہیں شہر درد میں جو بے دلی کے ساتھ نقاشؔ کاظمی ہیں وہی نوجوان سے
sukut-e-shab mein andheron ko muskuraane de
سکوت شب میں اندھیروں کو مسکرانے دے بجھے چراغ تو پھر جسم و جاں جلانے دے دکھوں کے خواب نما نیم وا دریچوں میں وفور کرب سے تاروں کو جھلملانے دے جلانا چاہے اگر چاہتوں کا سورج بھی بدن کے شہر کو اس دھوپ میں جلانے دے تو اپنے سنگ نما روح کے سفینے کو غم وفا کے سمندر میں ڈوب جانے دے مرے وجود میں کانٹوں کا ایک جنگل ہے وہ اپنی ذات کے پھولوں میں کیوں سمانے دے کسے خبر ہے کہ ہم دونوں اپنے قاتل ہیں جو بے خبر ہیں انہیں چیخ کر بتانے دے ہوں منتظر کہ کوئی آج آنے والا ہے بقدر ذوق در و بام کو سجانے دے گزرتے لمحوں کے ہم راہ ٹوٹتا ہے بدن وصال یار کی لذت کا بار اٹھانے دے میں پتھروں کی طرح چپ نہیں اے تیشہ بدست وہ اور ہوگا تجھے ضرب جو لگانے دے جب اپنے پاؤں میں زنجیر پڑ گئی ہے تو پھر چلا تو جاتا نہیں گرد ہی اڑانے دے بھٹک رہا ہوں بگولوں کے رنگ میں نقاشؔ بدن تو خاک ہوا روح بھی جلانے دے





