
Naresh M. A
Naresh M. A
Naresh M. A
Ghazalغزل
موسم گل آ گیا ساغر اٹھا ساقیا اب زندگی کے گیت گا اب نہ رہ رہ کر ستم گر یاد آ یوں نہ فتنہ گر مجھے پیہم ستا اے اجل اب کیا ہے تجھ کو انتظار مجھ کو تیری جستجو ہے خوب آ دے رہے ہیں اس قدر دھوکے ندیم اٹھ گئی ہو جیسے دنیا سے وفا اتفاقاً لب پہ شکوے آ گئے یہ نہیں تھا ورنہ میرا مدعا اب ہمیں دیر و حرم سے کیا غرض عشق دل میں بس گیا ہے آپ کا مجھ پہ پھر فرمائیں گے وہ مشق ناز پھر مرا سویا مقدر جاگ اٹھا یاد میں برسوں کسی کی اے نریشؔ میں لہو شام و سحر روتا رہا
mausam-e-gul aa gayaa saaghar uThaa
بادہ و جام و پیر مے خانہ میرا دل ہے انہیں کا دیوانہ یوں مزین ہو بزم رندانہ مے ہو ساقی ہو اور پیمانہ جوش وحشت کی یہ عنایت ہے دل کو بھانے لگا ہے ویرانہ جو ہمیشہ رہا قریں دل کے آج کیوں ہو رہا ہے بیگانہ لاکھ توبہ کی مے کشی سے نریشؔ دل سے نکلی نہ یاد مے خانہ
baada-o-jaam-o-pir-e-mai-khaana
ساغر کی کہانی بھول گئے شیشے کا فسانہ بھول گئے جس وقت لڑی ساقی سے نظر ہم جام اٹھانا بھول گئے ہم محو نظارہ کیا ہوتے اے دوست بھلا اس محفل میں جس بزم میں ہوش و خرد کھو کر ہم ہوش میں آنا بھول گئے ہے دار و مدار رنج و سکوں اس دل کا ان کی مرضی پر جس وقت ذرا ہنس ہنس کے ملے ہم حال سنانا بھول گئے سوچا تھا وہ خواب میں آئیں گے جی بھر کے کروں گا شکوے گلے افسوس کہ یہ بھی ہو نہ سکا وہ خواب میں آنا بھول گئے فرقت میں نریشؔ خستہ جاں کو اس طرح جو تڑپاتے ہو دزدیدہ نگاہی سے اپنی کیا برق گرانا بھول گئے
saaghar ki kahaani bhuul gae shishe kaa fasaana bhuul gae
حسن پر جاں نثار کرتا ہوں شمع روؤں کو پیار کرتا ہوں آپ کے عشق نے جو بخشے ہیں ان غموں کا شمار کرتا ہوں آہ ایماں پرست ہو کر بھی ایک کافر سے پیار کرتا ہوں مجھ پہ وہ مشق ناز کرتے ہیں شکر پروردگار کرتا ہوں دل کو ہر دم فریب دیتا ہوں آپ کا انتظار کرتا ہوں گو ترا عہد عہد باطل ہے پھر بھی میں اعتبار کرتا ہوں گل رخوں کی ادا ادا پہ نریشؔ میں دل و جاں نثار کرتا ہوں
husn par jaan nisaar kartaa huun
یا رب حیات عشق مری بے مزا نہ ہو جیتے جی دل سے درد محبت جدا نہ ہو ہے کون سا جہاں میں وہ آداب میکشی جس سے مرا شعور غزل آشنا نہ ہو ان کے حضور یا تو دہن لا زباں رہے منہ میں زبان ہو تو کوئی مدعا نہ ہو میری تباہیوں پہ وہ نادم نہ ہوں اگر دن رات میرے حق میں خدا سے دعا نہ ہو اے چشم یار تیری عنایت کا شکریہ وہ درد دل دیا ہے کہ جس کی دوا نہ ہو
yaa-rab hayaat-e-ishq miri be-mazaa na ho
کوئی بادہ کش جسے مے کشی کا طریق خاص نہ آ سکا غم زندگی کی کشاکشوں سے کبھی نجات نہ پا سکا یہ مقدرات کے شعبدے یہ مرے نصیب یہ بے بسی کہ وہ پوچھنے بھی لگے کبھی تو میں درد دل نہ سنا سکا مری ہمسری کا خیال کیا مری ہمرہی کا سوال کیا رہ عشق کا کوئی راہ رو مری گرد کو بھی نہ پا سکا زر و سیم شہرت و مرتبہ مجھے اس جہاں میں ملا نہ کیا مگر ایک شے تھی سکون دل جو میں زندگی میں نہ پا سکا مری گفتگو میں وہ زور تھا کہ سخن شناس تھے دم بخود مگر ان کی محفل ناز میں میں زبان تک نہ ہلا سکا کبھی آندھیوں نے اڑا دیا کبھی بجلیوں نے جلا دیا کسی حال میں مرا آشیاں مجھے آہ راس نہ آ سکا کہیں دوستوں کی تسلیوں سے ہوئی ہے درد میں کچھ کمی یہ تو ایک کہنے کی بات ہے کوئی غم ہے کس کا بٹا سکا اسے اے نریشؔ میں کیا کہوں جو کہوں نہ عشق کا معجزہ کہ غم جہاں تو غم جہاں مجھے آسماں نہ مٹا سکا
koi baada-kash jise mai-kashi kaa tariq-e-khaas na aa sakaa





