Naseem Fatima Nazar Lakhnavi
Naseem Fatima Nazar lakhnavi
Naseem Fatima Nazar lakhnavi
Ghazalغزل
ساون کی بھیگی بھیگی ہر اک رات بھی گئی دل میں لگا کے آگ یہ برسات بھی گئی یہ دوریاں تو اپنا مقدر ہی تھیں مگر تھوڑی بہت جو تھی وہ ملاقات بھی گئی آنکھوں میں کتنے خواب سنجوئے تھے رات بھر ارماں کا خون کر کے حسیں رات بھی گئی ملتے بھی ہیں تو جیسے تعلق ہی کچھ نہ ہو اب تو وہ رسم پرسش حالات بھی گئی اب اے نظرؔ ہے حد نظر تک غبار راہ وہ کاروان زیست کی بارات بھی گئی
saavan ki bhigi bhigi har ik raat bhi gai
سکون دل جو میسر ہو زندگی کے لئے بہت ہے اتنا بھی جینے کو آدمی کے لئے ہے ذرے ذرے کی تنویر دعوت شعری یہ کائنات ہے گویا کہ شاعری کے لئے قصور اپنا تھا دل کی لگی سمجھ بیٹھے دل اس نے صرف لگایا تھا دل لگی کے لئے خوشی کا اوروں کی بھی ہر نفس خیال رہے جئے بھی کیا جئے گر اپنی ہی خوشی کے لئے تمام بزم اسی شمع سے منور ہے ترس رہی ہے جو خود اپنی روشنی کے لئے نظرؔ نہ ہوتی جو تکمیل عاشقی مقصود تو ہاتھ بڑھتا نہ پھر اس کی دوستی کے لئے
sukun-e-dil jo mayassar ho zindagi ke liye
صبح کو ہے اگر تو شام نہیں زندگی کا کوئی قیام نہیں جمع کرتی ہوں دولت دنیا کیا مرا یہ خیال خام نہیں اہل دنیا سے دور رہتی ہوں آرزوئے نمود و نام نہیں ہم نے ایک اک کو آزما دیکھا دوستوں میں وفا کا نام نہیں جس سے عقبیٰ میری سنور جاتی زندگی میں ہوا وہ کام نہیں جائے عبرت ہے یہ جہان نظرؔ دل لگانے کا یہ مقام نہیں
subh ko hai agar to shaam nahin
وہ جن کے پیار میں ہم خود کو ہیں بھلائے ہوئے غضب ہے دل وہی اوروں سے ہیں لگائے ہوئے کسی کا غم ہیں کلیجے سے ہم لگائے ہوئے زمانہ بیت گیا ہم کو مسکرائے ہوئے کسی کی کیسے ہو پہچان اس زمانے میں کہ اصل چہرہ تو ہے آدمی چھپائے ہوئے وہ بار غم کہ ملائک جسے اٹھا نہ سکے وہ بار غم بھی ہے ذات بشر اٹھائے ہوئے وہ ناگ جس نے کہ پیچھا کیا تھا کل میرا وہ آج پھر ہے تعاقب میں پھن اٹھائے ہوئے زبان ہی نہیں کھلتی کہ حال دل کہہ دوں نہ جانے کب سے نظرؔ بیٹھے ہیں وہ آئے ہوئے
vo jin ke pyaar mein ham khud ko hain bhulaae hue
ہم کو یاد یار میں حاصل جو تنہائی ہوئی ٹوٹ کر برسی گھٹا جو دل پہ تھی چھائی ہوئی زندگی جب سے تری میری شناسائی ہوئی تو تماشا بن گئی اور میں تماشائی ہوئی آئیں گے ساون میں ساجن لے کے آئی ہے نوید بے وجہ پھرتی نہیں پروائی بورائی ہوئی آپ اتنا تو سمجھنے کی کبھی زحمت کریں آپ کی بھی میری رسوائی سے رسوائی ہوئی جاگ اٹھے آج لو پھر عشق کے سوئے نصیب زندگی پھر آج اس بت کی تمنائی ہوئی چھپ گئے ہیں ماہ و انجم ہر طرف ہے خامشی آ بھی جا اے یاد رفتہ اب تو تنہائی ہوئی اس قدر مضبوط ہے آئین الفت کی گرفت کہہ نہیں پاتی زباں پر بات بھی آئی ہوئی رات آئے تو نہ جانے کس طرح گزرے نظرؔ ہے طبیعت شام ہی سے آج گھبرائی ہوئی
ham ko yaad-e-yaar mein haasil jo tanhaai hui
اب جو تم سے نہیں مل پائے تو مشکل ہوگی فصل گل یوں ہی گزر جائے تو مشکل ہوگی جس کو مر مر کے بھلایا تھا بڑی مشکل سے پھر کہیں یاد وہ آ جائے تو مشکل ہوگی پھر وہ پروائی چلی اے مرے دل خیر نہیں پھر کوئی چوٹ ابھر آئے تو مشکل ہوگی میں نہیں دیکھتی اس ڈر سے کسی کی جانب آنکھ سے دل میں سما جائے تو مشکل ہوگی ظلمت یاس کوئی کم نہیں اور اس پہ اگر شام کے گہرے ہوئے سائے تو مشکل ہوگی نکلے جاتے ہیں مرے دل کے سب ارمان نظرؔ گھر جو ویران یہ ہو جائے تو مشکل ہوگی
ab jo tum se nahin mil paae to mushkil hogi





